موسم باراں شروع ہوچکا ہے۔ پانی کتنی بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ موسم گرما میں ہوا جب ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر کے اضلاع میں، کہیں کم اور کہیں زیادہ، پانی کی قلت کا سامنا تھا۔
EPAPER
Updated: June 25, 2026, 4:11 PM IST | Mumbai
موسم باراں شروع ہوچکا ہے۔ پانی کتنی بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ موسم گرما میں ہوا جب ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر کے اضلاع میں، کہیں کم اور کہیں زیادہ، پانی کی قلت کا سامنا تھا۔
موسم باراں شروع ہوچکا ہے۔ پانی کتنی بڑی نعمت ہے اس کا اندازہ موسم گرما میں ہوا جب ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر کے اضلاع میں، کہیں کم اور کہیں زیادہ، پانی کی قلت کا سامنا تھا۔ تب ہی میونسپل کونسلوں اور کارپوریشنوں نے شہریوں سے پانی کی حفاظت کرنے اور اسے ضائع ہونے سے بچانے کی تلقین کی۔ اُس سے پہلے نہیں کی تھی۔ اب بارش ہوجانے کے بعد بھی نہیں کریں گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانی جیسی قیمتی اور انسانی و حیوانی زندگی کیلئے ازحد ضروری شے کے تئیں ہماراے حکام کا طرز عمل کیا ہے۔ کونسل اور کارپوریشن جیسے اداروں کا طرز عمل جو بھی ہو، ہمارا اور آپ کا طرز عمل یہ ہونا چاہئے کہ پانی کی افراط ہو یا قلت، ہر صورت میں اس کا تحفظ کیا جائے۔ یہ عزم تبھی ہوسکتا ہے جب پانی کو نعمت سمجھا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اسٹارمر: ناکام نہیں مگرکامیاب بھی نہیں!
جہاں تک موسم باراں کا تعلق ہے، یہ رحمت بھی ہے اور زحمت بھی۔ زحمت بالخصوص اُن لوگوں کیلئے جو جھگی جھوپڑیوں یعنی جھوپڑپٹیوں میں رہتے ہیں اور جب بھی تیز، موسلادھار اور کئی دن تک مسلسل بارش ہوتی ہے ان کی جان میں جان نہیں رہتی۔ ایک حالیہ مطالعہ سے منکشف ہوتا ہے کہ ممبئی، جسے ملک کی مالیاتی راجدھانی ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور جسے خوابوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے، اس لحاظ سے قطعی غیر محفوظ ہے کہ موسم باراں کی شدت، سیلابی کیفیت اور ہائی ٹائیڈ کی وجہ سے جو اموات ہوتی ہیں اُن میں ۸۰؍ فیصد ایسے لوگوں کی ہوتی ہے جو جھوپڑوں میں رہتے ہیں۔ سرکاروں کا کام وعدہ کرنا اور عوام کو بہلائے رکھنا ہے ورنہ کیا وجہ ہے کہ ہاؤسنگ کی درجنوں اسکیموں کے باوجود شہر ممبئی آج تک جھگی جھوپڑیوں سے پاک نہیں ہوسکا ہے؟ جس مطالعہ کا ذکر بالائی سطور میں کیا گیا ا سکی تفصیل ’’نیچر‘’ نامی جریدہ کے ۱۲؍ نومبر ۲۰۲۵ء کے شمارہ میں شائع ہوئی تھی۔ اس مطالعہ کو اپنی تحقیق سے اعتبار بخشنے والے تحقیق کاروں کا کہنا تھا کہ ان اموات کیلئے شہریانے (اربنائزیشن) کا غیر منصوبہ بند طریق کار ذمہ دار ہے جس کے تحت نہ تو کچی بستیوں کو پکے مکانات فراہم کئے جاتے ہیں نہ ہی سیلابی پانی کی نکاسی کا انتظام کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیٹ: طویل انتظار، معمولی تاخیر اور محرومی
۲۰۰۶ء سے ۲۰۱۵ء کے میونسپل کارپوریشن کے ریکارڈز سے تحقیق کاروں نے جو نتائج اخذ کئے اُن میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ دس برس کے دوران ہر سال موسم باراں کی وجہ سے ۲۳۰۰؍ سے ۲۷۰۰؍ اموات ہوئی ہیں۔ اتنی ہی اموات مذکورہ مدت میں کینسر کی مختلف اقسام سے ہوئی ہیں۔ اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انسانی زندگی کو جتنا خطرہ کینسر سے ہوتا ہے اُتنا ہی موسم باراں سے ہوتا ہے۔ کئی اموات تو اُس ناقابل معافی کوتاہی کی وجہ سے ہوتی ہیں جن کے سبب مین ہول کھلے چھوڑ دیئے جاتے ہیں یا وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکے ہوتے ہیں اس کے باوجود اُنہیں محفوظ نہیں بنایا جاتا۔عروس البلاد میں ہر سال چند ایک اموات محض مین ہول کے کھلا ہونے کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ یہ المیہ ہی ہے کہ ہر سال کارپوریشن دعویٰ کرتی ہے کہ شہر میں واٹر لاگنگ (پانی بھرنا) نہیں ہوگی مگر ہر سال پانی بھرتا ہے اور شہریوں کی زندگی پریشانی کے بھنور میں آجاتی ہے۔بارش قدرت کا انعام ہے مگر انسانی لاپروائی، بدعنوانی اور کام چوری اسے ٹریجڈی بنادیتی ہے۔