Updated: February 04, 2026, 10:07 PM IST
| Washington
امریکی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ سوڈان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے تیار کردہ امن منصوبے کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قائم کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے سامنے پیش کرے گی، بشرطیکہ سوڈانی فریقین اس پر رضامند ہوں۔ امریکی سینئر مشیر کے مطابق یہ منصوبہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔
امریکی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ سوڈان میں جاری خانہ جنگی کے خاتمے کے لیے تیار کیے گئے امن منصوبے کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ فورم ’’بورڈ آف پیس‘‘ (امن منصوبہ) کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، تاہم اس کا انحصار سوڈان کے فریقین کی رضامندی پر ہوگا۔ یہ بات امریکہ کے سینئر مشیر برائے عرب اور افریقی امور مسعد بولس نے ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ ان کے مطابق، اگر سوڈانی فریقین امن منصوبے پر اتفاق کر لیتے ہیں تو اسے پہلے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے رکھا جائے گا اور بعد ازاں ’’بورڈ آف پیس‘‘ میں بھی پیش کیا جا سکتا ہے۔ بولس نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور بورڈ آف پیس ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ تکمیلی فورمز ہیں، اور دونوں کے ذریعے سوڈان میں امن عمل کو بین الاقوامی سیاسی حمایت فراہم کی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق، ’’بورڈ آف پیس اس عمل میں دلچسپی رکھتا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران کشیدگی کے درمیان ٹرمپ کا بیان: دونوں ممالک کے درمیان ’اس وقت‘ مذاکرات جاری ہیں
امریکی مشیر نے واضح کیا کہ بورڈ آف پیس اس وقت بنیادی طور پر غزہ سے متعلق امن اور تعمیر نو کے معاملات پر کام کر رہا ہے، تاہم سوڈان کے بحران میں اس کی شمولیت کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کے مطابق، امریکہ چاہتا ہے کہ مختلف بین الاقوامی فورمز کو ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ کر کے تنازعات کے حل کی کوشش کی جائے۔ خیال رہے کہ سوڈان میں بحران اپریل ۲۰۲۳ء سے اس وقت سے جاری ہے، جب ملک کی فوج اور نیم فوجی گروپ آر ایس ایف کے درمیان اقتدار کی کشمکش مسلح تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ اقوام متحدہ نے صورتحال کو دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ بولس کے مطابق، مجوزہ امن منصوبے میں جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی، شہری علاقوں سے مسلح عناصر کے انخلا اور سیاسی عمل کی بحالی جیسے نکات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اس منصوبے پر خطے کے بعض ممالک کے ساتھ مشاورت بھی کر رہا ہے تاکہ اسے وسیع تر بین الاقوامی حمایت حاصل ہو سکے۔
یہ بھی پڑھئے: وینزویلا: صدر مادورو کے اغوا کو ایک ماہ مکمل ہونے پر عوام کا احتجاج، مادورو کے بیٹے کا جذباتی پیغام
یاد رہے کہ بورڈ آف پیس کا اعلان صدر ٹرمپ نے ۱۵؍ جنوری کو ایک وسیع تر عالمی امن اقدام کے طور پر کیا تھا۔ اس فورم کا مقصد مختلف تنازعات میں ثالثی اور امن منصوبوں کو سیاسی تقویت فراہم کرنا بتایا گیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق، سوڈان کے لیے کسی بھی امن منصوبے کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوگا کہ آیا فریق اس پر عمل درآمد کے لیے سنجیدہ ہیں۔ فی الحال سوڈان کی کسی بھی فریق کی جانب سے اس امریکی منصوبے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔