امریکی ادارے یہ جاننے کیلئے تو سروے کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی مقبولیت کتنی بڑھی اور کتنی گھٹی، کس موضوع پر اُن کی کارگزاری سے کتنے لوگ مطمئن اور کتنے غیر مطمئن ہیں مگر کوئی ادارہ یہ جاننے کیلئے سروے نہیں کرواتا کہ اُن کے بیانات اور ’’دھمکیات‘‘ کو کتنے لوگ سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
امریکی ادارے یہ جاننے کیلئے تو سروے کرتے ہیں کہ ٹرمپ کی مقبولیت کتنی بڑھی اور کتنی گھٹی، کس موضوع پر اُن کی کارگزاری سے کتنے لوگ مطمئن اور کتنے غیر مطمئن ہیں مگر کوئی ادارہ یہ جاننے کیلئے سروے نہیں کرواتا کہ اُن کے بیانات اور ’’دھمکیات‘‘ کو کتنے لوگ سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ منگل کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اُن کا خطاب ویسا ہی تھا جیسا کہ اُن کا کوئی بھی خطاب یا تقریر اور بیان ہوتا ہے۔ یہ انوکھا صدر ہے جو ایک ہی سانس میں امن کا پیغام اور جنگ کا انتباہ دیتا ہے۔ جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران اُنہوں نے ایران کی بابت کہا کہ امریکہ کے ضمنی انتخابات (مڈ ٹرم الیکشن) کے بعد اس ملک سے معاہدہ ممکن ہے مگر اُن کا دوسرا منصوبہ اُسے کچل کر رکھ دینے (Annihilate)کا ہے۔کوئی پوچھے کہ جب معاہدہ ممکن ہے تو کچل کر رکھ دینے کا کیا معنی ہے اور اگر کچل کر رکھ دینے کا ارادہ ہے تو معاہدہ پر توانائی اور وقت کیوں صرف کیا جارہا ہے۔ ایران تو آپ سے کچھ نہیں کہہ رہا ہے۔ کسی بھی چوٹی کانفرنس یا عالمی اجلاس کے سائے میں لیڈروں کی جو آپسی میٹنگیں ہوتی ہیں وہ جنرل اسمبلی کے سائے میں بھی ہوں گی۔ اس کیلئے تہران نے نہیں کہا کہ اس کے لیڈران امریکی وفد کے اراکین سے ملنا چاہیں گے۔ یہ بات امریکہ نے کہی۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو کا بیان ہے کہ ملاقات طے نہیں ہے مگر ہم ایرانی وفد سے ملنے کیلئے آمادہ ہیں۔ اس پورے معاملے میں تضاد بیانی کو سامنے رکھئے۔
یہ بھی پڑھئے:’’ایک سونی ناؤ ‘‘ کیسے اور کہاں مل گئی
ٹرمپ نے کہا معاہدہ ہوگا، پھر کہا کہ ایران کو کچل دینا چاہتے ہیں۔ مارکو نے کہا ملاقات طے نہیں ہے مگر یہ بھی کہا کہ ہم ملاقات پر آمادہ ہیں۔انگریزی میں اسے فلپ فلاپ اور اُردو میں گھڑی میں تولہ گھڑی میں ماشہ کہتے ہیں۔جب تک ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ جاری رہی، ٹرمپ کا فلپ فلاپ جاری رہا۔ اُس وقت کے بیانات کو یاد کیجئے۔ ٹرمپ روزانہ جنگ جیتتے تھے اور روزانہ گفتگو اور معاہدہ کی بات کرکے گویا خود کو تسلی دیتے تھے۔ ایران کے بیانات صاف، واضح اور دوٹوک ہوتے تھے، امریکہ کے مبہم اور گمراہ کن۔ یہ فرق دُنیا دیکھ چکی ہے۔ دُنیا یہ بھی دیکھ چکی ہے کہ ایران نے اسرائیل کی فوجی طاقت کی قلعی کھول دی اور مشرق وسطیٰ میں امریکی ٹھکانوں پر کامیاب حملے کرکے متعلقہ ملکوں کو سمجھا دیا کہ تم نے جس کو اپنی سیکوریٹی کا ٹھیکہ دیا دیکھو وہ تمہارے تحفظ میں کتنا ناکام ہے۔ یہی وجہ تھی کہ کھلی آنکھوں سے دیکھنے اور کھلے ذہن سے سوچنے والوں نے تسلیم کیا کہ جنگ ایران نے جیتی، امریکہ و اسرائیل بُری طرح ہارے۔ یہی گونج سی این این اور ایس ایس آر ایس کے سروے میں سنائی دی کہ صرف ۲۶؍ فیصد امریکی، ٹرمپ کی ایران پالیسی سے مطمئن ہیں یعنی ۷۴؍ فیصد نے سمجھ لیاکہ ایران ٹرمپ کو روزانہ چپت لگاتا رہا۔ زیر بحث خطاب میں ٹرمپ نے حسب عادت وینزویلا کے خلاف شیخی بگھاری، کیوبا اور میکسیکو کو دھمکایا اور گرین لینڈپر ’’امریکہ کے دشمنوں‘‘ کو متنبہ کیا۔ ممکن ہے اجلاس میں شریک وفود یہ سوچ سوچ کر جماہیاں لے رہے ہوں کہ شیخی بگھارنے کے عادی اس شخص کو مزید ڈھائی سال برداشت کرنا ہے!