Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ چڑا رہے ہیں یااُن کا کوئی گیم پلان ہے؟

Updated: August 05, 2025, 1:28 PM IST | Hasan Kamal | Mumbai

صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی حکمت ِ بدعملی کسی سے چھپی نہیں ہے۔ وہ ایک ہاتھ سے مودی کی سیاست کا گریبان پکڑے ہوئے ہیں اور دوسرا ہاتھ اُنہوں نے بڑی شفقت سے پاکستان کے سر پر رکھا ہے۔ ہے نا عجیب!

Photo: INN
تصویر:آئی این این

 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سچ پوچھئے تو بہت کمال کے آدمی ہیں ، ویسے ان کی طبیعت بہت اول جلول قسم کی ہے لیکن جب کوئی خیال ان کے دماغ میں  جم جاتا ہے تو پھر دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے کوئی اس خیال کو ان کے دماغ سے نکال نہیں  سکتا۔ ہندوستان اور پاکستان کے معاملے کو ہی دیکھ لیجئے، اس میں  بھی ٹرمپ نے وہی کیا جو ان کے دماغ میں  تھا۔کشمیر کا مسئلہ جب سے ان کے ذہن میں  آیا، ان پر ’’انکشافات‘‘ کے دروازے کھلنے لگے۔ اچانک انہیں  معلوم ہوا کہ پاکستان کی سرزمین کے نیچے تو تیل کا بڑا ذخیرہ ہے۔ انہوں  نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان تیل کا یہ ذخیرہ برآمد کرینگے۔ انہو ں نے کہا کہ یہ ذخیرہ اتنا بڑا ہے کہ نہ صرف پاکستان کی ضرورت پوری کرسکتا ہے بلکہ اس کے ایک حصے کو وہ دنیا کو بھی بیچ سکتا ہے۔ اس سلسلے میں  انہوں  نے یہ بھی کہا کہ پاکستان اپنا یہ تیل پڑوسی ملک ہندوستان کو بھی بیچ سکتا ہے۔ ذرا ملاحظہ کیجئے، پاکستان کا تیل اور ہندوستان خریدار! کیا یہ کمال کی کیفیت نہیں  ہے؟
 ہم سمجھتے ہیں  کہ یہ بات انہو ں نے محض ہندوستان کو جلانے کیلئے کہی ہے۔ ٹرمپ اپنے ایک ہاتھ میں  نریندر مودی کی سیاست کا گریبان پکڑے ہوئے ہیں  اور دوسرا ہاتھ انہوں  نے بطور شفقت پاکستان کے سرپر رکھ دیا ہے۔ ایک بات اور یہ ہے کہ ٹرمپ صرف تیل کی بات نہیں  کررہے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں  کہ پاکستان میں  معدنیات اور سونے کے جو ذخائر ہیں  ان کا بھی پتہ لگایا جائیگا۔ ظاہر ہے کہ اگریہ مل گیا تو ٹرمپ پھر کہیں  گے کہ اسے بھی ہندوستان کو بیچا جاسکتا ہے۔ لیکن سب سے پہلے یہ سنئے کہ ٹرمپ نے ’آئیل ڈیل‘‘  کی بات کیوں  کی؟ یعنی تیل پر سمجھوتے کے بارے میں  جو کچھ بھی کہا وہ کیوں  کہا ہے؟ اس کی وجوہات ہیں ۔ پاکستان ان کے قابو سے باہر نہیں  ہے۔ آپ ایوب خان سے لے کر آج کے ناکارہ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف تک کو لے لیجئے، کسی میں  اتنی جرأت نہیں  ہے کہ  امریکہ یا اُس کے صدر کی بات کو ٹال سکے۔ ظاہر ہے ہندوستان اور پاکستان میں  تین دن کی جو جنگ ہوئی ہے، جسے ہم نے کبھی جنگ نہیں  مانا، اس میں  تو پاکستانی پہلے ہی دن سے سجدہ ریز تھے کہ کاش کوئی بیچ میں  آئےاور یہ جنگ ختم ہو۔ اور تو کوئی آیا نہیں ، لیکن ڈونالڈ ٹرمپ ٹانگ اڑائے بغیر نہیں  رہ سکے۔ انہوں  نے پاکستان کو اس پیش کش کے ذریعہ لبھانے کی کوشش کی کہ امریکہ پاکستان کو نہ صرف تیل دے گا بلکہ اس کے ساتھ جو دوسرے مالی تعاون ہیں ، وہ بھی کرتا رہے گا۔ اسی سلسلے میں  آئل ڈیل کا معاملہ سامنے آیا ، تو پھر پاکستان کو اتنی بڑی پیشکش کی ضرورت کیا تھی؟ پاکستان تو یوں  بھی بندہ ٔ بے دام کی طرح امریکہ اور امریکی پالیسیوں  کا غلام ہے۔ تو پھر ڈونالڈ ٹرمپ کس بات کے لئے اتنی رشوت دے رہے ہیں  جس کی بظاہر کوئی ضرورت نہیں  تھی۔ 
  پاکستان امریکی حکم سے باہر ہی نہیں  جاسکتا۔ اس کا تو کہنا ہے کہ دیکھئے آپ نے کہا کہ جنگ روک دو، ہم نے سر جھکا کر اسے مان لیا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ جنگ بندی عارضی نہیں  مستقل ہے، ہم نے اسے بھی مان لیا اور ہم اپنے وعدہ پر اب بھی قائم ہیں ۔ آپ نے کہا کہ دونوں  ملک مسئلۂ کشمیر پر کھل کر بات کریں  او رمعاملے کو ہمیشہ کیلئے سلجھا لیں ۔ ہمیں  ہندوستان کا حال تو نہیں  معلوم لیکن ہم نے آپ کی بات پر فوراً آمنّا و صدقنا کہا۔ ہم کشمیر کیلئے ہندوستان سے گفتگو پر راضی ہیں ۔ ہندوستان کیا کرتا ہے، یہ اس کا مسئلہ ہے لیکن ہم بالکل رضامند ہیں  اور یہ حقیقت بھی ہے کہ پاکستان یہ ہمیشہ سے چاہتا ہے کہ ۱۹۷۱ء میں  اندرا گاندھی نے شملہ سمجھوتہ کرکے پاکستان کو راضی کرلیا تھا کہ کشمیر کا معاملہ ہمیشہ ہندوپاک کا باہمی معاملہ رہے گا ، اس میں کبھی کوئی تیسرا فریق شامل نہیں  ہوگا۔
 دنیا میں  کئی بار کشمیر کا معاملہ اٹھا لیکن ہندوستان یہ کہہ کر اس سے باہر نکل گیا کہ کسی تیسرے فریق کا آناشملہ سمجھوتے کی خلاف ورزی ہوگا۔ عام طور پر مغربی ممالک یہ بات سن کر ہمیشہ پیچھے ہٹ جایاکرتے تھے۔ امریکہ کا رویہ ہندوستان کی طرف بہت سخت نہیں  تو نرم بھی نہیں  تھا لیکن اب حالات بدل گئے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ کے آنے کے بعد امریکہ کی خارجہ پالیسی میں  کچھ ایسی تبدیلی ہوئی ہے کہ اس میں  جو مقام کبھی ہندوستان کو حاصل تھا ٹرمپ اس سے بالکل خوش نہیں  تھے۔ ٹرمپ اب صاف طور پر اس معاملے میں  بھی پاکستان کا ساتھ دے رہے ہیں ۔ کوئی تعجب نہیں  کہ آگے چل کر یہ صورت بھی سامنے آئے کہ صدر ٹرمپ اپنے نئے دوست پاکستان کیلئے اپنے پرانے دوست ہندوستان کی دوستی کو ’طلاق‘ دے دیں ۔ ٹرمپ کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں  ہوگی، باقی دنیا کے لئے ہو سکتا ہے کہ ہو۔ اب سوال یہ ہے کہ جب معاملات اتنے صاف ہیں ، تو امریکہ پاکستان کو آئل ڈیل جیسی نعمت کیوں  فراہم کررہا ہے؟ اس کا بھی ایک مطلب ہے۔ پاکستان میں  تیل کی دریافت کوئی نئی چیز نہیں  ہے اور جب عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم تھے تو ا یک بار وہاں  یہ شور مچا تھا کہ ’پاکستان کو تیل مل گیا،پاکستان کو تیل مل گیا‘۔ ایک غیر ملکی ایجنسی نے تیل نکالنے کے کام کیلئے اپنی خدمات بھی دی تھیں ۔ اس وقت یہ کہا جارہا تھا کہ سندھ کے ریگستان میں  تیل کا ذخیرہ ہے، اس کمپنی نے نہ جانے کتنی جگہ سندھ کے ریگستانوں  کو چھید ڈالا لیکن پیٹرول تو کیا وہاں  سے پانی کی دھار بھی نہیں  نکلی، بالآخر اس کمپنی نے کہا کہ ہمیں  اب چھٹی دے دیجئے۔
یہ بھی پڑھئے : زبانوں کی ہم آہنگی پر ڈاکٹر انصاری کا قیمتی مشورہ

یہ رہی پاکستان اور امریکہ کی بات۔ ہندوستان کی لوک سبھا میں  آج تک نہیں  بتایا گیا کہ مودی نے ٹرمپ کی بات کا کیا جواب دیا۔ یہ اپوزیشن کی کمزوری ہے کہ وہ اس موضوع پر نریندر مودی کا منہ نہیں  کھلو ا سکےلیکن بی جے پی کے ممبران سے تو کہہ ہی سکتے تھے کہ آپ لوگو ں کی مدد سے مودی گیارہ سال سے اس دیش میں  راج کررہے ہیں ، آپ کیوں  اُن کے بجا بے جا ہر فیصلے کو سر جھکا کر سن لیتے ہیں ؟ مانا ٹرمپ اپنی خوش دلی یا خوش فہمی کی وجہ سے ابھی تک چپ ہیں  اس لئے نریندر مودی کی سیاست بھی زندہ ہے۔ مودی کے حامی اور حمایتی صاف پرارتھنا کررہے ہوں  گے کہ بھگوان ٹرمپ کی اس خاموشی کی عمر دراز کردے۔ اس کے باوجود کہا نہیں  جاسکتا کہ ٹرمپ چپ رہیں  گے۔ وہ کسی بھی دن کوئی بڑا بیان دے سکتے ہیں ۔
hasankamaal100@gmail.com

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK