Inquilab Logo Happiest Places to Work

بدل چکا ہے زمانہ بدلئے اپنا طریق

Updated: June 06, 2026, 1:39 PM IST | Shahid Latif | mumbai

آج کے دور میں بچوں کی تربیت روایتی اسلوب سے بڑھ کر بہت کچھ چاہتی ہے۔ والدین کو بیدار ہونا ہوگا۔ اُن کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کی صلاحیتوں کو پہچانیں اور اسی اعتبار سے اُن کی رہنمائی پر توجہ دیں۔ یہ سلسلہ جتنی جلد شروع ہو اُتنا اچھا ہے۔

INN
آئی این این
اِس مضمون کے تیسرے کالم میں ، نیچے کی طرف، راؤل کی تصویر ہے۔ کوچی (کیرلا) کے اس نوعمر کا پورا نام راؤل جان جوزف ہے۔ عمر ۱۶؍ سال ہے مگر اس کا حقیقی تعارف کچھ اس طرح ہوسکتا ہے: بلا کی ذہانت اور مصنوعی ذہانت میں  بلا کی دسترس۔ اس نے اپنا روبوٹ ۱۲؍ سال کی عمر میں  بنا لیا تھا۔ اے آئی ریالم ٹیکنالوجیز نامی کمپنی اُسی نے قائم کی جو اے آئی اور آٹومیشن ٹولس بناتی ہے۔ اس کے والد اس کمپنی میں  ملازم ہیں  جن کیلئے یہ تحقیر نہیں  اعزاز ہے۔ راؤل کو پُروقار جلسوں  میں  اظہارِ خیال کیلئے بلایا جاتا ہے۔ نہایت کم عمری میں  اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو غطریس سے ملاقات کرلینے والے راؤل کی بابت بتایا جاتا ہے کہ اس نے کم و بیش ڈیڑھ لاکھ طلبہ کو اے آئی کی ٹریننگ دی ہے۔ اگر یہ سب عام نہیں ، خاص باتیں  ہیں  تو ان سے بھی زیادہ خاص بات سن لیجئے کہ اس نے اے آئی سے متعلق اب تک جتنا علم حاصل کیا، یو ٹیوب جیسے آن لائن پلیٹ فارمس سے ذاتی دلچسپی اور محنت کے ذریعہ حاصل کیا ہے۔
فرض کرلیجئے مَیں  راؤل کو نہیں  جانتا ہوں  اور وہ اپنے والدین کے ساتھ میرے گھر آئے،  اُس کے والدین میرے اہل خانہ سے سے گفتگو میں  مصروف ہوں  اور مَیں  مسلسل مشاہدہ کروں  کہ راؤل، جو مصنوعی ذہانت پر قدرت رکھنے والی فطری ذہانت ہے، موبائل کے اسکرین سے نظریں  ہٹانے کو تیار نہیں  ہے تو اس کے بارے میں  میری رائے اچھی نہیں  ہوگی۔ مَیں  اس مغالطے میں  رہوں  گا کہ وہ عام بچوں  اور نوعمروں  کی طرح ویڈیو گیم کھیل رہا ہے۔ اس میں  میرا قصور نہیں  ہے۔مجھے یہ مغالطہ اس لئے ہوگا کہ معاشرہ کے عام بچے اور نوعمر یہی کرتے ہیں ۔ والدین اُنہیں  روکتے ٹوکتے نہیں  ہیں  اس لئے وہ ویڈیو گیم کھیلتے کھیلتے نہ صرف اپنی بینائی خراب کرتے ہیں  بلکہ اپنا ذہن بھی منتشر کرتے ہیں ۔ راؤل اس لئے راؤل بنا کہ اس کے والدین نے اُس پر محنت کی، اس کی رہنمائی جیسی رہنمائی کی۔ راؤل کی تقریر سنئے، وہ اپنی کامیابی کا سہرا والدین ہی کے سر باندھتا ہے اور اُن کے ساتھ یو ٹیوب جیسے پلیٹ فارم کا مرہون احسان ہے جن سے اُس نے بہت کچھ سیکھا اور جو اس کے استاد کا درجہ رکھتے ہیں ۔ 
اب غور کیجئے موبائل یا کمپیوٹر یہاں  بھی ہے اور وہاں  بھی۔مگر یہاں  اُن کے استعمال سے نقصان ہورہا ہے۔ وہاں  اُن کے استعمال سے نئی دُنیا خلق ہورہی ہے جو مصنوعی ہونے کے باوجود کام کی ہے۔ اس لئے کام کی ہے کہ کام آرہی ہے۔ کسی نے سوچا بھی نہیں  تھا کہ اے آئی عوامی زندگی میں  اس طرح داخل ہوجائے گا کہ خبر تک نہ ہوگی۔ عالم یہ ہے کہ جو شخص اے آئی سے واقف نہیں  وہ بھی اس سے استفادہ کررہا ہے۔ جب یہ صورت حال ہو اور یہ بھی طے ہو کہ اے آئی کی حکمرانی ابھی کافی عرصہ تک برقرار رہے گی تو یہ فیصلہ والدین کو کرنا چاہئے کہ وہ اپنے بچوں  کیلئے کیا پسند کرتے ہیں ، حکمرانی  یا محکومی؟
راؤل کے بارے میں  جو کچھ بھی دستیاب ہے وہ تکنالوجی سے متعلق اس کے رجحان اور اس کے کارناموں  کی تفصیل ہے۔ گھریلو حالات اور اس کی پرورش وغیرہ کے بارے میں  تحقیق کے باوجود کچھ نہیں  مل سکا مگر گمان غالب ہے کہ اس نے وہ سب نہیں  کیا جو عام بچے کرتے ہیں ۔ وہ دوستوں  کے ساتھ گھومنے پھرنے سے باز رہا، اس نے ہم جماعتوں  کی سالگرہ کی پارٹیوں  میں  شرکت نہیں  کی، چاچا، ماما، پھوپھا اور دیگر کے بچوں  کی شادیوں  میں  کئی کئی دن صرف نہیں  کئے  وغیرہ۔ راؤل اپنے مقصد سے وابستہ رہا اور اس کے والدین اس کے ذوق کی آبیاری کا حق ادا کرتے رہے جس کا اعتراف اُس نے ہر جگہ کیا ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ آگ دونوں  طرف برابر لگی ہو تب ہی سونا پہلے نکھرتا ہے پھر کندن بنتا ہے۔ آج کل کے پڑھاکو  بچوں   کے چہروں  پر اتنی سنجیدگی طاری رہتی ہے کہ ایسا لگتا ہے بھول کر بھی ہنستے مسکراتے نہ ہونگے۔ راؤل خوب ہنستا بولتا ہے، اتنا کہ پرانے لوگ اسے ہنسوڑ کہیں  گے۔ اس کا ہنسنا بولنا اُسے توانائی عطا کرتا ہے اور ہنس بول کر وہ لوگوں  کے دلوں  میں  جگہ بناتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں  بچے کو بچہ سمجھنے کا رواج اور مزاج اب تک ختم نہیں  ہوا ہے جبکہ بچوں  اور نوعمروں  کی ذہانت اور صلاحیت اپنا لوہا خوب منوا رہی ہے۔ سی بی ایس ای کے اُن تین طالب علموں  ہی کو دیکھ لیجئے جن میں  سارتھک سدھانت نے بورڈ کے ناقص نظام کی پول کھول کر سب کو انگشت بدنداں  کردیا۔ دوسرا طالب علم ویدانت سریواستو ہے جس نے سب سے پہلے سوشل میڈیا خصوصاً ایکس پر جوابی پرچوں  کی اسکیننگ کی خامیوں  کا پردہ فاش کیا۔ تیسرا طالب علم نسرگ ادھیکاری ہے جس نے او ایس ایم سے متعلق پورٹل میں  حفاظتی خامیوں  کی نشاندہی کرکے اچھے اچھوں  کو حیران کردیا۔ آج اِن تین طالب علموں  کے بارے میں  کسی سے پوچھ لیجئے کہ کیا وہ انہیں  جانتا ہے ؟ جواب اثبات میں  ملے گا۔ سوشل میڈیا پر ان کے انٹرویوز شائع ہورہے ہیں ، اخبارات میں  ان کی جرأت اور ذہانت کے چرچے ہیں ۔ حال ہی میں  سدھانت کو کرن تھاپر نے اپنے شو میں  مدعو کیا جن کے انٹرویوز، دی وائر پر لاکھوں  لوگ دیکھتے ہیں ۔
 
 
ان مثالوں  اور حوالوں  کے ذریعہ کہنا یہ مقصود ہے کہ گھر کے بچوں  کو بچہ سمجھنا اور اس پرانے رجحان کا حامل رہنا کہ جو بھی کرنا ہے وہ بڑے ہوکر کرینگے، اُن کی صلاحیتوں  کا انکار ہے۔ والدین کی ذمہ داری صرف کھلانا پلانا، تعلیمی خرچ دینا، اُن کی فرمائش پوری کرنا وغیرہ ہی نہیں  ہے۔ اس سے کہیں  زیادہ بڑھ کر اُن کی ذمہ داری یہ ہے کہ جتنی جلد ممکن ہو اُن کی صلاحیتوں  کو سمجھیں  اور اُن پر محنت کریں ۔ اگر اتنی استطاعت نہیں  ہے تو آس پاس کے جو لوگ نیز اساتذہ اس کارخیر میں  مددگار ہوسکتے ہیں  اُن کی مدد لیں ۔ ضرب المثل ’’پوت کے پاؤں  پالنے میں ‘‘ کیوں  بنی؟ اسلئے کہ ماضی میں ، نہایت کم عمری میں  بچے کی صلاحیت کو پہچان لیا جاتا تھا۔ اب ہمیں  ضرب الامثال تو یاد نہیں  رہیں ، ہم نے ان میں  موجود حکمت و دانائی کی باتیں  بھی فراموش کردیں ۔ کون جانتا ہے کہ ایک راؤل آپ کے گھر میں  بھی ہو!  وہ خود تو نہیں  کہے گا کہ مَیں  راؤل ہوں ، یہ تو والدین کو پہچاننا ہوگا جو لاڈ پیار تو خوب کرتے ہیں ،اس سے زیادہ اہم کام نہیں  کرتے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK