زیر نظر مضمون میں آپ کو اس سوال کا جواب مل جائیگا جو زیر بحث پارٹی کے ماضی و حال کے تناظر میں تو ہے ہی ، دلائل کے ساتھ بھی ہے۔
ملک میں ایک طرف تو کئی پارٹیاں ہیں مثلاً ڈی ایم کے، اے آئی ڈی ایم کے، این سی، پی ڈی پی، ٹی ڈی پی، این سی پی، ٹی ایم سی، آئی این سی (انڈین نیشنل کانگریس)، جے ڈی (ایس)، جے ڈی (یو)، آر جے ڈی، ٹی آر ایس، سی پی ایم، سی پی آئی یا نئی پارٹی ٹی وی کے وغیرہ لیکن اگر آپ کی دلچسپی بنیادی طور پر ہندوستانی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو ٹارگیٹ کرنے والی پارٹی سے ہے تو وہ صرف ایک ہے، بی جے پی۔ اس کی ایک خصوصیت تو بیان ہوگئی کہ اس کا واحد ایجنڈا اقلیتوں کو ہدف بنانا ہے۔ دوسری خصوصیت اُن لوگوں کو متحد کرنا ہے جو اس ہدف پر یقین رکھنے والے اور امتیاز کرنے والے ہیں ۔
ایک حالیہ میڈیا بات چیت میں ، ایک تجزیہ کار نے اسی بات کو مختلف انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے بی جے پی کی اپیل کے بارے میں کہا کہ: ’’جو بھی دائیں بازو کا نظریہ رکھتا ہے اس کی پسندیدہ ایک ہی پارٹی (بی جے پی) ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف، اتنی پارٹیاں ہیں اور اتنا مقابلہ ہوتا ہے کہ ووٹ بٹ جاتا ہے۔‘‘ آئیے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ ایسا کیوں ہے، کیونکہ یہ سچ ہے کہ بی جے پی جو کچھ کرتی ہے اُس معاملے میں اُس کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔ ’دائیں بازو‘ کی اصطلاح کا معنی ہوتا ہے نفرت پر مبنی۔ آگے ہم اس کی وجہ دیکھیں گے۔ سب سے پہلے: یہ قبول کرنے کے بعد کہ بی جے پی کا کوئی حریف نہیں ہے، ہمیں یہ بھی قبول کرنا پڑے گا کہ وہ ایک سادہ اور آسان فارمولہ پیش کرتی ہے۔ فارمولہ یہ کہ ’’میں اقلیتوں سے نفرت کرتا ہوں ‘‘۔ اس فارمولہ کو سمجھنے کیلئے ووٹروں کو بی جے پی کا انتخابی منشور دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے کہ پارٹی کن موضوعات سے دلچسپی رکھتی ہے اور اس کا کیا نظریہ ہے۔ بی جے پی کی نظریاتی بنیاد اس کی اقلیت دشمنی ہے۔اگر کوئی ووٹر کسی ایسی پارٹی کو تلاش کررہا ہو جو اقلیتی دشمنی پر یقین رکھنے والی ہے، تو اس کے پاس بی جے پی کا ایک ہی آپشن ہے۔ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔
ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا بی جے پی کو کسی دوسری پارٹی سے مقابلہ نہیں کرنا پڑ سکتا جس کا موقف اقلیتوں سے زیادہ نفرت کرنا ہو؟ ایسا ممکن ہے۔ وہ اس لئے کہ خود بی جے پی میں ، جب جانشینی کا مسئلہ آئیگا تب یہ موقف بھی سامنے آئے گا۔ بی جے پی کے نظریئے میں اقلیتوں کو ناپسند کرنے سے لے کر اقلیتوں سے نفرت کرنے تک ہر درجہ اور زمرہ شامل ہے جس کے اندر موجود تمام جذبات قابل قبول ہیں ۔ یہ پہلی اور سب سے اہم وجہ ہے کہ بی جے پی جو کچھ کرتی ہے اس میں اس کا کوئی حریف نہیں ہے۔ وہ حقیقتاً اقلیت مخالف ہے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ دیگر پارٹیاں یا تو اقلیت دشمنی کو بالکل پسند نہیں کرتیں یا اسے کبھی کبھی اپناتی ہیں جس سے ظاہر ہوجاتا ہے کہ وہ پکی اقلیت مخالف نہیں ہیں ۔ کون نہیں جانتا کہ ملک میں بہت سی پارٹیاں فرقہ پرستی میں مبتلا ہیں لیکن فرقہ واریت ان کی سیاست یا ان کی شناخت کا بنیادی نکتہ نہیں ہے۔ بی جے پی واحد پارٹی نہیں ہے جس نے تقسیم اور نفرت سے فائدہ اٹھایا ہے لیکن یہ واحد پارٹی ہے جس نے اقلیت دشمنی کو اپنی شناخت بنایا ہے اور اس سے کبھی دور نہیں ہوئی ہے۔ اس کو جو کچھ بھی حاصل کرنا تھا وہ کرچکی ہے اس کے باوجود وہ اپنی روِش نہیں بدلتی۔ اس نے سفر کہاں سے شروع کیا تھا؟ سب سے پہلے، مسلمانوں کو بابری مسجد کا قبضہ اور دعویٰ ترک کرنا چاہئے۔ دوسرا، کشمیر کی آئینی حیثیت بدلنی چاہئے۔ تیسرا، مسلمانوں کو اپنا پرسنل لا چھوڑ دینا چاہئے۔ اس کے بعد کئی دیگر موضوعات مثلاً انہیں کہاں رہنا چاہئے، کہاں عبادت کرنا چاہئے، کیا پہننا چاہئے، کس سے شادی کرنی چاہئے وغیرہ۔
یہ فہرست مزید کتنی طویل ہوسکتی ہے اس کا اندازہ کسی کو نہیں ہے اور نہ ہی یہ فہرست کبھی ختم ہوسکتی ہے کیونکہ ہراساں کرنا ہی اس کا مقصد ہے اور اس مقصد کو بہر قیمت حاصل کرنا اس کا ایجنڈا۔ اس تعصب کو دائیں بازوکا نظریہ اور سیاست کہا جاتا ہے۔ قدامت پسندی، جیسا کہ سیاست میں عام طور پر سمجھا جاتا ہے، ایک طویل اور پرانی روایت کی حامل ہے۔ اسے تسلسل کی تلاش رہتی ہے۔ یہ نظریہ استحکام کی قدر کرتا ہے مگر بی جے پی، جو قدامت پسند ی کے ذیل میں آتی ہے، نئے آئیڈیاز کو بھی اپناتی ہے۔ مثلاً نوٹ بندی۔ یہ جدت پسندانہ آئیڈیا تھا مگر موجودہ حکومت نے اسے منظور کرلیا۔
علاوہ ازیں کوئی بھی من مانی، چھیڑ چھاڑ، نام بدلنا، کاٹنا اور تبدیل کرنا قدامت پسندانہ عمل نہیں ہے۔ یہاں دائیں بازو کی جو تصویر کشی کی گئی ہے وہ ایسا شدید تعصب ہے جو خود کو کسی اور چیز میں لپیٹے ہوئے ہے۔یہی وجہ ہے کہ کئی دہائیوں میں بی جے پی کے انتخابی منشوروں نے بہت سی چیزوں کے ساتھ تجربہ کیا، کئی نظریات اوڑھنے کی کوشش کی اور ہر بار کچھ اور اوڑھنے کا اس کا انداز ایسا ہے کہ لگتا ہے وہ کسی نظریہ کو اٹھاتی ہے اور پھینک دیتی ہے۔ وہ ۱۹۶۰ء اور ۱۹۷۰ء کے دہے میں سوشلسٹ تھی۔ واجپائی کے دور میں ، پارٹی نے اعلان کیا کہ وہ تمام ہندوستانیوں کی آمدنی اور گھر کے رقبہ و سائز کو محدود کرے گی مگر اس خیال کو ترک کر دیا گیا۔
پھر اس نے مطالبہ کیا کہ فیکٹریوں میں مشینوں کو مزدوروں کی جگہ لینے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ اس نے اپنا یہ مطالبہ بھی ترک کردیا۔ پھر پارٹی چاہتی تھی کہ کھیتوں میں ٹریکٹر کے بجائے بیلوں کا استعمال جاری رہے جیسا کہ قدیم دور سے چلا آرہا ہے۔ بعد میں اس نے یہ نظریہ بھی الگ رکھ دیا۔ ان میں سے کسی بھی چیز کو کسی وضاحت کے ساتھ نہیں اٹھایا گیا اور نہ ہی ترک کیا گیا، کیونکہ ووٹروں کو کوئی وضاحت درکار نہیں تھی، وہ لوگ (ووٹر) جو اس کی جانب ملتفت تھے وہ ان نظریات یا رجحانات کی وجہ سے نہیں تھے جو اوڑھے گئے تھے بلکہ وہ اُس سے محض اقلیت دشمنی کی وجہ سے وابستہ ہوئے۔
یہی وجہ ہے کہ ملک میں نظریۂ اقلیت دشمنی کی حامل ایک ہی پارٹی ہے جو بی جے پی کہلاتی ہے، کوئی دوسری نہ تو بی جے پی کہلا سکتی ہے نہ ہی آئندہ قائم ہوسکتی ہےیعنی اس پارٹی کو مستقبل میں بھی کوئی چیلنج نہیں دے پائے گا، اس کا کوئی مقابل نہیں ہوگا ۔