’’حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے‘‘ یہ ہم سب پڑھتے اور سنتے آئے ہیں۔ آج بھی پڑھتے اور سنتے ہیں اورجب بھی لفظ ’’حکمت‘‘ ہماری سماعت سے ٹکراتا ہے فوری طور پر ہمیں یہ قول یاد آ جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 3:00 PM IST | Mumbai
’’حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے‘‘ یہ ہم سب پڑھتے اور سنتے آئے ہیں۔ آج بھی پڑھتے اور سنتے ہیں اورجب بھی لفظ ’’حکمت‘‘ ہماری سماعت سے ٹکراتا ہے فوری طور پر ہمیں یہ قول یاد آ جاتا ہے۔
’’حکمت مومن کی گمشدہ میراث ہے‘‘ یہ ہم سب پڑھتے اور سنتے آئے ہیں۔ آج بھی پڑھتے اور سنتے ہیں اورجب بھی لفظ ’’حکمت‘‘ ہماری سماعت سے ٹکراتا ہے فوری طور پر ہمیں یہ قول یاد آ جاتا ہے۔ مگر کون جانتا ہے یا کون بتائے گا کہ حکمت کیا ہے؟ کس کو کہتے ہیں؟ لغت میں حکمت کا ایک معنی وہ ہے جس کا تعلق طب کے پیشے سے ہے جسے طبابت کہا جاتا ہے یعنی علاج معالجے کا علم اور تجربہ۔ اس پیشے سے تعلق رکھنے والے کو حکیم کہا جاتا ہے۔ مگر اس سے زیادہ گہرائی و گیرائی حکمت کے دوسرے معنی میں ہے۔ حکمت کا دوسرا معنی ہے عقل و دانش، دانائی، مصلحت، خوبی، بھلائی، بہتری اور تدبیر۔ قول ِ مذکور میں حکمت کو گمشدہ اس لئے کہا گیا ہے کہ اسے تلاش کرنا پڑتا ہے، اس کے حصول کی کوشش اور اسے پانے کی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ دیگر مواقع کے علاوہ اس کی ضرورت تب پیش آتی ہے جب انسان مشکلات میں گھرا ہوتا ہے، اس کے سامنے پیچیدہ مسائل ہوتے ہیں اور اسے حل سوجھتا ہے نہ راحت و سہولت اور کامیابی و کامرانی کی راہ دکھائی دیتی ہے۔ خداوند قدوس نے ہر انسان کو عقل عطا کی ہے مگر کچھ لوگ عقل کے استعمال کی فکر نہیں کرتے اور کچھ عقل سے خوب خوب کام لیتے ہیں۔ بات استعمال کرنے اور آزمانے ہی کی ہے۔جو کم استعمال کرتا ہے کم عقل کہلاتا ہے،جو زیادہ استعمال کرتا ہے عقلمند کہلاتا ہے۔ مگر حکمت صرف عقل نہیں ہے۔ یہ عقل کو بروئے کار لانے اور غورو فکر کے ذریعہ علم ِ نافع کی روشنی میں ’’خیر کثیر‘‘ تلاش کرنے کی وہ جدوجہد ہے جو گوہر مراد تک پہنچائے۔ دلچسپ یہ ہے کہ حکمت مشکل کو آسانی میں بدلنے کی طاقت رکھتی ہے مگر خود بڑی مشکل سے میسر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: برسات اور مشکلات
آج ہندوستانی مسلمانوں کو سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ اُن کے گھر بار اور عبادت گاہیں محفوظ ہیں نہ ہی وہ خود محفوظ ہیں۔ مکان، دکان، مسجد، مدرسہ، خانقاہ اور مزارات بلڈوزر کی یا ملکیت کے جعلی دعوؤں کی زد پر ہیں اور وہ خود یا تو ہجومی تشدد سے نبرد آزما ہیں یا شہریت گنوانے (مغربی بنگال میں ایس آئی آر ) کے خطرہ سے دوچار ہیں۔ کل تک جو قوم نمائندگی کا حق مانگ رہی تھی، آج ووٹ کا حق بچانے کی تگ و دَو کررہی ہے یا شہریت بچانے کیلئے فکرمند ہے۔ کل تک احتجاج کا حق ڈھال بنتا تھا آج اُس پر بھی قدغن ہے۔ کل تک قانونی لڑائی کا بڑا سہارا تھا آج یہ اُمید بھی دھندلکوں میں راہ تلاش کررہی ہے۔ ایسے میں حکمت ہی وہ متاع ہے جسے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کون سی حکمت مسائل کے حل میں معاون ہو؟
یہ بھی پڑھئے: اسٹارمر: ناکام نہیں مگرکامیاب بھی نہیں!
چونکہ یہ گمشدہ میراث ہے اس لئے اسے تلاش کرنا ہوگا اور تلاش کرنے کیلئے غوروخوض کرنا ہوگا، تبادلۂ خیال کرنا ہوگا، سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا، مفادات کے بجائے مقاصد سے جڑنا ہوگا، اپنا محاسبہ کرنا ہوگا، اخلاص کو بنیادی شرط ماننا ہوگا، تدبر کی راہ اختیار کرنا ہوگا، ہر چیز کو سیاسی عینک سے دیکھنے سے گریز کرنا ہوگا اور فوری نتیجہ کے بجائے طویل مدتی جدوجہد کی منصوبہ بندی کرنی ہوگی تاکہ آئین کے تفویض کردہ حقوق حاصل ہوں، برادران وطن کے ساتھ پُروقار اور پُرامن زندگی کی راہ ہموار ہو، مساجد و مدارس کے ساتھ آئندہ نسلوں کا مستقبل محفوظ ہو۔
موجودہ حالات میں حکمت کی تلاش ہمارا سب سے بڑا ہدف ہونا چاہئے ۔