• Thu, 24 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ میں اعلیٰ تعلیم پانا مہنگا لیکن کریئر کے مواقع بھرپور

Updated: September 24, 2026, 2:44 PM IST | Aamir Ansari | Mumbai

نیویارک یونیورسٹی سےکمپیوٹر میں ماسٹرز کرنیوالےممبئی کے خالد نظام الدین انصاری کے یہ تجربات و مشاہدا ت ایسے طلبہ کیلئے راہنما ہیں جو امریکہ اور بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

Khalid Nizamuddin Ansari. Photo: INN.
خالد نظام الدین انصاری۔ تصویر: آئی این این

آج ہم ممبئی کے نوجوان خالد نظام الدین انصاری سے آپ کا تعارف کروارہے ہیں جو اس وقت امریکہ میں ڈیٹاسائنٹسٹ کے طور پر کام کررہے ہیں۔ ایسے طلبہ جو امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے متمنی ہیں، انہیں خالدتجربات اور مشاہدات کی روشنی میں رہنمائی کریں گے۔ 

آپ نے اپنی اسکولنگ، گریجویشن اور ماسٹرز کی تعلیم کہاں سے حاصل کی ؟

خالد: میں نے دسویں تک مدنی ہائی اسکول سے تعلیم حاصل کی ۔ اس کے بعد میں نے’وی پی پی سی او ای‘ سے کمپیوٹر انجینئرنگ میں انڈرگریجویشن کیا۔بعدازیں نیویارک یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ہردوئی کی ایک طالبہ جس نے جونیئر اسسٹنٹ امتحان میں کامیابی حاصل کی

آپ کے ذہن میں امریکہ جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خیال کب اور کیسےآیا؟

خالد: میری ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ مستقبل میں بیرونِ ملک جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کروں۔ لیکن اس خواب کو حقیقت بنانے میں میرے اسکول، اساتذہ اور مینٹور کا بھی اہم کردار رہا۔ مثلاً اسکول میں ہونے والے’کاوش‘ جیسے پروگرام میں ہمیں دنیا کے مختلف ممالک میں کام کرنے والے اپنے المنائی(فارغین اسکول ) کے بارے میں بتایا جاتا تھا۔ اسکول میں المنائی ٹاکس، ابراڈ کریئر فیئرز اورکریئر گائیڈنس پروگرامز میں شرکت نے بھی بیرونِ ملک تعلیم کے بارے میں دلچسپی بڑھائی۔

 آپ نے ’یو ایس اے‘کو ہی کیوں منتخب کیا؟

خالد: اسکی وجہ وہاں عالمی معیار کی بہترین یونیورسٹیاں ہیں، خاص طور پر کمپیوٹر سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں۔ اسکے علاوہ امریکہ میں تحقیق، اختراع اور ترقی کےلئے بہت سے مواقع موجود ہیں، جو میرےکریئر کے اہداف کیلئے موزوں تھے۔

یوایس اے میں ہائر اسٹڈیز کیلئے داخلہ پانے کیلئے کیا اہلیت درکار ہوتی ہے؟ داخلہ امتحان یا کوئی مسابقتی امتحان دینا پڑتا ہے؟

خالد:اسکا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ انڈرگریجویٹ یا گریجویٹ ڈگری کیلئے درخواست دے رہے ہیں اور کس یونیورسٹی یا پروگرام کا انتخاب کر رہے ہیں۔ عام طور پر انگریزی دانی کی صلاحیت کیلئے IELTS یا TOEFLجیسے امتحانات کامیاب کرنے ہوتے ہیں۔ بعض گریجویٹ پروگرامز میں ’جی آر ای‘ یا ’جی ایم اے ٹی‘ جیسے امتحان بھی اہم ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ صرف مارکس ہی نہیں بلکہ آپکا مجموعی پروفائل بھی بہت اہم ہوتا ہے، جس میں’جی پی اے‘ ، پروجیکٹس، کام کا تجربہ، ریسرچ پبلی کیشن شامل ہو سکتے ہیں۔ میں نے  اپنے ایڈمیشن کیلئے ’آئی ای ایل ٹی ایس‘ اور’جی آر ای‘ دئیے تھے۔

 مختلف کورسیز کیلئے یو ایس اے کی کون سی پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں اچھی ہیں؟ انتخاب میں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟

خالد:یو ایس اے میں بہت سی بہترین پبلک اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں موجود ہیں۔’آئیوی لیگ یونیورسٹیز‘  دنیا بھر میں معروف ہیں، لیکن ان کے علاوہ بھی بہت سے بہترین تعلیمی ادارے اور پروگرامز موجود ہیں۔ طلبہ’یو ایس نیوز‘جیسی معتبر رینکنگ اوریونیورسٹی کی آفیشیل انفارمیشن سے بھی رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔  انتخاب کرتے وقت صرف رینکنگ نہ دیکھیں بلکہ ان پر بھی توجہ دیں: متعلقہ پروگرام کا معیارnٹیوشن فیس، لوکیشن،کیمپس انوائرنمنٹ، انٹرن شپ اور ملازمت کے مواقع ریسرچ سہولیات، انڈسٹری کنکشن، گریجویشن کے بعد کریئر کے مواقع

موجودہ حالات میں ہندوستانی طلبہ کیلئے یو ایس اے میں ہائر اسٹڈیزکیلئے جانا کتنا مناسب ہے؟ وہاں کے اہم مواقع اور چیلنجز کیا ہیں؟

خالد:موجودہ حالات میں یو ایس اےکے بارے میں صورتحال کچھ غیر یقینی ہے، خاص طور پر کام اور ویزا ریگولیشن میں مسلسل تبدیلیوں کی وجہ سے۔ میری ذاتی رائے میں اگلے ایک دو سال کے لیے طلبہ کو’یو ایس اے‘ کے ساتھ ساتھ متبادل ممالک کے متبادل پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے، جب تک کہ انہیں یو ایس اےمیں کوئی غیر معمولی یا بہت اچھا موقع نہ مل رہا ہو۔یوایس اے کے بڑے فوائد:عالمی معیار کی تعلیم، مسابقت آرا معیشت، ریسرچ اور اِنوویشن کے مواقع۔ تاہم چیلنجزمیں خاص طور پر ورک ویزا اور امیگریشن پالیسی میں تبدیلیاں شامل ہیں، اسلئے فیصلہ کرنےسے پہلے تازہ ترمعلومات ضرور حاصل کرنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھئے:اے آئی کی مختصر تحریروں سے قوت فکر و استدلال کو خطرہ!

یو ایس اے میں ہائر اسٹڈیز کا خرچ کتنا آتا ہے؟ اسکالر شپ کے امکانات ہیں؟
خالدکہتے ہیں کہیو ایس اے میں ٹیوشن فیشن عام طور پر دوسرے کئی ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہیں۔ اخراجات کا انحصار یونیورسٹی، ڈگری پروگرام اور لوکیشن پر ہوتا ہے۔عام طور پر ایک ڈگری  کورس کی مجموعی لاگت تقریباً۲۰؍ سے۸۰؍ لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے۔اسکالرشپ حاصل ہونے کی صورت میں یہ خرچ کم ہو سکتا ہے، جبکہ کچھ مہنگی یونیورسٹیوںمیں مجموعی اخراجات اس سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں۔ مجھے اپنے پروفائل  کی بنیاد پر’جزوی اسکالرشپ‘ ملی تھی، جس سے میرے تعلیمی اخراجات میں کافی مدد ہوئی۔

 یو ایس اے میں ہائر اسٹڈیز اور کریئر کا خواب دیکھنے والے طلبہ کیلئےمشورہ

خالدکہتے ہیں کہ طلبہ اور نوجوانوں کو میرا مشورہ یہ ہے کہ اعلیٰ کورسیز کے لئے صرف یو ایس اےکو ہی اپنا واحد متبادل نہ سمجھیں۔ کم از کم ۳؍ سے ۵؍ ممالک کےآپشن پر ریسرچ کریں اور یہ دیکھیں کہ آپ کی سرمایہ کاری کے مقابلے میں کہاں بہتر ’انویسٹمنٹ ریٹرن‘ مل سکتا ہے۔ یونیورسٹی اور ملک کا انتخاب کرتے وقت ٹیوشن فیس، جاب کے مواقع، ممکنہ آمدنی ، ورک ویزا پالیسی کا ضرور جائزہ لیں۔ اس وقت یو ایس اے  میں ورک ویزا اور امیگریشن پالیسی میں مسلسل تبدیلیاں ہو رہی ہیں، اسلئے فیصلہ کرتے وقت احتیاط اور مکمل ریسرچ بہت ضروری ہے۔ 

بڑے خواب دیکھنے والے طلبہ کیلئے پیغام

خالدانصاری اس ضمن میں کہتے ہیں کہ بیرونِ ملک ہائر ایجوکیشن حاصل کرنا یقیناً ایک بڑا قدم ہے، لیکن جو لوگ اپنے کمفرٹ زون سے باہر نکلنے کی ہمت کرتے ہیں اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کیلئے مسلسل محنت کرتے ہیں، ان کیلئے مواقع کی دنیا بے حد وسیع ہے۔ خواب ضرور دیکھیں، لیکن خواب کے ساتھ ریسرچ، منصوبہ بندی، مہارت و صلاحیتوں میں اضافہ اور ہارڈ ورک کو بھی اپنا ساتھی بنائیں۔یادرکھئے مستقبل اُنہی کا ہوتا ہے جو مواقع تلاش کرنے کے ساتھ خود کو اُن مواقع کے لیے تیار بھی کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK