Inquilab Logo Happiest Places to Work

سی جے پی مظاہرہ؛ یہ ہمارے مستقبل کی لڑائی ہے: ریپیڈو ڈرائیور

Updated: July 21, 2026, 10:08 PM IST | New Delhi

دہلی کے جنتر منتر میں جاری CJP احتجاج کے دوران ایک ریپیڈو (Rapido) ڈرائیور کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ ویڈیو میں ڈرائیور کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج میں شریک ہونے والوں کو مفت یا ترجیحی بنیاد پر منزل تک پہنچا رہا ہے، لیکن احتجاج کی مخالفت کرنے والوں کو اپنی سواری نہیں دے گا، کیونکہ یہ ’’ہمارے اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی لڑائی‘‘ ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

دہلی کے جنتر منتر میں جاری CJP (Cockroach Janata Party) کی احتجاجی تحریک کے درمیان ایک ریپیڈو ڈرائیور کا ویڈیو بیان سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ انسٹاگرام پر شیئر کئے گئے ویڈیو میں ایک خاتون کنٹینٹ کریئیٹر اپنے ریپیڈو ڈرائیور سے گفتگو کرتی نظر آتی ہیں، جس دوران ڈرائیور اپنے احتجاج سے متعلق خیالات کھل کر بیان کرتا ہے۔ ویڈیو میں خاتون ڈرائیور سے پوچھتی ہیں کہ وہ اب تک جنتر منتر کتنے لوگوں کو چھوڑ چکا ہے۔ اس پر ڈرائیور جواب دیتا ہے کہ وہ مظاہرین کو مسلسل احتجاجی مقام تک پہنچا رہا ہے۔ جب خاتون اس سے سوال کرتی ہیں کہ اگر کوئی شخص اس تحریک کی مخالفت کرتا ہو تو کیا وہ اسے بھی سواری دے گا، تو ڈرائیور بلا جھجک جواب دیتا ہے، ’’نہیں، ایسے لوگوں کو میں نہیں چھوڑوں گا۔ یہ صرف احتجاج نہیں، ہمارے اور ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کی لڑائی ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: دہلی احتجاج: ملکی اخبارات میں پولیس کریک ڈاؤن نمایاں، مظاہرین کا مؤقف محدود

یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آئیں۔ ایک طبقے نے ڈرائیور کے جذبے اور اپنے نظریے پر قائم رہنے کی تعریف کی اور اسے نوجوانوں کے مسائل سے وابستگی کی مثال قرار دیا۔ دوسری جانب متعدد صارفین نے کہا کہ ایک ٹیکسی یا بائیک ٹیکسی ڈرائیور کو اپنی ذاتی سیاسی یا سماجی رائے کی بنیاد پر مسافروں میں امتیاز نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ پیشہ ورانہ خدمات ہر شہری کو یکساں طور پر ملنی چاہئیں۔ 
یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دہلی میں CJP کی ’’سنسد چلو‘‘ تحریک مسلسل خبروں میں ہے۔ احتجاج کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں، متعدد زخمیوں، ایف آئی آر کے اندراج اور حکومت و احتجاجی قیادت کے درمیان مذاکرات جیسے واقعات نے اس تحریک کو قومی سطح پر توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اسی پس منظر میں عام شہریوں کے ردعمل، خاص طور پر اس ریپیڈو ڈرائیور جیسے واقعات، سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کیے جا رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: مَیں آپ کی حفاظت نہ کر سکا: ابھیجیت دِپکے نے زخمی طلبہ سے معافی مانگی

اگرچہ اس ڈرائیور کے بیان نے انٹرنیٹ پر لاکھوں افراد کی توجہ حاصل کی ہے، تاہم اس واقعے نے ایک اہم سوال بھی کھڑا کر دیا ہے کہ کیا عوامی خدمات فراہم کرنے والوں کو اپنے ذاتی نظریات کی بنیاد پر گاہکوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرنا چاہیے، یا پیشہ ورانہ ذمہ داری ہر صورت غیر جانبدار رہنے کا تقاضا کرتی ہے۔ یہی بحث اس وقت سوشل میڈیا پر زور و شور سے جاری ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK