• Sat, 07 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہی خواہی اسی میں ہے کہ بدخواہوں کو پہچانیں!

Updated: February 07, 2026, 1:45 PM IST | Shahid Latif | mumbai

موبائل بُرا نہیں اگر اس کا استعمال صحیح ہے۔ سوشل میڈیا بُرا نہیں اگر اس سے نقصان کے بجائے فائدہ لیا جائے۔ نوعمروں کو موبائل دِلوانے والے والدین کو بچوں پر نظر رکھنی چاہئے، بعض ایپ جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں

INN
آئی این این
غازی آباد کے لرزہ خیز سانحہ کو ذہن میں   رکھئے اور یہ سطریں   پڑھئے:
تربیت ِ اطفال تین طرح کی ہوتی ہے۔ پہلی یہ کہ بچوں   سے کہا جائے کہ یہ کیجئے۔ جب ایسا کہا جاتا ہے تو اُن کی دلچسپی کم ہوجاتی ہے اور وہ اُس پر زیادہ دھیان نہیں   دیتے۔ دوسری یہ کہ اُن سے کہا جائے کہ یہ مت کیجئے۔ منع کرنے کی صورت میں   اُن کا تجسس بڑھ جاتا ہے اور وہ باز نہیں   رہ پاتے۔ یہ بچوں   کی فطرت ہے۔ 
تربیت ِ اطفال کا تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اُن کے ساتھ حکمت عملی سے پیش آیا جائے اور براہ راست کچھ کہنے سے گریز کرتے ہوئے کوئی ایسا انداز اپنایا جائے جس سے بات پہنچے اور حکم نہ لگے۔ عرصۂ دراز تک بچوں   کو قصے کہانیاں   سنانے یا متعلقہ کتابیں   فراہم کرنے کا رواج اسی طریقۂ تربیت کا حامل تھا۔ قصے کہانیوں   کی اثر پزیری سے کسی کو انکار نہیں   ہوسکتا۔ آج بھی ایسے لوگ مل جائینگے جو بتائیں   گے کہ کس قصے یا کہانی سے اُنہوں   نے کیا سیکھا اور پھر کس طرح وہ نصیحت اُن کیلئے مشعل راہ بنی اور کتنا فائدہ پہنچاتی رہی۔ قصے کہانیوں   کے اور بھی فوائد ہیں   جن پر روشنی ڈالنے کا یہاں   موقع نہیں   ہے مگر اتنا تو بتایا ہی جاسکتا ہے کہ اس سے اُن کی ذہنی و نفسیاتی رہنمائی بھی ہوتی تھی اور اُنہیں   تصوراتی و تخیلاتی توانائی بھی حاصل ہوتی تھی۔
فی زمانہ تربیت کا عنصر مفقود ہے۔والدین، جن پر تربیت لازم ہے، خود نہیں   جانتے کہ تربیت کیا ہے اور کس طرح ہوتی ہے۔ اس سے زیادہ افسوسناک یہ ہے کہ اُنہیں   علم ہی نہیں   ہے کہ یہ کسی اور کی نہیں   بلکہ اُن ہی کی ذمہ داری ہے۔ وجوہات جو بھی ہوں  ، حقیقت یہی ہے۔ ایسے میں   سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تربیت کا جو خانہ خالی ہے اُسے کون پُر کررہا ہے؟ گزشتہ چند دہائیوں   میں   یہ ہوتا رہا کہ یہ خانہ خالی ہی رہ جاتا تھا۔ کسی سے ملاقات پر محسوس ہو ہی جاتا تھا کہ تربیت کا خانہ خالی رہ گیا ہے۔ اب وہ خالی نہیں   رہتا، سوشل میڈیا اُسے پُر کرتا ہے جو بچوں   کا بہی خواہ ہرگز نہیں   ہے۔ ہو بھی نہیں   سکتا کیونکہ اس کے اپنے مفادات ہیں  ۔ بلاشبہ والدین کا بچوں   سے محبت کا جذبہ آج بھی قائم ہے مگر محبت کے تقاضوں   سے نہ تو واقفیت ہے نہ ہی اُن تقاضوں   کو پورا کیا جارہا ہے۔ آج کل کے  والدین بچوں   سے محبت ہی نہیں   کرتے، اپنے حق ملکیت کے بارے میں   بھی کافی حساس ہیں  ، انگریزی میں   کہیں   تو کہیں   گے کہ ’’پزیسیو‘‘ (Possessive) ہیں  ۔ اس جذبے کے تحت انسان بار بار یہ باور کراتا ہے کہ یہ میرے بچے ہیں  ۔ یہ اچھی بات ہے مگر ملکیت کا احساس اور ملکیت کے تقاضوں   کا پورا کیا جانا دو الگ باتیں   ہیں  ۔ جب تربیت نہ ہو تو ملکیت کس کام کی؟ جیسے مکان کی دیکھ بھال نہ ہو تو اس کی ملکیت کا کیا معنی؟
اس تناظر میں   سوچئے کہ بچے ملکیت تو والدین کی ہیں   مگر اُن کی تربیت کا خانہ سوشل میڈیا پُر کررہا ہے۔ اُنہیں   احکام کسی ایپ سے مل رہے ہیں   اور وہ خوشی خوشی اُن احکام کی تعمیل کررہے ہیں  ۔ والدین کو اس کی خبر نہیں   ہے۔ ہے بھی تو اُنہوں   نے اُس پر سنجیدگی سے غور نہیں   کیا ہے کہ اس کے کیا اثرات مرتب ہوں   گے۔ اُنہوں   نے اس کے اثرات کی سنگینی کے بارے میں   بھی نہیں   سوچا ہے۔ ملکیت کسی کی ہے اور مالک کوئی اور ہے۔ ایپ مالک ہے۔ کوئی اور ہو تو والدین  فوراً چیں   بہ جبیں   ہوتے ہیں   مثلاً اسکول میں   معلم یا معلمہ گوشمالی کرے یا سرزنش ہی کردے تو دوسرے دن اسکول پہنچ جاتے ہیں   کہ آپ نے میرے بیٹے یا بیٹی کو ایسا کیوں   کہا؟ آپ کون ہوتے ہیں   کہنے والے؟ والدین ہی کی وجہ سے محکمۂ تعلیم حرکت میں   آیا۔ اس نے آرڈر جاری کردیا کہ اساتذہ بچوں   کو مار نہیں   سکتے۔ مگر ایپ؟ والدین کو ایپ پر غصہ نہیں   آتا۔ وہ اُس سے لڑنا بھی نہیں   چاہتے۔ اُس سے لڑنے کی ضرورت سے آگاہ بھی نہیں   ہیں  ۔ پزیسیو ہونا اچھا ہے یا بُرا اس سے قطع نظر یہ کون سی پزیسیو نیس ہے کہ بچے کی بھلائی کیلئے ڈانٹنے والا معلم دشمن اور جو حقیقی دشمن ہے وہ دوست بنا ہوا ہے اور احکام دے  رہا ہے اور اُس کے احکام سنے بھی جارہے ہیں  ، اُن کی تعمیل بھی ہورہی ہے اور جن بچوں   (مثلاً غازی آباد کی تین بہنیں   جن کی عمر ۱۲، ۱۴؍ اور ۱۶؍ سال کی تھی) نے احکام سن کر اپنی زندگی تباہ کی یا اُسے ختم ہی کردیا اُن سے بھی سبق سیکھنے کی کوئی تیاری بھی دکھائی نہیں   دے رہی ہے؟ فریضہ ٔ تربیت ہی نہیں  ، فریضہ ٔ ولدیت بھی غائب ہے۔
 
 
کل تک ذمہ دار والدین بچوں   کوبُری صحبت کے خلاف متنبہ کرتے تھے۔ اب بُری صحبت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں  ، وہ اس طرح کہ اینڈرائیڈ فون خود دِلواتے ہیں   کہ بیٹا یہ لو۔ آج کے دور میں   سوشل میڈیا کے غلط استعمال اور گیمنگ سے بڑھ کر کوئی بُری صحبت نہیں   ہے۔ والدین نہیں   جانتے کہ بیٹا یا بیٹی اینڈرائڈ فون ہاتھ میں   لئے کیا دیکھ رہے ہیں  ، کیا سیکھ رہے ہیں  ، اُن کی جذباتی کیفیت کیا ہے، اُن کی نفسیاتی کیفیت کیا ہے، وہ کہاں   کی سیر کررہے ہیں  ۔ اُنہیں   تویہ بھی نہیں   معلوم کہ دُنیا کے نقشے پر کوریا کہاں   ہے مگر بچے کوریا کی سیر پر نکلے ہوئے ہیں  ۔ کوریا کا کریز اتنا بڑھ چکا ہے کہ بچے کورین غذا، کورین موسیقی، کورین ڈرامے، کورین لباس اور کورین زبان میں   غیر معمولی رغبت محسوس کررہے ہیں  ۔ کوریا کے شیدائی بچوں   نے اپنے لئے کورین نام بھی منتخب کرلئے ہیں  ۔ کورین ناموں   سے اُن کے ای میل آئی ڈی بنے ہوئے ہیں  ۔ غازی آباد کی تین بچیوں   کے والد نے اُن کی موت کے بعد کہا کہ گھر میں   کوریا کا تذکرہ سنتا تھا مگر کبھی سوچا نہیں   کہ ایسا ہوجائے گا۔ پولیس کی ابتدائی تحقیق سے بھی کوریائی ڈراموں   اور گیمز سے رغبت کی توثیق ہوئی ہے (بحوالہ: ’’فرسٹ پوسٹ‘‘ کی رپورٹ جس کی سرخی ہے: کس طرح کورین کلچر نے ہلاکت خیز جنون کی شکل اختیار کرلی ہے)۔
ٹیچر کو بچوں   کے مستقبل کی فکر ہے اور کورین ڈرامے یا گیمز اُن کا حال خراب کرکے مستقبل کو نابود کرنے پر تلے ہوئے ہیں  ۔ اس کے باوجود ٹیچر دشمن ہے اور کورین کلچر دوست۔ یہ وہ بچے ہیں   جن سے والدین نے دوستی نہیں   کی تو کسی اور نے دوستی کرلی اور دوستی کے ذریعہ نہ جانے کون سی دشمنی نکال لی۔ ان معصوموں   نے کس کا کیا بگاڑا تھا۔ اسی لئے والدین کو خبردار رہنا چاہئے۔ بچوں   کو ڈانٹے ڈپٹے بغیر موبائل سے اُن کی دوستی اور ذہنی و نفسیاتی کیفیت کو سمجھنا چاہئے اور اگر کوئی گڑبڑ نظر آئے تو فوراً سے پیشتر حالات کو سنبھالنا چاہئے۔ خدا کرے اُنہیں   عقل آئے اور وہ حق تربیت ادا کرنے لگ جائیں   ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK