Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار :اعلیٰ تعلیم اور’معینہ مدت اساتذہ‘

Updated: June 23, 2026, 1:56 PM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

بہار کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی ایک دیرینہ مسئلہ ہے جس نے تعلیمی معیار کو متاثر کیا ہے۔ ایسے میں فکسڈ ٹرم فیکلٹی کی تقرری ایک بروقت اور مثبت اقدام ہے جو تعلیمی نظام کو فوری سہارا فراہم کر سکتا ہے اورنوجوان اہل اور باصلاحیت اساتذہ کیلئے نئے مواقع پیدا کرے گا۔

College.Photo:INN
کالج۔ تصویر:آئی این این
بہار میں اعلیٰ تعلیم کا شعبہ ایک طویل عرصے سے متعدد چیلنجوں کا سامنا کر رہا ہے۔ ان چیلنجوں میں سب سے اہم مسئلہ جامعات اور کالجوں میں اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ ریاست کے بیشتر سرکاری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہزاروں تدریسی عہدے برسوں سے خالی پڑے ہیں، جس کے نتیجے میں نہ صرف تدریسی نظام متاثر ہوا ہے بلکہ تحقیق، تعلیمی معیار اور طلبہ کی مجموعی علمی ترقی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ایسے وقت میں ریاستی حکومت اور راج بھون کی جانب سے اساتذہ کی کمیوںکو دور کرنے کیلئے’’فکسڈ ٹرم فیکلٹی‘‘یعنی معینہ مدت اساتذہ کی تقرری کا منصوبہ ایک اہم اور قابلِ توجہ اقدام کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یہ فیصلہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کے ذریعے فوری طور پر ان تعلیمی اداروں میں تدریسی خلا کو پر کیا جا سکے گا جہاں مستقل اساتذہ کی کمی کے باعث تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ اگر اس منصوبے کو شفافیت، میرٹ اور دور اندیشی کے ساتھ نافذ کیا گیا تو یہ بہار کی اعلیٰ تعلیم کیلئے نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بہار کی بیشتر یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اساتذہ کی تعداد مطلوبہ معیار سے کافی کم ہے۔ کئی شعبوں میں منظور شدہ عہدوں کے مقابلے میں نصف سے بھی کم اساتذہ ہیں۔ بعض کالجوں میں تو  ایک ہی استاد کئی مضامین یا متعدد کلاسوں کی ذمہ داری نبھانے پر مجبور ہے۔اساتذہ کی کمی کے باعث تعلیمی معیار میں گراوٹ آئی ہے۔ طلبہ کو مطلوبہ رہنمائی نہیں ملتی،  تحقیقی سرگرمیاں محدود اور نصاب کی تکمیل متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہار سے ہر نئے تعلیمی سیشن کے آغاز میں ہزاروں طلبہ دوسری ریاستوں کا رخ کرتے ہیں۔ نئی قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کے نفاذ کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ اس کے تحت بین الشعبہ جاتی تعلیم، تحقیق اور اختراعی تدریس پر زور دیا گیا ہے، جس کیلئے  مناسب تعداد میں اساتذہ کا ہونا ناگزیر ہے۔
فکسڈ ٹرم فیکلٹی سے مراد ایسے اساتذہ ہیں جنہیں ایک معینہ مدت کیلئے مقرر کیا جائیگا۔ یہ تقرری ایک مخصوص مدت، مثلاً ایک سال، دو سال یا اس سے زیادہ عرصے کے لیے کی جائے گی۔ مدت مکمل ہونے پر ادارہ ضرورت کے مطابق معاہدہ کی تجدید کر سکتا ہے یا نئی تقرریاں کر سکتا ہے۔اس سلسلے میں راج بھون، پٹنہ جسے اب لوک بھون کہا جاتاہے،  نے ۱۵؍ جون ۲۰۲۶ء کو ایک ڈرافٹ، محکمہ ٔ  اعلیٰ تعلیم  حکومتِ بہار کو بھیجا ہے کہ جلد سے جلد قانونی کارروائی کر کے اس کو منظور کیا جائے تاکہ سالِ رواں کے تعلیمی سیشن یعنی جولائی سے کسی طرح کی دشواری پیدا نہ ہو۔
 
 
ہندوستان کی متعدد مرکزی اور ریاستی جامعات میں  معاہداتی بنیادوں پر اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی رہی ہیں۔ بہار میں اس نظام کا نفاذ اس لئے اہم ہے کہ مستقل تقرریوں کے طویل اور پیچیدہ عمل کے دوران تعلیمی اداروں کو فوری طور پر قابل اساتذہ دستیاب ہو سکیں گے۔سب سے پہلی بات یہ کہ اس کے ذریعے تدریسی عمل فوری طور پر مضبوط ہوگا۔ جن شعبوں میں اساتذہ کی شدید قلت ہے وہاں طلبہ کو باقاعدہ کلاسیں میسر آئیں گی اور نصاب بروقت مکمل ہو سکے گا۔ دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ نوجوان اور باصلاحیت محققین کو تدریسی میدان میں آنے کا موقع ملے گا۔ ہر سال بڑی تعداد میں پی ایچ ڈی اور نیٹ کامیاب اُمیدوار روزگار کے منتظر رہتے ہیں۔ فکسڈ ٹرم تقرری  ان کے لئے عملی تجربے اور تدریسی خدمات کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔ تیسرا فائدہ یہ ہے کہ یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تحقیقی ماحول بہتر ہوگا۔ جب تدریسی بوجھ مناسب انداز میں تقسیم ہوگا تو اساتذہ کو تحقیق اور علمی سرگرمیوں کے لیے بھی وقت مل سکے گا۔
 
 
قومی تعلیمی پالیسی۲۰۲۰ء نے اعلیٰ تعلیم میں معیار، تحقیق اور اختراع کو خصوصی اہمیت دی ہے۔ اس پالیسی کے مطابق جامعات کو عالمی معیار کے تعلیمی مراکز میں تبدیل کرنا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ مقصد تب تک پورا نہیں ہوسکتا جب تک اداروں میں مطلوبہ تعداد میں اساتذہ موجود نہ ہوں۔  اگرچہ اس منصوبے کے متعدد فوائد ہیں، تاہم اس کے ساتھ چند خدشات بھی وابستہ ہیں جنہیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔سب سے بڑا خدشہ یہ ہے کہ کہیں یہ نظام مستقل تقرریوں کا متبادل نہ بن جائے۔ تعلیمی اداروں کی حقیقی ضرورت مستقل اور طویل مدتی اساتذہ ہیں۔ اگر حکومت نے صرف معاہداتی تقرریوں پر انحصار کیا تو اس سے تعلیمی استحکام متاثر ہو سکتا ہے۔ دوسرا مسئلہ ملازمت کے تحفظ کا ہے۔ فکسڈ ٹرم فیکلٹی کے اساتذہ مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار رہتے ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ ان کے حقوق اور مراعات کے تحفظ کیلئے واضح ضابطے وضع کئے جائیں۔تیسرا خدشہ شفافیت کا ہے۔ اگر تقرریاں میرٹ کے بجائے سفارش یا سیاسی مداخلت کی بنیاد پر ہوں تو کوئی مقصد پورا نہیں ہوگا۔ فکسڈ ٹرم فیکلٹی کے منصوبے کو کامیاب بنانے کیلئے چند بنیادی نکات پر عمل ضروری ہے۔اول، تقرریوں کا عمل مکمل طور پر میرٹ پر مبنی ہو۔ یہ اچھی بات ہے کہ اب پی ایچ ڈی کیلئے ۳۰؍نمبر کو کم کردیا گیاہے۔ جوامیدوارصرف پی ایچ ڈی ہوں گے انہیں اس کیلئے صرف ۱۰؍نمبر ملے گااور نیٹ، جے آر ایف کے ساتھ پی ایچ ڈی والے کو ۲۸؍ نمبر تک مل سکتے ہیں۔اس لئے اچھے اساتذہ کی تقرری کا مرحلہ طے ہو سکتاہے۔دوم، منتخب اساتذہ کو معقول تنخواہ اور دیگر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہ یکسوئی کے ساتھ تدریسی خدمات انجام دے سکیں۔ سوم، ان اساتذہ کی کارکردگی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور بہتر کارکردگی دکھانے والوں کو مستقبل میں مستقل تقرریوں میں ترجیح دی جائے۔چہارم، حکومت مستقل اساتذہ کی بھرتی بھی جاری رکھے کیونکہ فکسڈ ٹرم تقرریاں مستقل حل نہیں ہیں۔
بہار میں حالیہ برسوں میں راج بھون اور ریاستی سرکار نے اعلیٰ تعلیمی شعبے میں متعدد اصلاحی اقدام کئے ہیں۔ فکسڈ ٹرم فیکلٹی کا منصوبہ اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔تاہم اس کی کامیابی کا انحصار صرف تقرری پر نہیں، مؤثر نگرانی، تربیت اور تعلیمی منصوبہ بندی پر ہے۔

 

bihar patna Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK