دُنیا میں کچھ خدمات ایسی ہوتی ہیں جن کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا، ماں کی بے لوث محبت، باپ کی محنت، استاد کی تربیت، بزرگوں کی دعائیں اور کسی ضرورتمند کی مدد، یہ سب وہ خزانے ہیں جن کی قدر شاید ہم اُس وقت سمجھتے ہیں جب وہ ہمارے درمیان نہیں ہوتے۔ اس لئے اُن کی زندگی میں اُن کا شکریہ ادا کریں۔
والدین خاموش چراغ ہوتے ہیں جو اپنی روشنی کے ذریعہ اولاد کی زندگی سنوارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تصویر: آئی این این
زندگی کی راہوں میں ہمیں بہت سے لوگ ملتے ہیں۔ کچھ لوگ چند لمحوں کے لئے ہمارے ساتھ چلتے ہیں تو کچھ چند برسوں تک! لیکن کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے ہماری زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں اور زندگی کے نقشے کو ہمیشہ کے لئے تبدیل کر جاتے ہیں۔ اور اپنی محبت، خلوص، قربانی اور دعاؤں سے ہماری زندگی روشن کر جاتے ہیں وہ نہ اپنی خدمات کا چرچا کرتے ہیں اور نہ ہی کسی صلے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اُن کی خاص بات یہ ہوتی ہے کہ وہ شور شرابے سے دور، تعریف کی خواہش سے بے نیاز، خاموشی کے دائرے میں رہ کر ہماری تقدیر اور شخصیت پر کئی نقوش چھوڑ جاتے ہیں بس اپنا فرض سمجھ کر ہمارے لئے آسانیاں پیدا کرتے رہتے ہیں۔ یہی لوگ دراصل وہ خاموش چراغ ہیں جو ہماری زندگی کو اپنی روشنی سے منور کرتے رہتے ہیں۔
اکثر ہم کامیابی کی منزل پر پہنچ کر اپنی محنت، قابلیت، ترقی اور اپنی کوشش کو یاد کرتے ہیں مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری کامیابی کے پیچھے کتنے خاموش ہاتھ، کتنی بے لوث دعائیں، اور کتنی قربانیاں شامل تھیں، ہماری زندگی میں کئی لوگ ایسے ہوتے ہیں جنہوں نے ہمارے راستے کے کانٹے خود چنے تاکہ ہمارے قدم زخمی نہ ہوں۔
یہ بھی پڑھئے:صحتمند زندگی کے سادہ مگر مؤثر اصول
ماں: محبت کا سب سے روشن چراغ
اِن خاموش چراغوں میں سب سے روشن چراغ ماں ہے جو اپنی اولاد کے لئے اپنی خواہشات قربان کر دیتی ہے، وہ ہماری خوشی میں خوش اور ہمارے غم میں بے چین ہوجاتی ہے۔ ہماری کامیابی کیلئے دن رات دعائیں کرتی ہے اور ہماری ناکامی میں ہمیں حوصلہ دیتی ہے۔ ماں کی محبت کا سب سے خوبصورت پہلو یہ ہے کہ وہ اپنی قربانیوں کا حساب نہیں رکھتی، وہ اپنی راتوں کی نیندیں، اپنی خواہشات اور آسائشیں اولاد کے مستقبل پر قربان کر دیتی ہے مگر زبان پر شکوہ نہیں لاتی۔ وہ پیار، وفا اور قربانی کا پیکر ہوتی ہے۔
باپ: خاموش محبّت کی تصویر
باپ بھی ایسا خاموش چراغ ہے جو اکثر خاموش رہ کر گھر کو روشنی دیتا ہے وہ اپنی اولاد کی ضروریات کو پوری کرنے کے لئے دن رات محنت کرتا ہے۔ اس کے چہرے کی تھکن کے پیچھے اولاد کے بہتر مستقبل کا خواب چھپا ہوتا ہے۔
استاد: اندھیروں میں روشنی کی طرف لے جانے والا چراغ
استاد بھی ہماری زندگی کا ایک عظیم خاموش چراغ ہے۔ وہ صرف کتابوں کا علم نہیں دیتا بلکہ زندگی کو سمجھنے کا شعور عطا کرتا ہے۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو پہچانتا ہے اور اُسے اُجاگر کرتا ہے اور اُسے حوصلہ و ہمت دیتا ہے اور آگے بڑھنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ کبھی استاد کی ایک بات پوری زندگی کیلئے رہنمائی بن جاتی ہے، اسلئے استاد کی عزت دراصل علم و شعور کی عزت ہے۔
بزرگ: دعاؤں کی چھاؤں
گھر کے بزرگ بھی ہماری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اُن کا تجربہ ہمارے لئے ایک ایسی کتاب ہے جس کے صفحات زندگی کے مشاہدات سے بھرے ہوتے ہیں۔ اُن کی دعائیں، نصیحتیں اور شفقت گھر کو سکون کا گہوارہ بنا دیتی ہے۔ افسوس کہ آج کی تیز رفتار زندگی میں ہم اپنے بزرگوں کیلئے وقت نکالنا بھولتے جا رہے ہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ جو ہاتھ کبھی ہمیں سنبھالتے تھے ایک دن انہیں بھی ہمارے پیار، وقت اور توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:جہانِ صحت: سبز الائچی پیٹ کے مسائل سے نجات دلاتی ہے
گمنام لوگ
گمنام لوگ بھی ہماری زندگی بدل دیتے ہیں۔ ہماری زندگی میں کچھ ایسے لوگ بھی آتے ہیں جن کے نام شاید ہمیں یاد نہ رہے۔ مگر ان کی ایک اچھی بات، ایک مسکراہٹ، ایک مدد، یا ایک نیک عمل ہمیشہ ہمارے دل میں زندہ رہتا ہے۔ کبھی کسی اجنبی کی حوصلہ افزائی انسان کو مایوسی سے نکال دیتی ہے۔ کبھی کسی کی چھوٹی سی مدد ایک مشکل گھڑی کو آسان بنا دیتی ہے۔ کبھی کسی کی محبت بھری بات انسان کے دل میں امید کے چراغ روشن کر دیتی ہے۔ یہی چھوٹی چھوٹی نیکیاں معاشرہ کو خوبصورت بنا دیتی ہیں۔ ہمیں اپنے اردگرد دیکھنا چاہئے کہ شاید کوئی شخص ہماری توجہ، ہماری حوصلہ افزائی یا ہماری محبت بھری یاد بات کا منتظر ہو، اگر ہم کسی کی اندھیری زندگی میں روشنی بن سکتے ہیں تو ہمیں ضرور روشنی بننا چاہئے۔
خاموش محبت کی کوئی قیمت نہیں ہوتی
دُنیا میں کچھ خدمات ایسی ہوتی ہیں جن کا کوئی معاوضہ نہیں ہوتا، ماں کی بے لوث اور لازوال خدمت، باپ کی محنت، استاد کی تربیت، بزرگوں کی دعائیں اور کسی ضرورتمند کی مدد، یہ سب وہ خزانے ہیں جن کی قدر شاید ہم اُس وقت سمجھتے ہیں جب وہ ہمارے درمیان نہیں ہوتے۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ اپنے اردگرد موجود اُن خاموش چراغوں کو اُن کی زندگی میں ہی پہچانیں، اُن کا شکریہ ادا کریں اور اُن کی دل سے قدر کریں۔ ہمیں اپنی زندگی کے اُن خاموش چراغوں کو صرف یاد نہیں کرنا چاہئے بلکہ اُن کی روشنی کو آگے بڑھانا چاہئے تاکہ ہمارے بعد بھی کسی کی راہ روشن ہوتی رہے۔