چاند کو اب ایک ایسے وسیلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مستقبل کی خلائی معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ خاص طور پر چاند کے قطبی علاقوں میں موجود برف جو پانی کا ذریعہ ہے بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اس پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کر کے نہ صرف انسانی بقا ءکو ممکن بنایا جا سکتا ہے بلکہ اسے راکٹ ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
آرٹیمس۔ تصویر:آئی این این
چاند جو کبھی محض رومانوی استعاروں، شاعری اور انسانی تجسس کا مرکز تھا آج ایک بار پھر عالمی سیاست، معیشت اور سائنس کے سنگم پر کھڑا نظر آتا ہے۔ نصف صدی قبل جب امریکہ نے اپولو مشن کے ذریعے انسان کو پہلی بار چاند پر اتارا تھا تو یہ کامیابی سرد جنگ کے تناظر میں ایک سیاسی اور نظریاتی فتح کے طور پر دیکھی گئی تھی مگر اب جو نئی دوڑ شروع ہوئی ہے وہ پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ، کثیر جہتی اور دور رس نتائج کی حامل ہے۔آرٹیمس پروگرام اسی نئی دوڑ کا مرکزی کردار ہے۔ یکم اپریل کو شروع ہونے والا آرٹیمسٹو مشن اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس میں چار خلا باز چاند کے گرد ایک طویل سفر پر روانہ ہوئے۔ یہ مشن اگرچہ چاند پر اترنے کے لئےنہیں ہے لیکن اس کا مقصد مستقبل میں ہونے والی انسانی لینڈنگ کے لئے تمام ضروری ٹیکنالوجیز، سسٹمز اور انسانی صلاحیتوں کو جانچنا ہے۔ یہ ایک طرح سے اُس بڑے خواب کی ابتدائی مشق ہے جس کے تحت انسان دوبارہ چاند پر قدم رکھنے اور وہاں اپنی مستقل موجودگی قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔یہاں ایک اہم تبدیلی یہ ہے کہ اس بار چاند تک پہنچنے کی دوڑ صرف اہم ممالک تک محدود نہیں رہی۔ نجی کمپنیاں، بین الاقوامی اتحاد اور مختلف خلائی ایجنسیاں اس میں شریک ہیں۔ امریکہ کی قیادت میں چلنے والا آرٹیمس پروگرام نہ صرف کئی ممالک کی شراکت سے آگے بڑھ رہا ہے بلکہ اس میں نجی شعبے کا کردار بھی کلیدی ہے۔ اس کے برعکس چین اور روس اپنی علاحدہ حکمت عملی کے تحت چاند پر تحقیق اور ممکنہ بیس کے قیام کے منصوبوں پر کام کر رہے ہیں۔یہ مقابلہ محض سائنسی نہیں بلکہ اس کے پس پشت معاشی اور جغرافیائی سیاسی مفادات بھی کارفرما ہیں۔
چاند کو اب ایک ایسے وسیلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو مستقبل کی خلائی معیشت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ خاص طور پر چاند کے قطبی علاقوں میں موجود برف جو پانی کا ذریعہ ہے بے حد اہمیت رکھتی ہے۔ اس پانی کو ہائیڈروجن اور آکسیجن میں تقسیم کر کے نہ صرف انسانی بقا ءکو ممکن بنایا جا سکتا ہے بلکہ اسے راکٹ ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔اگر یہ منصوبے کامیاب ہو جاتے ہیں، تو چاند ایک ایسے اسپیس ہب میں تبدیل ہو سکتا ہے جہاں سے مریخ اور دیگر سیاروں کی طرف مشن روانہ کئےجا سکیں گے۔ اس کے علاوہ، چاند کی سطح پر موجود معدنیات خصوصاً ریئر ارتھ عناصر زمین کی جدید ٹیکنالوجی کے لئے نہایت اہم ہیں۔
ہیلیم ۳؍ جیسا نایاب عنصر جو زمین پر تقریباً ناپید ہے، مستقبل میں صاف توانائی کے انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔یہ تمام امکانات اس دوڑ کو ایک نئی شدت دیتے ہیں۔ چین، جو تیزی سے خلائی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو بڑھا رہا ہے، نہ صرف چاند کے دور دراز حصے سے نمونے واپس لا چکا ہے بلکہ وہ جلد اپنے خلا بازوں کو چاند پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ روس کے ساتھ اس کی شراکت داری بھی اس سمت میں ایک اہم قدم ہے، جس کے تحت وہ چاند پر ایک مستقل تحقیقی اسٹیشن قائم کرنا چاہتے ہیں۔امریکہ اور اس کے اتحادی اس پیش رفت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے خدشات یہ ہیں کہ اگر چین چاند پر سبقت لے گیا تو وہ وہاں کے اہم علاقوں اور وسائل پر عملی کنٹرول حاصل کر سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بین الاقوامی قوانین کی نئی تشریحات سامنے آ سکتی ہیں، جو خلائی وسائل کی تقسیم کو متاثر کریں گی۔یہاں ایک اور اہم پہلو قانونی خلا کا ہے۔ خلائی قوانین، جیسے کہ آؤٹر اسپیس ٹریٹی، اس وقت بنائے گئے تھے جب چاند پر مستقل موجودگی کا تصور محض ایک خیال تھا۔ آج جب یہ حقیقت کے قریب ہوتا جا رہا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا موجودہ قوانین اس نئی صورتحال سے نمٹنے کے لئے کافی ہیں؟ یا پھر دنیا کو نئے اصول و ضوابط وضع کرنے ہوں گے؟ چاند کے جنوبی قطب کو اس دوڑ میں خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ وہاں پانی کے ذخائر موجود ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ مگر یہ علاقے محدود ہیں اور یہی کمی اس مقابلے کو مزید شدید بنا رہی ہے۔ جو ملک یا اتحاد پہلے وہاں پہنچے گا وہی ان وسائل تک ترجیحی رسائی حاصل کر سکتا ہے۔تاہم، اس ساری دوڑ کے درمیان کئی غیر یقینی پہلو بھی موجود ہیں۔
سب سے بڑا سوال معاشی طور پر سود مندہونے کا ہے ۔ کیا واقعی چاند سے وسائل نکالنا اور انہیں زمین یا خلاء میں استعمال کرنا معاشی طور پر فائدہ مند ہوگا؟ فی الحال اس کا کوئی واضح جواب موجود نہیں ہے۔ اسی طرح چاند پر فوجی موجودگی یا برتری کا تصور بھی ابھی تک زیادہ تر نظریاتی ہے، عملی نہیں۔اس کے باوجود تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ایسی بڑی سائنسی مہمات اکثر غیر متوقع فوائد کو جنم دیتی ہیں۔ اپولو پروگرام کے نتیجے میں جو ٹیکنالوجیز سامنے آئیں، انہوں نے نہ صرف خلائی تحقیق بلکہ روزمرہ زندگی کو بھی بدل دیا۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی، میڈیکل آلات اور مواصلاتی نظام سب نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ یہی امید آرٹیمس پروگرام سے بھی وابستہ ہے۔اس پورے منظرنامے میں ہندوستان کا کردار بھی قابلِ غور ہے۔ حالیہ برسوں میں ہندوستان نے خلائی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اب اسے ایک ابھرتی ہوئی خلائی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ چاند پر کامیاب مشن نے اس کی ساکھ کو مضبوط کیا ہے اور مستقبل میں انسانی مشن کے حوالے سے بھی منصوبہ بندی جاری ہے۔تاہم عالمی سطح پر جاری اس تیز رفتار دوڑ کے مقابلے میں ہندوستان کو اپنی رفتار مزید بڑھانے کی ضرورت ہے۔
سرمایہ کاری میں اضافہ، نجی شعبے کی شمولیت اور بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینا ایسے عوامل ہیں جو اسے اس میدان میں ایک مضبوط کھلاڑی بنا سکتے ہیں۔ آخرکار چاند کی یہ نئی دوڑ صرف خلائی تحقیق کا معاملہ نہیںبلکہ یہ طاقت، وسائل اور مستقبل کی عالمی قیادت کی جنگ ہے۔ یہ وہ میدان ہے جہاں آنے والے عشروں میں دنیا کی سمت کا تعین ہو سکتا ہے۔