Inquilab Logo Happiest Places to Work

جمہوریت، اخلاقیات اور ایمانداری

Updated: June 26, 2026, 2:47 PM IST | shamim Tariq | Mumbai

حالیہ دنوں میں ملک کی مختلف سیاسی پارٹیاں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی ہیں۔ زیر نظر مضمون میں اسی موضوع کا احاطہ کیا گیا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ سیاسی لیڈران ذاتی مفاد کے نام پر ’’بک‘‘ رہے ہیں مگر وہ جان لیں کہ اس سے انہیں عارضی فائدہ ہی مل سکتا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اٹل بہاری باجپئی کی حکومت جب ایک ووٹ سے گری تھی تب مبینہ طور پر مہاراشٹر کے ایک لیڈر نے کہا تھا کہ ایک ممبر پارلیمنٹ کی تائید حاصل کرنا مشکل نہیں ہے مگر باجپئی جی نے حکومت چھوڑنے یا گنوانے کو ترجیح دی تھی البتہ ان کے بعد ان کی ہی پارٹی کی جو حکومت برسراقتدار آئی اس نے نفرت کی فصل کو خوشحالی کی علامت قرار دیا اور نفرت کا شکار ہونے والے طبقے میں سے بھی اس کو ہم نوا ملتے گئے۔ حج کا کرایہ بڑھا، اوقاف پر آفت آئی، قربانی کے نتیجے میں حاصل ہونے والے چمڑوں کی قیمت ملیامیٹ ہوئی، مساجد و مقابر پر آفت آنے لگی، ایودھیا کی مسجد پر فیصلہ آیا مگر اس طبقے نے اُف بھی نہیں کی۔ سپریم کورٹ نے ۵؍ ایکڑ زمین مسجد کیلئے دینے کی بات کہی تھی مگر فیصلے کا وہ حصہ ناقابل ِ تعمیل سمجھا گیا۔ مرشد آباد میں البتہ ایک صاحب نے جناح کیپ لگا کر بابری مسجد بنوانے کا اعلان کیا مگر بی جے پی کے برسراقتدار آنے پر مبارکباد دے کر خاموش ہوگئے۔ اکثریتی فرقہ بھی بی جے پی کو ووٹ دینے میں فراخدلی دکھلائی۔ حکمراں جماعت کے لئے ووٹ کے بڑھتے تناسب سے معلوم ہوتا ہے کہ اکثریتی فرقہ بی جے پی اور اس کی حکومت کو نجات دہندہ سمجھتا ہے۔ اسی ذہنیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے بی جے پی کے نشان پر جیتے ہوئے چند لوگوں نے یہ تک کہنا شروع کیا کہ میں فلاں مذہبی جماعت کے لوگوں کا کام نہیں کروں گا کہ انہوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیا ہے۔ پورے ملک میں کوئی ایسا شخص یا جماعت بھی سامنے نہیں آئی جو یہ کہتی کہ دستور ہند کا حلف لینے والا کوئی شخص یہ کیسے کہہ سکتا ہے کہ مَیں فلاں جماعت کے لوگوں کا کام نہیں کروں گا۔

یہ بھی پڑھئے: معاشی بحران میں ضروری اصلاحات

مگر حکمراں جماعت نے نفرت کی فصل کاٹنے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ جیسا کہ الزام لگایا جاتا ہے ووٹنگ مشین سے چھیڑچھاڑ کرنے کے ساتھ سیاسی پارٹیوں میں بھی دراڑ ڈالی۔ سب سے پہلے اس طریقۂ کار کا شکار ممتا بنرجی کی پارٹی ہوئی اور کعبہ، مدینہ کرنے والی سیونی گھوش تک نے ممتا کا دامن (کوئی وسیلہ اختیار کرکے ہی سہی) چھوڑ دی۔ اب شیوسینا کی باری ہے۔ اس میں پہلے بھی پھوٹ پڑتی رہی ہے یا کچھ لیڈران ’’بک جانے‘‘ کو پھوٹ کا نام دیتے رہے ہیں مثلاً چھگن بھجبل، نارائن رانے اور پھر ایکناتھ شندے۔ بندھو شنگرے اور راج ٹھاکرے کا نام قطعاً چھوڑ رہا ہوں کہ ان کی پارٹیوں نے شیوسینا کیلئے مصیبت نہیں کھڑی کی تھی۔ گروپ یا متوازی شیوسینا صرف ایکناتھ شندے نے بنائی۔ چھگن بھجبل اور نارائن رانے تو کانگریس، این سی پی یا بی جے پی میں ضم ہوگئے۔ اب شیوسینا (ادھو )  کے ۹؍ میں سے ۶؍ ممبران پارلیمنٹ کے ٹوٹنے کی خبر ہے۔ خبر تو سماجوادی پارٹی کے ٹوٹنے کی بھی ہے مگر محسوس کیا جا رہا ہے کہ مہاراشٹر اسمبلی کے دو ممبران جن کا تعلق اسی پارٹی سے ہے الگ الگ رخ پر دیکھ رہے ہیں۔ یوپی میں اس پارٹی کا ٹوٹنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے کہ اس کی جڑیں برادری واد میں پیوست ہیں۔ 

مہاراشٹر میں بھی شرد پوار اور ادھو ٹھاکرے کی جڑیں بہت مضبوط ہیں مگر یہ مضبوطی اتنی نہیں ہے جتنی یوپی میں اکھلیش کی ہے اس لئے ادھو اور شردپوار دونوں کی پارٹیوں پر حکمراں جماعت کی نظر ہے۔ خطرے کو بھانپتے ہوئے ہی ادھو ٹھاکرے کی شیوسینا کے انل دیسائی نے اپنے ممبران پارلیمنٹ کو قانونی کارروائی کی دھمکی دی ہے اور شردپوار نے اپنے ممبران کی شکایات سننے اور میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پس منظر میں یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے اور پوچھا جانا چاہئے کہ کیا بغاوت اور سیاسی پارٹیوں میں توڑ پھوڑ ہندوستانی سیاست میں معمول کا درجہ حاصل کر چکا ہے؟ مزید یہ کہ ترنمول کانگریس کے بعد ادھو کی شیوسینا،  شردپوار کی این سی پی، اکھلیش کی سماجوادی حتیٰ کہ  حکمراں محاذ کا حصہ نتیش کمار اور چندرا بابو نائیڈو کی پارٹیوں پر منڈلاتے خطرات اور ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ سیاسی لیڈروں میں مفقود ہوتی ایمانداری ہندوستانی جمہوریت کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ پوری صورتحال کو سمجھنا اور بیان کرنا مشکل ہے کہ غلط دعوے بھی بہت کئے جا رہے ہیں اور افواہیں یا جھوٹی خبریں بھی کثرت سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ ایسی صورت میں کچھ کہنا مشکل ہے مگر جو بات اس کے باوجود کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ ممتا، ادھو  اور شردپوار کے ایم پی اور ایم ایل اے ٹوٹ تو سکتے ہیں کہ اقتدار اور دولت بہتوں کو ایمان بدلنے پر مجبور کر دیتی ہے مگر ان لیڈروں کے کارکنان ( کیڈر) ان کے ساتھ رہے گا۔ اس لئے یہ سوچنا کہ مختلف پارٹیوں کے ممبران کا پالا بدلنا سب کچھ بدل دیگا صحیح نہیں ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: تیرا کیا ہوگا نیتن یاہو؟کچھ سوچا ہے؟

حکومتیں تو بن اور بگڑ سکتی ہیں مگر بالآخر جو حکومت بنے گی وہ انہی کی ہوگی جنہوں نے عوامی جذبات کا لحاظ رکھا ہوگا۔ اس لئے مستقبل تاریک ہے تو باغیوں اور باغیوں کا حوصلہ بڑھانے والوں کا۔ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی پارٹیاں کو عوامی ہمدردی ملے گی۔ پارٹی چھوڑنے والے باغیوں نے یہ بھی کیا ہے کہ ٹوٹنے والی پارٹیوں کو ہمدردی کا فائدہ پہنچایا ہے۔

ایسا کبھی نہیں ہوا کہ جمہوریت، اخلاقیات اور ایمانداری کے خلاف کام کرنے والے کامیاب ہوئے ہوں۔ وہ،  سیاست میں تھوڑی دیر کیلئے کامیاب ہوسکتے ہیں مگر دلالی کا مزاج اور کارکردگی مستقل کامیابی کی ضامن نہیں ہے۔ زبان و تہذیب اور تعلیم کے توسط سے دنیا اور ناموری کمانے والوں کا بھی یہی حال ہے۔ ایسے لوگ کبھی کامیاب نہیں ہوتے البتہ اپنی اچھل کود اور حاضری دینے والوں کی پرورش کے سبب تھوڑی بہت لوٹ کھسوٹ کر لیتے ہیں۔ یہ کامیابی نہیں ہے کامیابی تبھی ممکن ہے جب لہو کو تیل بنا کر اپنے اور دوسروں کی آنکھوں کے دیے روشن کئے جائیں۔پارٹیاں توڑنے اور توڑنے کا معاوضہ پانے کی کوشش کرنے والے یقیناً ناکام رہیں گے۔ یہ زندہ رہیں گے بھی تو میر جعفر، میر صادق کی اولاد کی طرح بالآخر نقصان پہنچاتے ہوئے نقصان اٹھائینگے۔ 

جمہوریت میں اختلاف کا حق سب کو ہے مگر آدابِ اختلاف  کو مدنظر رکھتے ہوئے۔ ان آداب کو پامال کرنے کی اجازت کسی کو نہیں مل سکتی۔ ان آداب کو پامال کرنا اصل دہشت گردی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK