Inquilab Logo Happiest Places to Work

دو ہائی کورٹس کا فیصلہ اور تبصرہ

Updated: April 10, 2026, 1:36 PM IST | shamim Tariq | mumbai

اسلام نے بعض شرائط کے ساتھ ایک بیوی کے ہوتے دوسری بیوی رکھنے کی اجازت دی ہے اور اس دوسری بیوی کی اولاد کو بھی عزت، وراثت اور حقوق حاصل ہوں گے مگر اسلامی شریعت پر یہیں سے حملے ہونے شروع ہوئے۔ لیکن الٰہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ شادی شدہ مرد بالغ عورت کی مرضی سے اس کے ساتھ میاں بیوی کی طرح لیو اِن میں رہ سکتا ہے۔

INN
آئی این این
ملک کے دو الگ الگ ہائی کورٹس نے ایسے فیصلے اور تبصرہ کئے ہیں  جو حقیقت پسندوں  کی آنکھ کھولنے کیلئے کافی ہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ اسلام نے بعض شرائط کے ساتھ ایک بیوی کے ہوتے دوسری بیوی رکھنے کی اجازت دی ہے اور اس دوسری بیوی کی اولاد کو بھی عزت، وراثت اور حقوق حاصل ہوں  گے مگر اسلامی شریعت پر یہیں  سے حملے ہونے شروع ہوئے۔ اپنے کو غیر مذہبی، روادار اور انصاف پسند نیز اسلام کو وحشی اور اذیت پسند ثابت کرنے کیلئے بعض بہکائی ہوئی مسلم عورتوں  نے بھی کہنا شروع کیا تھا کہ اسلام کو ماننے والا مرد ایک بیوی کے ہوتے دوسری شادی کرسکتا ہے یا بیک وقت چار بیویاں  رکھ سکتا ہے تو اسلام کو ماننے والی عورت ایک شوہر کے ہوتے دوسرا شوہر کیوں  نہیں  رکھ سکتی؟ اب ایسی عورتیں  کیا کہیں  گی کہ الٰہ آباد (پریاگ راج) ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ ایک بالغ مرد اگرچہ وہ شادی شدہ ہو بالغ عورت کی مرضی سے اس کے ساتھ میاں  بیوی کی طرح لیو اِن میں  رہ سکتا ہے۔ یہ کوئی جرم نہیں  ہے۔ یہ فیصلہ ۲۵؍ مارچ ۲۰۲۶ء کو جسٹس جے جے منیر اور جسٹس ترون سکسینہ کی بینچ نے سنایا۔
مسلم معاشرے میں  غیر شادی شدہ عورتوں  کے کسی مرد کے ساتھ رہنے والیوں  کیلئے جو لفظ رائج ہے، اُس کو اچھا نہیں  سمجھا جاتا۔ دوسروں  کے الگ الگ دلائل ہوسکتے ہیں  مگر راقم الحروف بھی ایسی خواتین کو اچھا نہیں  سمجھتا نہ ہی ایسا کرنے والے مردوں  سے کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ اسی دوران شنکر آچاریہ اوی مکتیشورانند کے اس انکشاف کی خبر آئی ہے کہ آر ایس ایس میں  مسلم منچ چلانے والے اندریش کمار نے ان سے کہا تھا کہ انہوں  نے یا ان کی تنظیم نے دس لاکھ ہندو لڑکیوں  کو مسلمانوں  سے بیاہ دیا ہے؟ کیوں  کا جواب دیتے ہوئے اندریش کمار جی کے یہ کہنے کی اطلاع بھی ہم تک شنکر آچاریہ جی کے ذریعہ ہی پہنچی کہ یہ لڑکیاں  مسلمانوں  کے گھروں  کو بدل دیں  گی۔ راقم کو تسلیم ہے کہ غیر مسلم لڑکیوں  میں  سے بعض نے کسی مسلم خاندان کی بہو بن کر بہت اچھی مثال قائم کی ہے۔ بعض مسلم لڑکیوں  کے غیر مسلم کے ساتھ بیوی بن کر رہنے یا اپنے مذہب پر قائم رہنے کی مثالیں  بھی ہیں  مگر چند استثنائی صورتوں  کو چھوڑ کر شوہر یا سسرال کے رنگ میں  رنگ جانے کی ہی مثالیں  بہت ہیں ۔ عصمت چغتائی کا جب انتقال ہوا تو مجروح سلطانپوری تعزیت کیلئے ان کے گھر پہنچے۔ وہاں  پہنچ کر انہیں  معلوم ہوا کہ عصمت کی بیٹیاں  جو غیر مسلموں  کے ساتھ ہیں  عصمت کو شمشان لے جانے کی تیاریوں  میں  ہیں ۔ وہاں  موجود اخبار نویسوں  نے مجروح سے پوچھا کہ آپ کا عصمت کے جلائے جانے پر کیا تبصرہ ہے؟ مجروح نے جواب میں  یہ سوال پوچھا کہ آپ میں  سے کتنے دفن ہونا پسند کریں  گے؟ اور اٹھ کر چلے آئے۔ بھوپال میں  ڈرامہ نگار حبیب تنویر کی بیوی غیر مسلم تھی مگر انہوں  نے اپنے خسر کے حسن سلوک اور سیدھی سادی زندگی سے متاثر ہو کر مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس لئے اندریش کمار کے اس بیان پر یقین کرنا مشکل ہے کہ وہ لڑکیاں  جو مسلمانوں  سے بیاہی گئی ہیں  مسلمان شوہروں  یا ان کے گھروں  کو بدل دیں  گی۔ اس کے برعکس بڑی تعداد میں  مسلم خاندانوں  میں  پیدا ہونے والی لڑکیاں  غیر مسلموں  سے رشتے کی بنیاد پر جلائی گئی ہیں  اور جلائی جا رہی ہیں ۔ میں  اسے شرم کی بات سمجھتا ہوں  کہ اس بات کو شنکر آچاریہ نے کہا کسی مسلم مذہبی جماعت کے سربراہ یا ترجمان نے یہ تحریک نہیں  چلائی کہ مسلم لڑکیوں  اور لڑکوں  کو ابتدا سے ہی ایسی تعلیم دی جائے کہ ان کی دینی حمیت باقی رہے اور وہ چاہے جس کے ساتھ زندگی بسر کریں  مگر دینی حمیت و غیرت کا سودا نہ کریں ۔ بات رسوائی کی ہے مگر سچ ہے کہ مسلمان جب کسی مسئلہ میں  احتجاج کرتے ہیں  تو اپنوں  یا اپنے معاشرے میں  پھیلی ہوئی برائیوں  کو دور کرنے یا برائیاں  پھیلانے والوں  سےد ور رہنے کی باتیں  نہیں  کرتے۔ اس لئے مشترکہ سول کوڈ کے بشمول ہر مسئلہ میں  شریعت اور شرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے خود مسلمانوں  میں  بھی دستیاب ہو رہے ہیں ۔ میں  کسی جبر یا تشدد کا قائل نہیں  ہوں  مگر اس حقیقت کا قائل ضرور ہوں  کہ مسلم لڑکی چاہے جہاں  اور جس ذریعۂ تعلیم سے پڑھے اور جس کو چاہے شوہر کی شکل میں  انتخاب کرے لیکن اگر وہ دینی حمیت و غیرت کا مظاہرہ نہیں  کرتی تو اس سے دوری بنا لی جائے۔ والدین کو طعنہ دینا مسئلہ کا حل نہیں  ہے کہ اس کی لڑکی فلاں  کے ساتھ بھاگ گئی یا شادی کیلئے فلاں  مذہب قبول کر لیا کیونکہ کوئی نہیں  جانتا کہ اس کی عاقل بالغ لڑکی کیا کرنے والی ہے۔ ہاں  ہر لڑکی کی تربیت ہم پر فرض ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ مسلمان لڑکیوں  میں  تعلیم تو کچھ بڑھی ہے مگر تربیت کا انتظام نہیں  ہے۔
 
 
الٰہ آباد ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ پہلا فیصلہ نہیں  ہے بلکہ سپریم کورٹ کئی فیصلوں  میں  پہلے بھی کہہ چکا ہے کہ دو بالغ مرد و عورت کا ساتھ رہنا ان کے بنیادی حقوق کا حصہ ہے۔ حالیہ فیصلے میں  بھی الٰہ آباد ہائی کورٹ نے یہی بات کہی ہے کہ ایسی کوئی دفعہ نہیں  ہے جس کے تحت شادی شدہ مرد کو لیو اِن میں  کسی کو ساتھ رکھنے کے سبب سزا سنائی جاسکے۔ رہی بات اخلاقیات کی تو قانون اور اخلاقیات کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے۔
دوسرا فیصلہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی گوالیار بینچ کا ہے جس میں  کہا گیا ہے کہ شوہر کا اپنی بیوی کے ساتھ جبراً غیر فطری جنسی فعل کرنا جرم نہیں  ہے۔ اس کیلئے اس کو سزا نہیں  دی جاسکتی۔ میری مذہبی معلومات محدود ہے اسلئے نہیں  کہہ سکتا کہ ایسا کرنیوالوں  کے بارے میں  اسلام کا کیا حکم ہے۔ یہ جواب علماء اور مفتیان کرام دیں  گے۔
میں  الٰہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو فطرت سے ہم آہنگ مانتا ہوں ۔ یہ سچ ہے کہ انسان کو بیک وقت ایک سے زائد بیویوں  کی کہیں  نہ کہیں  ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا بعض شرائط کے ساتھ ایک بیوی کے ساتھ دوسری تیسری چوتھی بیوی کی اجازت دینا غیر فطری نہیں  ہے البتہ غیر فطری جنسی عمل فطرت سے بغاوت ہے۔ اس سے بچنا ضروری ہے چاہے اس کے حق میں  کتنا ہی قانونی جواز فراہم کیا جائے۔
allahabad Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK