Inquilab Logo Happiest Places to Work

جہیز کیلئے تشدداورمعاشرہ کی بے حسی

Updated: September 02, 2025, 1:39 PM IST | bharti mashara naath | Mumbai

جہیز سے متعلق اموات کے سال رواں میںبھی کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ اتر پردیش میں، ایک خاتون کو اس وقت زندہ جلا دیا گیا جب اس کا خاندان بارہا کئے جانے والے جہیز کے مطالبات پورا کرنے میں ناکام رہا۔ ایک خاتون تشدد میںجان کی بازی ہار گئی کیونکہ اس کے اعضاء گرم لوہےسے داغ دئیے گئےتھے۔

Photo: INN
تصویر:آئی این این

گریٹر نوئیڈا کی رہائشی ۲۶؍ سالہ نکی بھاٹی کو جہیز کیلئے اس کے سسرال والوں  کے ذریعے مبینہ جلا کر ماردینے کے واقعے نے ملک کو ہلاکررکھ دیا ہے۔اس کے ۶؍ سالہ بیٹے نے یہ واقعہ بیان کیا ہےجس کی بنیاد پرملک بھر کی سول سوسائٹی انصاف کا مطالبہ کررہی  ہےجبکہ قومی کمیشن برائے خواتین نے معاملے کااز خود نوٹس لیا ہے۔قومی راجدھانی خطے میں ایک خاتون کےساتھ اتنا بھیانک جرم قانون کے بے خوفی پرکئی مشکل سوال کھڑے کرتا ہے ۔یہ سچ ہےکہ حکومتوں  اور غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز ) نے ادھر کچھ برسوں  میں  اس سلسلے میں  بیداری لانے کا کام کیا ہےکہ جہیز کا مطالبہ ایک غیر سماجی اور کریہہ عمل ہے ، اس کے باوجود یہ لعنت آج بھی معصوم بچیوں  اور ان کےگھر والوں  کو خوفزدہ کئے ہوئے ہے اوربہتوں کی زندگیاں  اسی لعنت کے سبب برباد ہوچکی ہیں ۔
 نکی حالانکہ قومی راجدھانی خطے (این سی آر) میں مقیم تھی ، اس کے باوجودایسے کسی سسٹم تک اس کی رسائی نہیں تھی جہاں  اس کے مسائل سنے جا تے اوراسے سماجی تحفظ فراہم ہوتا ۔دہائیوں سے سماج کا رویہ کچھ ایسا ہوگیا ہےکہ جہیز سے متعلق تشدد کوتشدد سمجھا ہی نہیں جاتا یا اسے قابل تشویش خیال کیا بھی جاتا ہے تو بس برائے نام ۔ اسکے علاوہ متاثرہ اوراس کے گھروالوں کی اس پہلو سے بھی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے کہ وہ کہیں سے کوئی مدد یاتعاون حاصل کر سکیں ۔ مخصوص ذہنیت کے ایسے مرد آج بھی ہیں  جو عورتوں  کو  ستانااپنا حق سمجھتے ہیں اورشادی کے برسوں  بعد بھی جہیز کے مطالبے پر اڑے  رہتے ہیں ۔
 نکی کے والد نے حکومت سے مجرموں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔وہ کس کرب سے گزر رہے ہیں ،اس کا اندازہ نہیں   کیا جاسکتا لیکن ان کے الفاظ سماج کو جھنجھوڑنے کیلئے کافی ہیں  ۔ وہ کہتے ہیں ’’ میں نے اپنی بیٹیوں  کو تعلیم دی ۔نکی نے ڈی پی ایس میں  پڑھائی کی ۔بیٹیوں کوتعلیم دلانے اوران کی شادی پر اتنا خرچ کرنے سے کیا حاصل اگران کا اتنا درد ناک انجام ہو۔
  یہ صرف نکی کی کہانی نہیں  ہے۔۲۰۲۰ء میں  اوسطاً ہر روز ۱۹؍ سے زیادہ نوجوان شادی شدہ لڑکیاں  جہیز سے متعلق ہراسانی کے سبب جان گنوا بیٹھیں ۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق۲۰۱۷ء  تا ۲۰۲۲ءکی مدت میں  ہر سال ملک بھر میں  جہیز کی وجہ سے اموات کے اوسطاً۷؍ ہزار واقعات رپورٹ ہوئے۔قومی خواتین کمیشن کو ۲۰۲۴ء میں  مجموعی طور پر جو ۲۵۷۴۳؍  معاملات موصول ہوئےان میں  ۱۷؍ فیصد یعنی ۴۳۸۳؍ معاملات جہیز سے متعلق ہراسانی کے تھے ۔ (جبکہ ۲۴؍  فیصد یعنی ۶۲۳۷؍  معاملات کا تعلق گھریلو تشدد سے تھا)۔ جہیز کی وجہ سے اموات کی۲۹۲؍ شکایات تھیں  ۔ یہ اعدادوشمار حالانکہ ایک ادارے کے ہیں  لیکن کافی کچھ اندازوں  اور تخمینوں  پر بھی مبنی ہیں  کیونکہ جہیز اور گھریلو تشدد کے بہت سے معاملات پررپورٹ درج نہیں کی جاتی ۔
 جہیز سے متعلق اموات کے سال رواں  میں بھی کئی واقعات ہو چکے ہیں ۔ اتر پردیش میں ، ایک خاتون کو اس وقت زندہ جلا دیا گیا جب اس کا خاندان بارہا کئے جانے والے جہیز کے مطالبات پورا کرنے میں  ناکام رہا۔ ایک خاتون تشدد میں جان کی بازی ہار گئی کیونکہ اس کے اعضاء گرم لوہےسے داغ دئیے گئےتھے۔ چندی گڑھ میں  نوجوان دلہن نے جہیز کیلئے تشدد سے تنگ آ کر خودکشی کر لی۔
 جہیز سے متعلق معاملات میں  جنوبی ہندوستان کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے لیکن رواں  برس یہاں  بھی اموات ہوئی ہیں  ۔ تمل ناڈو میں  جہیز کیلئے ہراسانی کے سبب خواتین کی خودکشی کے دو واقعات رپورٹ ہوئے۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں  بھی اس لعنت کے نتیجےمیں  اموات ہوئی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ سخت قوانین کے باوجود ہندوستان میں یہ لعنت نہ صرف باقی ہے بلکہ پروان چڑھ رہی ہے ۔ موجودہ قانون سازی خواتین کو اس جہیز کی لعنت سے بچانے یا اس کا مطالبہ کرنے والوں  میں  خوف پیدا کرنے میں  ناکام رہی ہے۔
 ہندوستان میں  جہیز کی وجہ سے ہونے والی زیادہ تر اموات مشرقی اور شمالی ریاستوں  میں  سامنے آئی ہیں  ۔ مغربی بنگال، ادیشہ، بہار، جھارکھنڈ،  یوپی، ایم پی،راجستھان اور ہریانہ یعنی وسطی ہندوستان میں  ۲۰۱۷ء سے ۲۰۲۲ء کی مدت کے دوران جہیز کی وجہ سے موت کے جو معاملات درج کئے گئے ، ان کا تناسب ۸۰؍ فیصد ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ یہ وہ ریاستیں  ہیں  جہاں  ملک کی جنوبی اور مغربی ریاستوں  کے مقابلے میں  شرح خواندگی بھی کم ہے اوران کا شمار اقتصادی طورپر پسماندہ ریاستوں  میں  بھی ہوتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے : چونک اٹھا ہوں گلی کوچوں میں پانی دیکھ کر

 جہیز سے متعلق ہراسانی اوراموات کے معاملے میں  شہر بھی پیچھے نہیں  ہیں ۔ ۱۹؍ شہروں  کیلئے دستیاب این سی آر بی کے اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ ۲۰۱۷ء سے ۲۰۲۲ء کی مدت میں  جہیز کی وجہ سے ہونے والی اموات میں  سے ۳۰؍ فیصد معاملات دہلی میں  درج ہوئےتھے۔ دارالحکومت کے بعد کانپور، بنگلور، لکھنؤ اور پٹنہ کا نمبر تھا۔
 قانون سازی کی کارروائیاں  جن میں ۱۹۶۱ء میں لائے گئےجہیز پر پابندی کا قانون اور بھارتیہ نیا ئے سنہیتا(بی این ایس) کے کچھ حصے شامل ہیں ، ہمارے ملک کی بیٹیوں  کو بچانے یا انصاف فراہم کرنے میں  ناکام رہے ہیں ۔ این سی آر بی کے اعداد و شمارسےیہ اشارہ بھی ملتا ہےکہ جہیز سے متعلق مقدمات میں  مجرموں کو سزا دئیے جانےکی شرح بہت کم ہے۔ہر سال ٹرائل کیلئےبھیجے جانے والے تقریباً ۶۵۰۰؍ مقدمات میں  سے صرف ۱۰۰؍مقدمات میں  خاطیوں  کو سزاسنائی گئی ۔ باقی ماندہ ۹۰؍ فیصد سے زیادہ مقدمات ہنوز زیر التوا ہیں ۔ کیا ہمارا عدالتی نظام جہیز کی لعنت سے متاثرہ خواتین کو انصاف دلانے میں  ناکام ثابت نہیں ہوا؟
 جن لڑکیوں  اور خواتین کو جہیز کیلئے ہراساں  کیاجاتا ہے، ان کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جنہیں سماجی تحفظ کے نظام تک رسائی حاصل نہیں  ہے ۔بحیثیت خواتین، بچپن ہی سے ہماری تربیت ایسی کی جاتی ہے کہ ہمیں  اپنے غموں  اور صدموں  کو اپنے تک محدود رکھنا ہے،تاکہ اظہار پر معاشرہ ہمارا مذاق نہ اڑائے۔ یہاں  تک کہ والدین، بہت سے معاملات میں ، اپنی `شادی شدہ بیٹیوں  کو جب انہیں سسرال میں ظلم کا نشانہ بنایاجاتا ہے،تو وہ بیچارے مداخلت تک نہیں  کرسکتے اور نہ بچانے آتے ہیں  ۔ اس صورت میں  کسی ہیلپ لائن پر کال کرنا یا قانونی مدد حاصل کرنا پڑھی لکھی لڑکیوں  کے اختیار سے بھی باہرہوتا ہے کیونکہ انہیں  کہیں  سے حمایت نہیں  ملتی ۔
(بشکریہ این ڈی ٹی وی )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK