Inquilab Logo Happiest Places to Work

انتخابی سیاست سے انتقامی سیاست تک

Updated: July 01, 2026, 2:20 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai

ہر صبح جب ممتا آنکھ کھولتی ہیں تو ایک نئی مصیبت کو منتظر پاتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بی جے پی حکومت پر انتقامی سیاست کا جنون سوار ہے۔ پارٹی کا صفایا کرنے کے بعد اب پارٹی فنڈ پر ہاتھ صاف کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مغربی بنگال میں ۴؍مئی کو الیکشن کے نتائج کے اعلان کے بعد انتخابی سیاست ختم ہوگئی تاہم اس کے فوراً بعد ایک نئی سیاست شروع ہوگئی جسے ہم انتقامی سیاست کہہ سکتے ہیں۔ شوبھیندو ادھیکاری نے وزیر اعلیٰ کا حلف اٹھانے سے قبل ہی اپوزیشن کو ٹھکانے لگانے کا بیڑہ اٹھالیا۔ وہ ہر جگہ یہ وارننگ دیتے نظر آئے کہ کسی کو نہیں بخشاجائے گا۔ پچھلے ہفتے نئے وزیر اعلیٰ نے صوبائی اسمبلی میں اپنی جوشیلی تقریرمیں بھی یہ دھمکی دے ڈالی کہ سب کا ساتھ اور سب کا وکاس کے ساتھ ساتھ’’سب کا حساب‘‘بھی ہوگا۔ہرروز ترنمول کانگریس کے کونسلر اور دیگر اہلکار گرفتار کئے جارہے ہیں اور ہر روز بی جے پی کے ورکرز کے ہاتھوں ان کی درگت بھی بن رہی ہے۔  

انتخابات میں ہار جیت جمہوری نظام کے بنیادی ستون ہوتے ہیں جن سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اختیاردرحقیقت عوام کے ہاتھوں میں ہوتا ہے وہ جس پارٹی کو چاہیں حکومت سونپ دیں اور جسے چاہیں اپوزیشن میں بٹھادیں۔بنگال میں صورتحال بالکل الگ ہے۔ ۴؍مئی کو بی جے پی کو آخر کار بنگال کا راج پاٹ مل ہی گیا جس کی اسے برسوں سے چاہت تھی۔ لیکن بی جے پی کا دل مانگے مور: اسے اپوزیشن بھی اپنی پسند کا چاہئے۔ ۲۰۲۱ء  میں ترنمول کانگریس اقتدار میں آئی تھی اور ۲۰۲۶ء میں رزلٹ اس کے برعکس آیا۔ کون کہہ سکتا ہے کہ ۲۰۳۱ء میں بنگال کے عوام ممتا بنرجی کو ایک بار پھر وزیر اعلیٰ کی گدی پر نہ بٹھادیں؟لیکن شوبھیندو ادھیکاری کی مانیں تو ممتا بنرجی کے سیاسی کیرئیر کا خاتمہ ہوچکا ہے۔ شوبھیندو نے دیدی کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اقتدار میں واپسی کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں۔ شوبھیندو کو شاید علم نہیں ہے کہ کرکٹ کی طرح سیاست میں بھی کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتاہے۔ اندراگاندھی جیسی طاقتور رہنما کو ۱۹۷۷ء  میں اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑا لیکن تین سال سے بھی کم عرصے میں اندرا کی قیادت میں کانگریس پارٹی ۳۵۰؍  لوک سبھا سیٹیں جیت گئی اور وہ دوبارہ مسند پر بیٹھ گئیں۔ جمہوری سیاست میں نہ اقتدار دائمی ہوتا ہے اور نہ ہی اقتدار سے محرومی۔  

یہ بھی پڑھئے: بہار میں مشکوک انکاؤنٹر کی سیاست

لیکن اگر ہم ٹھنڈے دل و دماغ سے بنگال کے بدلے ہوئے زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو شوبھیندو کی بات میں یہ تکلیف دہ سچائی دکھائی دے گی کہ ممتاکی حالت اس وقت اس جواری جیسی ہوگئی ہے جو اپنا سارا دھن دولت لٹانے کے بعد آخر میں اپنا گھر بار بھی ہار گیا ہو۔ ممتا سے صرف اقتدار نہیں چھِنا ہے بلکہ اُن کی پارٹی بھی چھِن گئی ہے۔  بات صرف ترنمول کانگریس کی انتخابی شکست کی ہوتی تو مسئلہ نہیں تھا۔ویسے بھی بی جے پی (۲۰۸) اور ترنمول کانگریس (۸۰)کی سیٹوں کے بھاری فرق سے قطع نظر یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ ممتا بنرجی کی پارٹی کی کارکردگی اتنی تباہ کن نہیں تھی جتنی دکھائی دے رہی تھی۔ ترنمول کانگریس کے ووٹوں کا تناسب ۴۱؍ فیصد اورمجموعی ووٹوں کی تعداد ۲؍کروڑ ۶۰؍ لاکھ تھی جبکہ بی جے پی کے ووٹوں کا تناسب ۴۶؍فیصد اور مجموعی تعداد۲؍ کروڑ۹۲؍ لاکھ تھی۔گویا فاتح اور مفتوح پارٹیوں میں فرق صرف ۳۲؍لاکھ ووٹوں کا تھا۔یہاں یہ حیرت انگیز نکتہ بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے ووٹروں کی تعداد جنہیں logical discrepency اورunmapped کے کھاتے میں ڈال کر ووٹ دینے کے حق سے محروم رکھا گیا ،بھی ۳۲؍ لاکھ تھی۔ 

شوبھیندو کی بات کو رعونت میں کیا گیا دعویٰ قرار دے کریکسر مسترد کرنے کے قبل ہمیں ایک نظر بنگال میں تیزی سے بدلتے سیاسی منظر نامہ پر ضرور ڈالنی چاہئے۔ الیکشن کے نتائج کے اعلان کے چند دنوں کے اندر ترنمول کانگریس جیسی مضبوط، مستحکم پارٹی ریت پر بنے گھروندے کی طرح بکھر کے رہ گئی۔ ۸۰؍ ایم ایل ایز میں سے ۶۵؍ ممتا کو داغ مفارقت دے کر ریتا برتا بنرجی نام کے چالباز کو اپنا نیا لیڈر مان لیا ہے۔۲۸؍ لوک سبھا اراکین میں سے ۲۰؍ نے اپنی عزت ’نیشنلسٹ سٹیزن پارٹی آف انڈیا‘ نام کی ایک گمنام جماعت کے پاس گروی رکھ دی۔کل تک جس پارٹی کے پاس ایک چپراسی تک نہ تھا اسے بیٹھے بٹھائے، بیس اراکین پارلیمنٹ مل گئے۔

 قصہ مختصر یہ کہ ترنمول کانگریس کے ایم پیز اور ایم ایل ایز کی اکثریت ممتا سے رشتہ منقطع کرچکی ہے اور  بچے کھچے لوگ بھی جلد ہی رسی تڑواکے نکلنے والے ہیں۔منحرفین کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ انہوں نے ممتا بنرجی کو پارٹی کے چیئرپرسن کے عہدے سے ہٹا دیا۔ پہلے منتخب ایم پیز اور ایم ایل ایز کو ممتا سے الگ کیا گیا اور اب ترنمول کانگریس کی پارٹی تنظیم پر قبضہ کیا جارہا ہے۔ قرون وسطیٰ میں محلاتی سازش کے تحت عیار وزیر اور اس کے چیلے بادشاہ کو راتوں رات تخت سے ہٹاکر سلطنت پر قابض ہوجاتے تھے۔ کلکتہ میں اکیسویں صدی کے جمہوری نظام میں وہی ہورہا ہے جو قدیم بادشاہتوں میں ہوتا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: جمہوریت، اخلاقیات اور ایمانداری

 ہر صبح جب ممتا آنکھ کھولتی ہیں تو ایک نئی مصیبت کو منتظر پاتی ہیں۔ بی جے پی حکومت پر انتقامی سیاست کا جنون سوار ہے۔ پارٹی کا صفایا کرنے کے بعد اب پارٹی فنڈ پر ہاتھ صاف کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔ اس سازش کے لئے ترنمول کے خزانچی اروپ بسواس کو استعمال کیا گیا۔ اروپ کے بھائی سروپ سلاخوں کے پیچھے ہیں اور اروپ کے سر پر بھی گرفتاری کی تلوار لٹک رہی تھی۔ اچانک انہوں نے  پینترا بدلا اور بینک کو خط لکھ کر پارٹی فنڈکو بلاک کردینے کی ہدایت دے دی۔ اس وقت ترنمول کانگریس  کے اکاؤنٹ میں ۶۷۵؍ کروڑ کی خطیر رقم موجود ہے جس کے لین دین پر روک لگ گئی ہے۔

 غالباًاسی کارنامہ کو انجام دینے کی وجہ سے اروپ کی گرفتاری ٹل گئی ہے۔ ممتااروپ پر کتنا اعتماد کرتی ہوں گی کہ انہوں نے پارٹی کے خزانے کی چابی ان کے حوالے کردی تھی۔ اسی اروپ نے ممتا کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے میں ذرا بھی تامل نہیں کیا۔اروپ جیسے ممتا کے متعدد منظور نظر’’وعدہ معاف گواہ‘‘ بن جانے میں عافیت سمجھ رہے ہیں۔ یہ وہ لیڈر ہیں جنہیں ممتا نے فرش سے اٹھاکر عرش پر پہنچایا تھا۔اقتدار کھونے کے بعد اگر ترنمول کانگریس کے ان بااثر لیڈروں نے ممتا کے ساتھ وشواس گھات نہ کیا ہوتا تو ممتا اس وقت اتنی بے سہارا اور بے بس نظر نہیں آتیں۔  پچھلے ہفتے شمالی کلکتہ میں ممتا کے وفادار کونسلرز اور پارٹی ورکرز نے ایک چھوٹی سی میٹنگ منعقد کی جس میں ٹیلی فون کے ذریعہ دیدی نے ان سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف اپنی گرفتاری ٹالنے اور اپنے ناجائز اثاثے بچانے کی خاطرترنمول کانگریس کے لیڈر وں نے غداری کی ہے۔ ممتا نے جذبات سے لبریز آواز میں پوچھا’’ تمہاری ماں نے اتنی مشقتوں سے تمہیں پال پوس کر بڑا کیا اور آج جب وہ بیمار ہے اور اسے تمہاری ضرورت ہے تو کیا تم اسے تنہا چھوڑ دو گے؟‘‘ میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں ممتا کی پارٹی نہیں ٹوٹی ہے: ممتا ٹوٹ گئی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK