ڈاکٹرمختار احمد انصاری کی جس تقریر کا حوالہ سابقہ مضمون میں دیا گیا تھا اُسی تقریر کے مزید چند اقتباسات کے تعلق سے چند باتیں اس مضمون میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
EPAPER
Updated: August 04, 2025, 1:44 PM IST | sawar-u-huda | Mumbai
ڈاکٹرمختار احمد انصاری کی جس تقریر کا حوالہ سابقہ مضمون میں دیا گیا تھا اُسی تقریر کے مزید چند اقتباسات کے تعلق سے چند باتیں اس مضمون میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
پچھلے کالم میں ڈاکٹر مختار احمد انصاری کے ایک خطبے کی روشنی میں زبان، رسم خط، تہذیب اور سیاست کے تعلق سے اظہار خیال کیا گیا تھا۔ ۱۹۲۹ء میں ڈاکٹر انصاری نے آل کرناٹک ہندی پر چار سبھا میں یہ خطبہ پیش کیا تھا۔ خطبے کی چند اور باتیں اس کالم میں پیش کی جا رہی ہیں ۔ پہلے ڈاکٹر انصاری کی زندگی، اور قومی خدمات کے تعلق سے چند باتیں ملاحظہ کیجیے۔ ڈاکٹر مختار احمد انصاری ۲۸؍ دسمبر ۱۸۸۰ء کو غازی پور اتر پردیش میں پیدا ہوئے اور ۱۰؍ مئی ۱۹۳۶ء کو انتقال کیا۔ ابتدائی تعلیم غازی پور وکٹوریا اسکول سے حاصل کی۔ ان کا خاندان بعد کو حیدرآباد منتقل ہو گیا۔ انہوں نے مدراس میڈیکل کالج سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی۔ ایک اسکالرشپ پر وہ انگلینڈ چلے گئے۔ ۱۹۰۳ء میں ایم ڈی اور ایم ایس سی کی پُروقار ڈگریاں حاصل کیں اور ۱۹۱۰ء میں وطن واپس آ گئے ۔
ترکوں کی حمایت میں جو ایک طبی وفد ۱۰؍ دسمبر ۱۹۱۲ء کو ترکی گیا تھا اس کی قیادت ڈاکٹر انصاری نے کی تھی۔ ترکوں کے تئیں یہ ہندوستان کا نہایت ہی ہمدردانہ جذبہ تھا۔ ۲۴؍ فروری ۱۹۱۹ء کو ستیہ گرہ سبھا تشکیل دی گئی تو ڈاکٹر انصاری اس کے پہلے صدر بنائے گئے۔ یہی نہیں بلکہ ستیہ گرہ کی حلف لینے والوں میں پہلے شخص تھے۔ گاندھی جی سے ان کی خاص قربت تھی۔ آپ ۱۹۲۷ء میں کانگریس کے ۴۲؍ ویں صدر منتخب ہوئے۔انہوں نے قید و بند کی زندگی بھی گزاری۔تمام عمر کانگریس سے وابستہ رہے۔ان کی قومی اور تہذیبی زندگی کا ایک اہم حوالہ جامعہ کا قیام اور اس سے بھی وابستگی ہے۔ آپ ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۶ء تک جامعہ کے چانسلر رہے۔
جامعہ میں ان کے نام سے انصاری آڈیٹوریم اور ڈاکٹر انصاری ہیلتھ سینٹر ہے۔جامعہ ہی کے قبرستان میں آپ کو سپرد خاک کیا گیا تھا۔ یہ وہ حقائق ہیں جو ڈاکٹر انصاری کو قومی اور تہذیبی زندگی میں ایک اہم شخصیت کے طور پر متعارف کراتے ہیں ۔ میسور ہندی پرچار سبھا کی جس تقریر سے متعلق چند باتیں راقم نے گزشتہ ہفتے درج کی تھیں اُسی تقریر کے تعلق سے مزید چند باتیں آج قلمبند کی جارہی ہیں ۔ اس کی کئی اہم باتوں میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ انہوں نے ان لوگوں کو بطور خاص یاد کیا جن کی بے پناہ کاوشوں سے قومی زندگی روشن اور پائیدار ہوئی۔ مگر ان شخصیات نے بہت خاموشی کے ساتھ اپنی خدمات پیش کیں ، شور غل نہیں کیا۔ڈاکٹر انصاری کے یہ جملے آج کی سیاسی اور قومی زندگی میں کتنے اجنبی معلوم ہوتے ہیں ۔
زبان اور رسم خط کے تعلق سے ان کی خواہش تھی کہ ہندوستان کے لوگ دونوں لیکھن کو سیکھ لیں ۔ اس سے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان فاصلہ ختم ہو جائے گا۔ ان کا یہ جملہ کتنا اہم معلوم ہوتا ہے: ’’ہمیں تو ساری کوشش اس بات کیلئے کرنی چاہیے کہ ہندو مسلمانوں کی سچ مچ ایک ملی ہوئی زبان بن جائے۔‘‘
ڈاکٹر مختار احمد انصاری لکھتے ہیں : ’’دل کے اندر بھری ہوئی آگ کی گرمی ہو جو باہر نکلے۔ دلوں کے اندر لہریں مارتے ہوئے دریا کا بہاؤ ہو جو سینے میں نہ سما سکے اور باہر بہہ نکلے۔ ہندوستانی زبان کے لیے دل کی یہ گرمی اور خیالات کا یہ بہاؤ ایک ملی جلی ہندوستانی قوم کے خیال سے ہی پیدا ہو سکتا ہے اس لیے کہ ہندوستانی زبان اسی ملاپ کا نشان ہے۔ ہم میں یہ خیال جتنا سچا ہوگا اور اسی خیال کے ساتھ جن چیزوں کو لگاؤ ہے جب وہ بڑھیں گی تو ہماری زبان میں بھی گرمی اور بہاؤ اور خوبصورتی آئے گی، قوم کو جن چیزوں سے لگاؤ اور جن باتوں سے پریم ہوتا ہے اسی کا روپ اس کی زبان کی خوبصورتی اور زور میں دکھائی دیتا ہے۔‘‘
ڈاکٹر انصاری ہندی پرچار سبھا میں موجود لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے ہندی یا قومی بھاشا کو سنسکرت اور عربی لفظ کو ٹانکنے سے بچانے پر زور دیتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی سیاست کے تحت اگر ایسا ہوا تو اس کا نقصان زبان اور زبان کے بولنے والوں کو پہنچے گا اس سے خرابی پیدا ہوگی۔اسی کے ساتھ وہ سنسکرت یا عربی کے الفاظ کی شمولیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر اس شرط کے ساتھ کہ وہ ہندی بھاشا سے ہم آہنگ ہو جائیں ۔
تقریر کے اختتام پر ڈاکٹر انصاری سواگت سمیتی کے سبھاپتی کی اس بات سے اختلاف کیا کہ مسلمانوں کو عربی رسم خط چھوڑ کر دیوناگری اختیار کر لینا چاہیے۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ میرا یقین ہے اور میں نے کانگریس کے سبھا پتی کی حیثیت سے بھی یہی کہا تھا کہ ہندو مسلمانوں میں جو سیاسی یا مذہبی بگاڑ ہے وہ اصل میں ایک زیادہ گہرے مقابلہ کی اوپری شکل ہے جو ہندوستان کے سوا اور ملکوں میں بھی رہا ہے اور تاریخ جس سے نا آشنا نہیں ۔ یہ دراصل دو الگ تہذیبوں کا فرق ہے جو ایک دوسرے سے آ کر ملی ہیں ۔اس بگاڑ کو دور کرنے کی سب سے اچھی شکل میرے خیال میں یہ ہے کہ ہر تہذیب کو باقی رہنے کا حق دیا جائے۔
ڈاکٹر انصاری کا ایقان تھا کہ آپس میں رواداری اور ایک دوسرے کی عزت پیدا کی جائے اور ایسے موقع نکالے جائیں کہ دونوں آپس میں مل کر ایک دوسرے کے دل کی لگی کو سمجھ سکیں ۔ ڈاکٹر انصاری کی نظر میں ہندی بھاشا دراصل ایک تہذیبی ضرورت بھی ہے جس کو خطرہ تنگ نظری سے ہے۔ اگر اس تنگ نظری کی شناخت نہ کی گئی تو دھیرے دھیرے ہندی بھاشا اس مشترکہ تہذیبی روایت سے کٹ جائے گی جو ہماری شناخت ہے۔
یہ بھی پڑھئے : امریکہ کی محصولاتی دھاندلی اور اس کے اسباب
اسی لیے ڈاکٹر مختار احمد انصاری ہندی بھاشا کے تعلق سے اس خوف کا اظہار کرتے ہیں کہ کہیں کوئی اس پر قابض نہ ہو جائے۔ ڈاکٹر انصاری ہندو اور مسلمان دونوں سے یہ گزارش کرتے ہیں کہ وہ زبان کے تعلق سے ایک دوسرے کا خیال رکھیں ۔ زبان تہذیب بن جاتی ہے اور اتحاد کا استعارہ بھی۔ ڈاکٹر انصاری تو اس حد تک جاکر مشورہ دیتے ہیں کہ اس پر الگ الگ اپنا حق نہ جتائیں ۔ انہیں ایک ماہ کے دو جوڑواں بچوں کا خیال آتا ہے جو ایک دوسرے سے مختلف ہیں مگر وہ دونوں سے محبت رکھتی ہے۔ ما ں الگ الگ بچوں کے نام بھی رکھتی ہے مگر نسبت تبدیل تو نہیں ہوتی۔ وہ ان میں کوئی امتیاز نہیں کرتی، دونوں کو ایک آنکھ سے دیکھتی ہے۔