وزارت ِ خارجہ کے ایک افسر کے اس بیان نے کہ ’’ہندوستانی پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہے‘‘ شہریت کے ثبوت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 2:50 PM IST | Rahul Bedi | Mumbai
وزارت ِ خارجہ کے ایک افسر کے اس بیان نے کہ ’’ہندوستانی پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہے‘‘ شہریت کے ثبوت پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔
ہندوستانی بیوروکریسی کو اکثر انتظامی اختراعات کے حوالے سے منفرد قرار دیا جاتا ہے لیکن حالیہ تنازع نے ایک ایسا سوال کھڑا کر دیا ہے جس کی مثال شاید دنیا میں کہیں اور نہ ملے۔ حکومت ایک طرف پاسپورٹ جاری کرتی ہے، اسے قومی نشان سے مزین کرتی ہے، پولیس تصدیق اور مختلف قانونی مراحل سے گزارتی ہے، پھر پوری دنیا سے توقع رکھتی ہے کہ اسے ہندوستانی شہری کی شناخت اور قومیت کے مستند ثبوت کے طور پر قبول کیا جائے لیکن دوسری طرف ملک کے اندر یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ پاسپورٹ بذاتِ خود شہریت کا قطعی ثبوت نہیں۔ گزشتہ دنوں وزارت خارجہ کے ایک سینئر افسر نے یہی مؤقف پیش کیا کہ ’’ہندوستانی پاسپورٹ شہریت کا ثبوت نہیں ہے۔‘‘
اس بیان نے ایک بنیادی سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اگر خود ہندوستانی حکومت اپنے پاسپورٹ کو شہریت کے ثبوت کے طور پر مکمل اعتماد کے ساتھ قبول نہیں کرتی تو پھر دنیا کے دوسرے ممالک اس پر کیوں اعتماد کریں؟یہ سوال محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ ہندوستانی حکومت پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے درخواست گزار کی مکمل جانچ کرتی ہے۔ پولیس ویر ی فکیشن کرائی جاتی ہے، سرکاری ریکارڈ کی تصدیق کی جاتی ہے اور اس کے بعد ملک کے انتہائی محفوظ سرکاری پریس میں پاسپورٹ چھاپ کر جاری کیا جاتا ہے۔ یہ دستاویز قومی نشان کے ساتھ پوری دنیا کے سامنے اس یقین دہانی کے طور پر پیش کی جاتی ہے کہ اس کا حامل ہندوستانی شہری ہے۔لیکن جب کوئی ہندوستانی اپنے اسی پاسپورٹ کو شہریت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے تو اسے بتایا جاتا ہے کہ یہ کافی نہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جس نے اس معاملے کو عوامی بحث کا موضوع بنا دیا ہے۔پاسپورٹ دنیا بھر میں ویزا حاصل کرنے، امیگریشن کلیئرنس، بین الاقوامی پروازوں میں سفر، سرحدی جانچ اور بیرون ملک سفارتی تحفظ حاصل کرنے کے لئے معتبر دستاویزسمجھا جاتا ہے۔ ایئر لائن کمپنیاں اسے بلا تردد قبول کرتی ہیں، امیگریشن حکام اسی بنیاد پر داخلے کی اجازت دیتے ہیں اور غیر ملکی حکومتیں اس کے حامل کو ہندوستانی شہری تصور کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: انتخابی سیاست سے انتقامی سیاست تک
ناقدین کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ بیرونی دنیا ہندوستانی پاسپورٹ پر جتنا اعتماد کرتی ہے، بظاہر خود ہندوستانی حکومت اپنے ملک کے اندر اتنا اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں دکھائی دیتی۔یہی وجہ ہے کہ بعض قانونی مبصرین نے اس صورتحال کو ایک غیر معمولی انتظامی تضاد قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق وزارت خارجہ کے حالیہ مؤقف سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پاسپورٹ جاری کرتے وقت اسے شہریت کی تصدیق کی بنیاد پر جاری کیا جاتا ہے لیکن جاری ہونے کے بعد اسی دستاویز کی قانونی حیثیت محدود کر دی جاتی ہے۔اس کے بعد ایک اور سوال سامنے آتا ہے کہ اگر شہریت بنیادی شرط نہیں تو پھر حکومت پاسپورٹ جاری کرنے سے پہلے آخر کس چیز کی تصدیق کرتی ہے؟ کیا صرف شناخت کی؟ کیا صرف سفری ضرورت کی؟ یا پھر شہریت کی جانچ کے باوجود پاسپورٹ کو اس مقصد کے لئے ناکافی قرار دیا جا رہا ہے؟تنقید کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وزارت خارجہ نے ایک ایسی صورت حال پیدا کر دی ہے جہاں ایک دستاویز کو اپنی ہی تصدیق ثابت کرنے کے لیے مزید دستاویزات درکار ہو جاتی ہیں۔
پاسپورٹ ایکٹ کیا کہتا ہے؟
پاسپورٹ ایکٹ۱۹۶۷ء کے دیباچے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ یہ قانون ہندوستانی شہریوں کے ملک سے باہر جانے کے لئے پاسپورٹ اور سفری دستاویزات جاری کرنے اور دیگر متعلقہ امور کو منظم کرنے کے لئے بنایا گیا ہے۔ اسی قانون کی دفعہ ایک (۲) بھی واضح کرتی ہے کہ اس کا اطلاق پورے ہندوستان کے ساتھ ساتھ بیرون ملک موجود ہندوستانی شہریوں پر بھی ہوتا ہے۔اسی بنیاد پر بعض قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قانون کی بنیاد ہی ہندوستانی شہریوں کو پاسپورٹ جاری کرنے پر قائم ہے تو پھر پاسپورٹ کو شہریت کے ثبوت کے طور پر مکمل طور پر مسترد کرنا خود قانون کی روح سے مطابقت نہیں رکھتا۔
یہ بھی پڑھئے: جمہوریت، اخلاقیات اور ایمانداری
ہر ہندوستانی پاسپورٹ کے ابتدائی صفحے پر حکومت ہند کی جانب سے ایک باضابطہ درخواست درج ہوتی ہے، جس میں دنیا کے تمام ممالک سے کہا جاتا ہے کہ پاسپورٹ کے حامل کو آزادانہ آمدورفت کی اجازت دی جائے اور ضرورت پڑنے پر ہر ممکن مدد اور تحفظ فراہم کیا جائے۔یہ درخواست دراصل ایک سفارتی یقین دہانی ہوتی ہے کہ حکومت ہند اس شخص کی قومیت اور شناخت کی ذمہ داری قبول کر رہی ہے۔عالمی سفارتی نظام اسی اصول پر قائم ہے۔ ایک خودمختار ریاست دوسرے ممالک سے کسی ایسے شخص کو سفارتی تحفظ دینے کی درخواست نہیں کرتی جس کی شہریت کے بارے میں وہ خود یقین نہ رکھتی ہو۔اگر پاسپورٹ کو شہریت سے الگ کر دیا جائے تو پھر اس کی عملی افادیت صرف ایک سفری دستاویز تک محدود رہ جاتی ہے جبکہ پوری دنیا میں پاسپورٹ کا بنیادی مقصد ہی کسی ریاست کی جانب سے اپنے شہری کی شناخت اور قومیت کی توثیق کرنا ہے۔اس بحث کے ناقدین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں ایک عجیب منظر سامنے آتا ہے۔ لندن، پیرس، واشنگٹن یا دنیا کے کسی بھی بڑے ہوائی اڈے پر امیگریشن افسر ہندوستانی پاسپورٹ کو ہندوستانی قومیت کے معتبر ثبوت کے طور پر قبول کرتا ہے لیکن اسی دستاویز کو جاری کرنے والی حکومت اپنے ملک کے اندر اسے شہریت کا حتمی ثبوت ماننے سے گریز کرتی ہے۔ان کے مطابق شاید ہی دنیا میں کوئی اور سرکاری دستاویز ایسی ہو جس کے بنیادی مقصد پر خود اسے جاری کرنے والا ادارہ اس حد تک سوال اٹھائے۔اگر وفات کا سرٹیفکیٹ موت کی تصدیق نہ کرے، پیدائش کا سرٹیفکیٹ پیدائش ثابت نہ کرے، ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے کی اہلیت کی تصدیق نہ کرے یا یونیورسٹی کی ڈگری یہ ثابت نہ کرے کہ طالب علم فارغ التحصیل ہو چکا ہے تو ایسی دستاویزات اپنی قانونی اہمیت کھو بیٹھیں گی۔اسی طرح ناقدین کا استدلال ہے کہ اگر پاسپورٹ بھی اپنے بنیادی مقصد، یعنی اپنے حامل کی شہریت اور قومیت کی توثیق، کے لئے ناکافی قرار دیا جائے تو اس سے انتظامی نظام میں غیر ضروری پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور شہریوں کے ذہنوں میں مزید سوالات جنم لیں گے۔یہی وجہ ہے کہ پاسپورٹ سے متعلق وزارت خارجہ کا حالیہ مؤقف اب صرف ایک قانونی بحث نہیں رہا بلکہ ہندوستان میں شہریت، سرکاری دستاویزات کی قانونی حیثیت اور انتظامی شفافیت کے حوالے سے ایک وسیع قومی مباحثے میں تبدیل ہو چکا ہے۔n(بشکریہ: دی وائر)