مردم شماری ۲۰۲۷ء کا بگل بج چکا ہے۔ عنقریب یہ سلسلہ شروع ہوگا۔ جب بھی مردم شماری ہوتی ہے، ہمارے معاشرہ میں بڑا جوش و خروش دیکھنے کو ملتا ہے بالخصوص زبان کے خانے میں اُردو لکھوانے کے تعلق سے۔ یہ ہے تو بہت اچھا جذبہ مگر اسی پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے۔
عنقریب مردم شماری شروع ہوگی اور مَیں تصور کررہا ہوں ، جی ہاں ، یہ صرف تصور ہے کہ اس کام پر مامور سرکاری اہلکار میرے غریب خانے پر آئے ہوئے ہیں ۔ مَیں بڑے جوش و خروش سے مادری زبان کے خانے میں اُردو لکھوا ر ہا ہوں کیونکہ میرا ذہن پہلے ہی بن چکا تھا۔ اُردو اخبارات کے مراسلوں سے، محلوں کے تختۂ سیاہ پر درج تحریروں سے اور آس پاس کے لوگوں کی گفتگو سے۔ ہر جگہ یہی پیغام دیا جارہا تھا کہ مادری زبان کے خانے میں اُردو لکھوائیے، سو مَیں نے لکھوا دیا اور خود پر ناز کرنے لگا۔ کافی دیر تک کرتا رہا۔
تصور ہی میں ، مَیں یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ میرے غریب خانے سے نکل کر مردم شمار کنندگان جہاں جہاں جانے والے ہیں مَیں بھی وہاں وہاں جانے کا خواہشمند ہوں ، دیکھنا چاہتا تھا کہ دیگر لوگوں نے مادری زبان کے خانے میں کیا لکھوایا ہے۔ زیادہ مکانوں تک رسائی تو ممکن نہیں ہوسکی مگر جتنے بھی مکانوں تک گیا، مادری زبان کے خانے میں اُردو لکھوانے کا ذوق اور جذبہ دیکھ کر نہایت خوشگوار تاثر قائم ہوا۔ اسی تصوراتی دُنیا کے چند مشاہدات اور بھی ہیں ۔ مثلاً مَیں نے دیکھا کہ ایک پڑوسی، جن کے تمام اہل خانہ اُردو جانتے ہیں مگر کبھی اُردو اخبار یا رسالہ خریدتے ہیں نہ پڑھتے ہیں ، اُنہوں نے بھی زبان کے خانے میں اُردو لکھوایا۔ مَیں نے اس جذبے کی ستائش کی کیونکہ اُردو اخبار یا رسالہ نہ پڑھنے کے باوجود زبان سے وابستگی درج کروانا بھی اہم ہے۔ وابستگی کے احساس ہی سے وابستگی قائم رہتی ہے خواہ وہ عملی وابستگی نہ ہو۔ اس پر خوش ہونا چاہئے، سو مَیں خوش ہوااَور چونکہ معاملہ اُردو کا تھا اس لئے جتنا خوش ہوسکتا تھا اُس سے زیادہ ہوا۔ اب سوچ رہا ہوں کہ کیا ایسے خوش ہونا ٹھیک ہے؟ کیا میرا طرز فکر درست ہے؟ اگر عملی وابستگی نہیں ہے تو وابستگی کا کیا معنی؟
تصور ایک قدم اور آگے بڑھا، ایک اور صاحب جنہوں نے بچوں کو انگریزی میڈیم میں داخل کروایا ہے وہ بھی اُردو نواز نکلے۔ اُن کا بس چلتا تو اپنے نام کے خانے سے پہلے مادری زبان کا خانہ پُر کرواتے۔ اُنہوں نے بھی اُردو لکھوایا۔ ایک اور پڑوسی کے بارے میں مجھے شک تھا کہ اُردو نہیں لکھوائیں گے کیونکہ اُنہیں اُردو اداروں اور اُردو والوں سے خدا واسطے کا بیر ہے، مگر میرا اندازہ غلط نکلا۔ اُنہوں نے اپنے مخصوص اُردو والے انداز میں سرکاری اہلکار سے کہا کہ ’’ اُردو لکھئے بھئی اُردو لکھئے، ہمارا زیادہ تعلق انگریزی سے ہے مگر ہم ہیں تو اُردو والے ہی۔‘‘ مجھے لگا کہ جب وہ یہ جملہ ادا کررہے تھے، ماحول میں قوام کی خوشبو پھیل گئی تھی لیکن مَیں نے اسے اپنا وہم اور گلزار کے مصرعے (تیری باتوں میں قوام کی خوشبو ہے) کا اثر جانا۔ اُن صاحب کا شین قاف اس حد تک درست ہے کہ مخاطب مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ مَیں نے دیکھا کہ سرکاری اہلکار بھی متاثر یا مرعوب یا متاثر اور مرعوب دونوں ہوئے۔ انہوں نے اُن صاحب کی نگاہوں کے سامنے مادری زبان کے خانے میں اُردو لکھ دیا۔ وہ مطمئن ہوگئے اور اپنے فرزند کو آواز دی کہ’’بیٹا لِسن، گیٹ اَس سم اسنیکس اینڈ کافی‘‘۔ یہ جملہ سنا تو مَیں نے محسوس کیا کہ اب ماحول میں قوام کی خوشبو نہیں ہے، بالکل نہیں ، شاید ناراض ہوکرچلی گئی۔
تصور میں ، مَیں انہی دو چار مکانو ں تک گیا، اس کے بعد یہ سوچتا ہوا اپنے گھر واپس آگیا کہ اگر یہی جوش اور جذبہ پورے ملک میں قائم رہا تو ۲۰۱۱ء کی مردم شماری کے مقابلے میں ۲۰۲۷ء کی مردم شماری میں اُردو زبان خود کو منوائے بغیر نہیں رہے گی۔ ۲۰۱۱ء میں اُردو بولنے والوں کی آبادی ۵؍ کروڑ ۷؍ لاکھ، ۷۲؍ ہزار ۶۳۱؍ تھی اور زبانوں کی فہرست میں اُردو کو ساتواں مقام حاصل ہوا تھا، ممکن ہے کہ تازہ مردم شماری کی دستاویز سے اُردو بولنے والی آبادی میں اضافہ کا انکشاف ہو اور زبانوں کی فہرست میں اُردو کو بہتر مقام حاصل ہوجائے۔ ’’ایسا ہی ہوگا‘‘ اچانک میرے دل سے آواز آئی اور اس کے ساتھ ہی قوام کی خوشبو کا جھونکا پھر آگیا جو ناراض ہوکر چلا گیا تھا۔
یہ تصور بھی بڑی قاتلانہ چیز ہے جو ایک بار مجھے تقریری مقابلہ میں لے جا چکا ہے۔ میری نشست سامعین کے بالکل درمیان میں تھی اور مَیں آس پاس کے لوگوں کی سرگوشیوں کو سن سکتا تھا۔ ایک طالبہ لہک لہک کر تقریر کررہی تھی اور سامعین کی صفوں میں بار بار تالیوں کا شور گونجتا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا پہلا انعام اسی طالبہ کو ملے گا۔ ’’جواب نہیں اس تقریر کا‘‘ ایک صاحب نے کہا تو دوسرے صاحب نے تائید کی۔ تقریر آگے بڑھی۔ بیچ بیچ میں اشعار بھی سنائے گئے۔ پھر جب تقریر اپنی اُٹھان پر تھی، ایک اور صاحب کی زبان سے نکلا: ’’سچ ہے اُردو کا مستقبل تابناک ہے‘‘ ۔ مَیں نے مڑ کر دیکھا تو نہیں مگر ایسا لگا جیسے اس بات پر تین چار سر ہلے۔ ہوسکتا ہے زیادہ ہلے ہوں ۔ اس سے قبل کہ مَیں پلٹ کر دیکھتا، میرے بالکل سامنے بیٹھے ہوئے صاحب کی سرگوشی سنائی دی۔ وہ اپنے پڑوسی سے کہہ رہے تھے ’’اُردو کا مستقبل تابناک ہو یا نہ ہو، تلفظ کا مستقبل تابناک نہیں ہے‘‘۔مَیں اُس بچی کے تلفظ پر شروع سے کبیدہ خاطر تھا مگر کسی سے کیا کہتا، خاموش رہا۔ اب مَیں اپنے جہانِ تصور سے باہر آچکا تھا اس لئے یہ علم نہیں ہوسکا کہ پہلا انعام کس کو ملا۔ ممکن ہے اُس بچی کے اندازِ بیان سے متاثر ہوکر منصفانِ مقابلہ نے تلفظ کو اہمیت نہ دی ہو یا ممکن ہے منصفانِ مقابلہ کو تلفظ کی عدم صحتی کا احساس ہی نہ ہوا ہو!
آج کل تلفظ ہی کا نہیں ، اِملا اور جملہ کا بھی مسئلہ ہے جبکہ علی الترتیب لکھنا ہو تو اس طرح لکھا جائیگا کہ جملہ، اِملا اور تلفظ اُردو زبان کا جسم، جان اور روح ہیں مگر چھوڑ دیجئے اس بحث کو۔ ایسی بحثوں سے اُردو کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا ، یہ الگ بات ہے کہ اُردو والوں کا ہوتا ہے۔ جب وہ جملہ، املا اور تلفظ پر اظہار خیال کرتے ہیں تو لوگ متوجہ ہوجاتے ہیں خصوصاً دیگر زبانوں کے لوگ یہ سوچ کر کافی مرعوب ہوتے ہیں کہ صاحب اہل اُردو کو اپنی زبان کی لطافت اور نزاکت کا کتنا خیال رہتا ہے۔ اُنہیں مرعوب ہوتا دیکھ کر اہل اُردو خوش ہوتے ہیں اور داد طلب نگاہوں سے دیکھتے ہیں ۔ اُردو رہے نہ رہے یہ داد طلب نگاہیں رہ گئیں تب بھی بڑی بات ہوگی۔
یہ باتیں سوچ ہی رہا تھا کہ کہیں سے آواز آئی ’’مردم شماری میں اُردو لکھوانا جتنا اہم ہے اُتنا ہی اُردو کو گھر میں زندہ رکھنا اہم ہے۔‘‘ یہ جملہ ابھی گونج ہی رہا تھا کہ محسوس ہوا قوام کی خوشبو پھر آرہی ہے۔