Inquilab Logo Happiest Places to Work

معلم اعظمؐ کا اندازِ تعلیم و تربیت وہی ہے جس کی دُعا ابراہیمؑ نے مانگی تھی

Updated: June 26, 2026, 3:56 PM IST | Dr. Sharf-ul-ddin Saalim | Mumbai

قرآن مجید میں جہاں تعمیر کعبہ کے وقت ابراہیم ؑ کی دعا کا ذکر ہے وہیں آپ ؐ کے متعلق ارشاد فرمایا گیا کہ رب العالمین نے وہ رسولؐ مبعوث فرما دیا ہے جو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے اور دانائی سکھاتے ہیں۔

If you are present at the Prophet`s Shrine, especially pray that the Lord of the Worlds may grant us the ability to follow the paths taught by the Prophet. Photo: INN
درِ رسولؐ پر حاضری ہو تو خاص طور پر دعا کریں کہ رب العالمین ہمیں اُن راستوں پر چلنے کی توفیق دے جن کی تعلیم نبیؐ نے دی ہے۔ تصویر: آئی این این

اللہ تعالیٰ کے اپنے بندوں پر بے شمار احسانات ہیں۔ اس نے اس ارضی کائنات میں ایک آبرومندانہ زندگی گزارنے کے انسانوں کو لاتعداد نعمتیں عطا کیں۔ تاکہ وہ اس عارضی و فانی دنیا میں امن وسکون سے زندگی گزارسکیں۔لیکن انسان اس کی رنگ رلیوں میں غرق ہوکر ہمیشہ اپنے پیدا کرنے والے کو بھولتارہا۔ ایسے عالم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ایک عظیم احسان یہ بھی کیاکہ ان کو گمراہی سے بچانے کے لئےکتاب اور صحیفے نازل کئے اور درس وتدریس کے ذریعے ان کو سمجھانے کے لئےرسول بھی بھیجتارہا تاکہ لوگ اپنا فراموش کردہ حقیقی سبق یاد کرسکیں، ہدایت یافتہ ہوسکیں اور ظلمت سے روشنی کی طرف آسکیں۔ اس سچائی کی روشنی میں یہ بات برملاکہی جاسکتی ہے کہ آسمانی کتابیںنصابِ الٰہی اور ان کی تعلیم دینے والے انبیا و رسل معلم ہیں۔ جب دنیا سچائی اور صداقت سے مسلسل روگردانی کرتی رہی تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی نسل کی دُنیوی واخروی فلاح و سعادت کے لئےحق تعالیٰ سے تعمیرکعبہ کے وقت یہ دعا مانگی :
’اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے (وہ آخری اور برگزیدہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث فرما جو ان پر تیری آیتیں تلاوت فرمائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے (کر دانائے راز بنا دے) اور ان (کے نفوس و قلوب) کو خوب پاک صاف کر دے، بیشک تو ہی غالب حکمت والا ہے۔‘‘(البقرہ:۱۲۹)

یہ بھی پڑھئے: زندگی کی ٹھوکریں کچھ نہ کچھ ضرور سکھادیتی ہیں

حدیث میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اس دعا کاجواب حق تعالیٰ کی طرف سے یہ ملاکہ آپ کی دعا قبول کرلی گئی اور یہ رسول آخری زمانے میں بھیجے جائیں گے۔ اس دعا کے تقریباً ڈھائی ہزار سال بعد اس کائنات میں آپﷺ مبعوث ہوئے۔ قرآن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کاتذکرہ کرتے ہوئے دو جگہ سورہ آل عمران کی آیت نمبر ۱۶۴؍ اور سورہ جمعہ کی آیت نمبر ۲؍ میں انہی  الفاظ کااعادہ کیاگیا ہے  جو الفاظ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا میں موجود ہیں۔ یہ اس حقیقت کی شہادت دیتے ہیں کہ آپﷺ کی بعثت میں دعائے ابراہیمی شامل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی فرماتے تھے کہ  ’انا دعوۃ ابراھیم‘  یعنی  ابراہیمؑ کی دعا ہوں۔ سورہ ٔ آل عمران کی مذکورہ آیت میں ارشاد ہوتاہے:
’’بیشک اللہ نے مسلمانوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے ایک  رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے، اگرچہ وہ لوگ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔‘‘
اس حقیقت کو اس طرح منکشف کیاگیاہے:
’’وہی ہے جس نے اَن پڑھ لوگوں میں انہی میں سے ایک (با عظمت) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا وہ اُن پر اُس کی آیتیں پڑھ کر سناتے ہیں اور اُن (کے ظاہر و باطن) کو پاک کرتے ہیں اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، بیشک وہ لوگ اِن (کے تشریف لانے) سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے۔ ‘‘ (الجمعہ:۲)
آپ ؐکی تعلیم و تربیت کی افادیت و اہمیت کو واضح کرتے ہوئے تقریباً یہی الفاظ دہرائے گئے ہیں:
’’اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہی میں سے (اپنا) رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں (نفسًا و قلبًا) پاک صاف کرتا ہے اور تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت و دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں وہ (اَسرارِ معرفت و حقیقت) سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔‘‘
(البقرہ:۱۵۱)

یہ بھی پڑھئے: رَبِ کائنات کی بندگی اور شخصیت کی بلندی

ان آیاتِ بینات سے رسول اکرم ﷺ کا اندازِ تعلیم و تربیت صاف ظاہر ہے۔ آپؐامت کے سامنے کلامِ الٰہی کی تلاوت فرماتے، اس کی شرح و ترجمانی فرماتے، امت کو حکمت و دانائی سے تلقین کرتے، احکام ومسائل اور آداب و اخلاق سکھاتے، ظاہری نجاستوں سے پاک کرتے اور باطن کو کفروشرک ، فاسد اعتقادات، تکبر وحسد بغض اور حب دنیا وغیرہ سے منزہ و مصفّا کرتے۔ گویا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت معلم اعظم کی بھی تھی اور مصلح اعظم کی بھی۔ اس سچائی کو آپؐنے مشکوٰۃ کی ایک حدیث میں خود بیان کیا ہے:  ’مجھے معلم بناکر بھیجاگیاہے۔‘ موطا امام مالک کی ایک دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا:’مجھے اس لئےبھیجاگیاہے تاکہ اخلاقی اچھائیوں کو تمام و کمال تک پہنچاؤں۔‘ آپؐ کی تعلیم و تربیت وحی الٰہی کے عین مطابق اور حکم الٰہی کے دائرے میں تھی۔ توحید، رسالت، آخرت، خلافت ِارض، اخوت و مساوات، وحدتِ بنی آدم، آزادی، عقیدہ اور کائنات پر غورو فکر اس کے موضوعات تھے۔ آپؐ پوری ذمّے داری ، لگن، محنت اور انہماک کے ساتھ اپنے فرائض کو انجام دیتے۔ آپؐکی سیرت گواہ ہے کہ اپنے حقیقی مشن کی تکمیل کے لئےآپؐنے ایک لمحہ بھی ضائع نہیںکیا اور تعلیم و تربیت کے انتہائی پتاماری کے اس فرض کو بہ خوبی انجام دیتے رہے حالاں کہ اس راہ میں آپؐکو شدید ترین مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کام میں آپؐ کے استغراق و انہماک کایہ عالم تھا کہ اللہ تعالیٰ آپؐکی اس حالت کو دیکھ کر خود ارشاد فرماتاہے :’ ’شاید آپ اپنے کو ان کے پیچھے ہلاک کردیںگے۔‘‘
  نبی کریم ﷺ کا طریقۂ تعلیم وتربیت، گفتگو، سوال جواب، اطلاعات اور خطابت پر مشتمل تھا جس کو موجودہ اصولِ تعلیم کی انگریزی اصطلاح میں اس طرح مماثلت دی جاسکتی ہے:
 Conversational Method       
بات چیت کاطریقہ
  Question Anser Method           
سوال وجواب کاطریقہ
  Narrativ Descriptive Method              
اخباری یااطلاعی طریقہ
 Lecture Method                       
خطابت کاطریقہ

یہ بھی پڑھئے: یہ ایک نئے ہجری سال کا آغاز ہے

اللہ کے رسولؐ کی تعلیم و تربیت کے ان طریقوںسے سیرت اور احادیث کی تمام کتابیں آراستہ ہیں۔ آپؐاپنے متعلمین کوجو کچھ بتانا چاہتے تھے اس کا بنیادی مقصد آپؐکے دل و دماغ میں متعین تھا۔ آپؐ کسی بھی حالت میں ہوتے، جلوت میں، خلوت میں،گھر میں، مسجد میں یا میدانِ جنگ میں ، تعلیم و تربیت کے فطری مواقع ہاتھ آتے ہی ان سے پورا فائدہ اٹھاتے تھے اور باتوں باتوں میں ضروری معلومات بہم پہنچا دیاکرتے تھے۔ حضرت ابوذرغفاریؓ کا بیان ہے کہ میں ایک روز ایک مسلمان کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ ان کا رنگ کالاتھا اس لئےمیں نے انہیں  ’’اے کالے رنگ والے‘‘ کہہ کر خطاب کیا۔ نبی کریمؐ  نے سنا تو سخت ناگواری کااظہار کیا اور فرمایا:طف الصاع، طف الصاع ’پیمانہ پورا بھر، پیمانہ پورا بھر‘ یعنی سب کو ایک ہی پیمانے سے دے۔ ایسا نہ کرو کہ کسی کو اچھے الفاظ سے خطاب کرو اور کسی کو بُرے الفاظ سے۔ انسان کے ساتھ امتیاز نہ کرو۔ اس کے بعد آپؐنے فرمایا:  ’ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی  فضیلت نہیں۔‘ 
فتح مکہ کے موقعے پر آپؐ نے حضرت بلال حبشیؓ کو اذان کاحکم دیاتو قریش مکہ میں سے ایک نے کہا: اللہ کاشکر ہے میرے والد یہ روزِبددیکھنے سے پہلے وفات پاگئے۔ حارث بن ہشام نے کہاکہ کیا محمدؐ  کواس کالے کے سوا کوئی  آدمی نہ ملا۔ اس گفتگو کی آپؐکو خبر ہوئی تو طواف سے فارغ ہوکر آپؐ نے خطبہ دیا جس میں یہ بھی فرمایا:  ’اے قوم قریش! اب جاہلیت کاغرور اور نسب کاافتخار خدا نے مٹادیا۔ تمام لوگ آدم کی نسل سے ہیں اور آدم مٹی سے بنے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK