Inquilab Logo Happiest Places to Work

کچھ نہیں ہے مگر جذبۂ علم ہے، یہ بڑی بات ہے!

Updated: May 02, 2026, 1:54 PM IST | Shahid Latif | mumbai

اہل غزہ کے پاس کچھ نہیں ہے مگر علم کے حصول کا جذبہ ہے۔ وہ سب کچھ گنوا دینے کے باوجود جذبۂ علم سے سرشار ہیں۔ کون چھین سکتا ہے اُن سے یہ دولت جو اُنہیں دور تک لے جائیگی۔

INN
آئی این این
گزشتہ ہفتے اسی مضمون میں  غزہ کے ایک نامعلوم طالب علم کی تصوراتی روداد بیان کی گئی تھی۔ تصوراتی اس لئے کہ وہ نامعلوم ہے مگر جس نے بھی اُس کی تصویر (جو اس مضمون سے منسلک ہے) دیکھی،  متاثر ہوئے بغیر نہیں  رہ سکا۔ تصویر کیا تھی، دل میں  اُتر جانے والا تیر تھا۔ وہ اسکول کا بستہ پیٹھ پر رکھے جس سڑک سے گزر رہا ہے اس کی دونوں  جانب عمارتوں  کا ملبہ ہے۔ محسوس کیا جاسکتا ہے کہ چاروں  طرف تباہی و تاراجی ہے اس کے باوجود علم کی پیاس اُس کو کسی درس گاہ کی جانب بڑھنے پر مجبور کررہی ہے۔ جب اسکول ہی تباہ ہوچکے ہوں  تب کیسی پڑھائی؟ مگر اس نوعمر طالب علم کو کوئی شے روک نہیں  پارہی ہے۔ وہ بڑھتا جارہا ہے۔ کیا اس کا معنی یہ ہے کہ جب سب کچھ چھن جاتا ہے تب بھی کچھ نہ کچھ باقی رہتا ہے؟ 
ہوسکتا ہے اس طالب علم کے والدین انتقال کرچکے ہوں ۔ ہوسکتا ہے اس کا اسکول بھی سلامت نہ ہو۔ ہوسکتا ہے جو اساتذہ اُسے پڑھاتے تھے وہ داغ مفارقت دے چکے ہوں ۔ پھر بھی علم کی ایسی تڑپ، ایسی طلب؟ ہر اسٹوڈنٹ طالب (علم) کہلاتا ہے مگر کیا وہ طالب ہوتا ہے؟ اسکول میں  داخلہ لے لینا طالب علم ہونا نہیں  ہے۔ طلب کا حامل ہونا طالب علم ہونا ہے۔ اس کسوٹی پر یہ طالب علم پورا اُترتا دکھائی دیا تو ضروری معلوم ہوا کہ اس کے بارے میں  لکھا جائے تاکہ ہمارے معاشرہ کے وہ لوگ جو اپنے نونہالوں  کی پڑھائی لکھائی پر جتنی اور جیسی توجہ دینا چاہئے نہیں  دیتے، اُنہیں  یہ تصویر دکھائی جائے اور اس کے ذریعہ کوئی پیغام دیا جاسکے۔
اس طالب علم کے پاس دُنیوی وسائل نہیں  ہیں  مگر علم کی لگن ہے۔ شاید اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ دُنیوی وسائل پیدا کئے جاسکتے ہیں  اگر علم کے تقاضوں  کو پورا کرکے اپنی اہمیت کو منوایا جائے۔اگر اُس کے والدین بقید حیات ہوں  گے تو ممکن ہے اُنہوں  نے اُسے بتایا ہوگا کہ اگر مکان تہس نہس ہوچکا ہے تو اسکول جاؤ، مصیبت آن پڑی ہے تو اسکول جاؤ، حالات کے جبر سے نکلنا ہے تو اسکول جاؤ اور مسافت زیادہ ہے تب بھی اسکول جاؤ، کیونکہ اسکول ہی سے ترقی کی راہیں  نکلیں  گی اور تم وہ سب کچھ پا سکو گے جن کا پانا تمہارے لئے ضروری ہے۔ سوچئے کیا یہ لڑکا کسی دکان پر یومیہ اُجرت لے کر کام نہیں  کرسکتا تھا جیسا کہ ہمارے لڑکے اسکول چھوڑ کر دکانوں  پر لگ جاتے ہیں ؟ بالکل لگ سکتا تھا۔ کیا یہ لڑکا کوئی ایسی مصروفیت نہیں  اپنا سکتا تھا جس سے اُسے دو پیسے ملیں ؟ بالکل اپنا سکتا تھا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ حال کے اندھیروں  کی پروا کئے بغیر مستقبل کے اُجالوں  کو تلاش کرنے کیلئے نکلا ہےیہ جانے بغیر کہ منزل تک پہنچ پائے گا یا نہیں ؟ وجہ یہ یقین ہے کہ تعلیم کے بغیر جو منزل ملے گی وہ منزل نہیں  منزل کا دھوکہ ہوگا۔ ایسا سراب جس پر چشمہ ٔ آب کا گمان ہو۔
 
 
 
ایسا لگتا ہے کہ غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں  کی نئی نسل اس حقیقت سے واقف ہے اس لئے اُس کے دل میں  علم کی طلب ہے، تڑپ ہے۔ ۲۰۱۸ء میں  فلسطین کے مرکزی بیورو برائے شماریات کی رپورٹ میں  درج تھا کہ دُنیا کی سب سے زیادہ شرحِ خواندگی اہل فلسطین میں  ہے۔ رپورٹ میں  اہل فلسطین کے بارے میں  یہ بھی درج تھا کہ ’’یہ دُنیا کی سب سے زیادہ تعلیم یافتہ پناہ گزیں  قوم ہے‘‘ (دی بیسٹ ایجوکیٹیڈ رِفیوجیز)۔ ’’الجزیرہ‘‘ کی ایک رپورٹ، جو ۱۱؍ فروری ۲۶ء کو پوسٹ کی گئی، سے منکشف ہوتا ہے کہ غزہ کے لوگ، جو کئی قیامتوں  سے گزر چکے ہیں ، سب سے پہلے کسی چیز کی فکر کررہے ہیں  تو وہ تعلیم ہے۔ رپورٹ اس عنوان کے تحت شائع کی گئی ہے:
Young And Old Struggle To Get Thier Studies Back on Track in Gaza
یہ رپورٹ اس طرح شروع ہوتی ہے: ’’نیبال ابو اَرمانہ اپنے خیمے میں  بیٹھی ہے جہاں  وہ اپنے سات سالہ بیٹے محمد کو پڑھنا اور اعداد کو پہچاننا سکھا رہی ہے۔ نیبال (عمر ۳۸؍ سال) چھ بچوں  کی ماں  ہے۔ اس کے خیمے میں  ایل ای ڈی لیمپ کی بہت ہلکی روشنی ہے اس کے باوجود وہ اسی پر اکتفا کرکے پڑھاتی ہے۔ دو گھنٹے بعد ماں  اور بیٹا دونوں  کی آنکھیں  تھک جاتی ہیں ۔ یہ ہے غزہ میں  تعلیم کی صورت حال۔ عارضی مکانوں  میں  رہنے والے اہل غزہ میں  اکثریت نیبال جیسی ماؤں  کی ہے جو اپنے بچوں  کو حصول تعلیم سے محروم نہیں  رکھنا چاہتی ہیں ۔‘‘ نیبال کو افسوس ہے کہ’’ جنگ شروع ہونے سے پہلے اس کے بچوں  کا طے شدہ معمول تھا۔ وہ علی الصباح  اُٹھتے، اسکول جاتے، اسکول سے گھر آتے، دوپہر کا کھانا کھاتے، پھر کھیلنے جاتے، گھر آکر ہوم ورک کرتے اور رات میں  جلدی سوجاتے۔ یہ اُن کا ڈسپلن تھا جس سے وہ ہٹتے نہیں  تھے۔‘‘ مگر اب؟ ’’نیبال نے بتایا کہ ’’اب اُن کے معمولات میں  بڑا تغیر آچکا ہے، اُنہیں  پانی لانا پڑتا ہے، رفاہی اداروں  کے غذائی مراکز سے کھانا لانا پڑتا ہے اور ایسی اشیاء تلاش کرنی پڑتی ہیں  جنہیں  جلا کر کچھ پکایا جاسکے یا گرمی حاصل کی جاسکے۔‘‘ اس کے باوجود وہ حصول علم سے بیگانہ نہیں  ہیں ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینیوں  نے جان لیا ہے کہ اُس زہر کا تریاق تعلیم اور صرف تعلیم ہے جو مسلسل جارحیت کے سبب اُن کی زندگیوں  میں  بھر چکا ہے۔ اِس نکتے کو دسیوں  وسائل میسر ہونے کے با وصف  ہمارے معاشرہ کے بہت سے لوگ اب تک نہ سمجھ پائے مگر اہل غزہ خوب واقف ہیں  اسی لئے نیم تاریک خیمے میں  بھی جس چراغ کو وہ ہر ممکن طریقے سے روشن رکھتے ہیں  وہ جذبۂ حصول تعلیم کا چراغ ہے۔ 
ہمارے یہاں  اسکول میں  داخل کروا کر بچوں  کو اساتذہ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ والدین کی توجہ یا تو بالکل نہیں  ہوتی یا معمولی ہوتی ہے۔ اسی لئے، فلسطینیوں  میں  شرح خواندگی قابل ذکر ہے، ہندوستانی مسلمانوں  کی خواندگی اب تک قابل ذکر نہیں  بنی شاید اسلئے کہ جو تڑپ وہاں  ہے یہاں  نہیں  ہے، جو جذبہ وہاں  ہے یہاں  نہیں  ہے۔ اور شاید  اسلئے نہیں  ہے کہ ہمارے پاس مکان ہے، افراط غذا ہے، بچوں  کے داخلے کیلئے ضروری رقم ہے بلکہ طاقت نہیں  ہے تب بھی انگریزی میڈیم کا شوق پورا کرلیا جاتا ہے۔ ہم پر خدانخواستہ کوئی آفت آئی تو پتہ نہیں  تعلیم کی سدھ رہے گی بھی یا نہیں ۔ 
gaza strip Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK