شیوسینا (ادھو) کے کارکنان نے ’ آپریشن توڑو‘ کے تحت شندے گروپ کے اراکین پارلیمان کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا۔
EPAPER
Updated: July 02, 2026, 10:00 AM IST | Z. A. Khan | Nanded
شیوسینا (ادھو) کے کارکنان نے ’ آپریشن توڑو‘ کے تحت شندے گروپ کے اراکین پارلیمان کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کر دیا۔
نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی جانب سے ادھو ٹھاکرے کی شیو سینا کے چھ ارکانِ پارلیمنٹ کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے بعد ریاست کی سیاست میں ایک نئی کشمکش شروع ہوگئی ہے۔ اس سیاسی پیش رفت کے بعد شیو سینا (ادھو ) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے ان۶؍ پارلیمانی حلقوں کا دورہ کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں کو’ آپریشن توڑو‘ شروع کرنے کی ہدایت دی ہے جس کے بعد مختلف علاقوں میں شیوسینا (ادھو) کے کارکنان سرگرم ہوگئے ہیں اور منحرف اراکین پارلیمان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
بدھ کے روز ناندیڑ میں شیوسینا (ادھو) کے شیو سینکوں کارکنان نے ایکناتھ شندے کے بیٹے اور رکن پارلیمان شری کانت شندے کے قافلے کو سیاہ جھنڈے دکھا کر اپنا سخت احتجاج درج کروایا۔اطلاع کے مطابق شری کانت شندے ناندیڑ کے دورے پر تھے۔ اس دوران جب ان کا قافلہ سارکھنی گاؤں کی جانب روانہ ہوا تو شیوسینا (ادھو) کے کارکنان نے سیاہ جھنڈے لہرا کر ان کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ سارکھنی گاؤں ہنگولی لوک سبھا حلقے میں واقع ہے۔ اس حلقے کے رکن پارلیمان ناگیش پاٹل اشٹیکر شندے گروپ میں شامل ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد سے انہیں کئی مقامات پر عوامی مخالفت کا سامنا کر نا پڑا ہے۔ واقعے کے وقت ناگیش پاٹل اشٹیکر بھی شری کانت شندے کے ہمراہ موجود تھے۔ جیسے ہی قافلہ سارکھنی گاؤں سے گزرا، مظاہرین نے انہیں ’غدار ‘ کہہ کر پکارا اورسیاہ جھنڈے دکھا ئے جو وہ اپنے ساتھ لے کر آئے تھے۔ اس موقع پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چند مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
یہ بھی پڑھئے: مہوا موئترا پر حملہ، پتھر اور انڈے پھینکے گئے
دریں اثنا، رکن پارلیمان شری کانت شندے نے ضلع ایوت محل کے عمرکھیڑ میں منعقدہ ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے شیو سینکوں سے براہِ راست گفتگو کی اور ان کے مسائل، تجاویز اور توقعات سے آگاہی حاصل کی۔ اجلاس میں آئندہ بلدیاتی انتخابات کے پیشِ نظر کارکنان کو منظم اور متحرک کرنے پر خصوصی زور دیا گیا۔اس موقع پر ہر گاؤں میں پارٹی کی شاخ قائم کرنے، گھر گھر پارٹی کا نظریہ پہنچانے، نئے کارکنان کی رجسٹریشن کرنے اور بوتھ سطح پر تنظیم کو مزید مضبوط بنانے کے بارے میں تفصیلی رہنمائی کی گئی۔
اس پروگرام میں رکن پارلیمان ناگیش پاٹل اشٹیکر، رکن اسمبلی اسمبلی بابوراؤ کدم کوہلی کر سمیت پارٹی کے متعدد اہم عہدیداران بھی موجود تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شری کانت شندے نے ضلع کے کسانوں کیلئے نہایت اہم اور طویل عرصے سے زیر التوا فصل بیمہ کے مسئلے کو جلد از جلد حل کروانے کا یقین دلایا۔ تاہم ایک طرف جہاں وہ پارٹی کو مضبوط بنانے اور کسانوں کے مسائل کے حل پر زور دے رہے تھے، وہیں دوسری جانب ناندیڑ میں ان کے قافلے کے خلاف ٹھاکرے گروپ کے ناراض شیو سینکوں نے سیاہ جھنڈے دکھا کر اپنے شدید احتجاج کا اظہار کر رہے تھے۔