Updated: February 04, 2026, 10:08 PM IST
| Jerusalem
اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بیزالیل اسموٹریچ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قائم کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے تحت حماس کو دو ماہ کے اندر غیرمسلح ہونے کا الٹی میٹم دیا جائے گا۔ ان کے مطابق اس شرط کے بغیر غزہ میں جنگ کے خاتمے یا کسی سیاسی انتظام کی گنجائش نہیں ہوگی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ کے مستقبل سے متعلق امریکی منصوبے پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔
اسرائیل کے وزیرِ خزانہ بیزالیل اسٹوٹریچ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ امن منصوبے کے تحت قائم کیے گئے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی جانب سے حماس کو دو ماہ کے اندر غیرمسلح ہونے کا الٹی میٹم دیا جائے گا۔ اسموٹریچ کے مطابق اگر حماس مقررہ مدت میں اس شرط پر عمل نہیں کرتی تو نہ صرف غزہ میں جنگ کا خاتمہ ممکن نہیں ہوگا بلکہ کسی بھی سیاسی یا انتظامی حل پر پیش رفت بھی نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کی پالیسی کے مطابق غزہ میں جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتی جب تک حماس کو فوجی، سیاسی اور انتظامی سطح پر مکمل طور پر غیر مؤثر نہ کر دیا جائے۔ اسرائیلی وزیرِ خزانہ نے یہ بیان ایک انٹرویو کے دوران دیا، جس میں انہوں نے کہا کہ مجوزہ امن منصوبے کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ غزہ میں کسی بھی نئے انتظام سے قبل حماس کا غیر مسلح ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق ’’حماس کے ہاتھ میں اسلحہ رہتے ہوئے کسی بھی امن یا تعمیر نو کی بات بے معنی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: رفح کراسنگ پر فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی رویہ، منظم دہشت گردی ہے: حماس
یاد رہے کہ بورڈ آف پیس کا اعلان صدر ٹرمپ نے ۱۵؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو غزہ سے متعلق اپنے وسیع تر امن منصوبے کے حصے کے طور پر کیا تھا۔ اس فورم کا مقصد غزہ میں جنگ کے بعد کے سیاسی، سیکیورٹی اور انتظامی ڈھانچے پر کام کرنا بتایا گیا ہے۔ اسموٹریچ کے مطابق، بورڈ آف پیس کے تحت مجوزہ منصوبہ کئی مراحل پر مشتمل ہے، جس میں پہلے مرحلے میں جنگ بندی، قیدیوں کے تبادلے اور انسانی امداد شامل ہیں، جبکہ اگلے مرحلے میں حماس کے اسلحے کا مکمل خاتمہ بنیادی شرط ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ شرط پوری نہیں ہوتی، اسرائیل کسی مستقل جنگ بندی یا غزہ کی تعمیر نو پر رضامند نہیں ہوگا۔ اسرائیلی وزیرِ خزانہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ غزہ کی تعمیر نو اور کسی نئے انتظامی نظام کے قیام کے لیے بین الاقوامی امداد اسی صورت ممکن ہوگی جب حماس کو غیر مسلح کر دیا جائے۔ ان کے مطابق کئی عالمی شراکت دار بھی اس مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں، کیونکہ اسلحہ موجود ہونے کی صورت میں امدادی رقوم کے غلط استعمال کا خدشہ رہے گا۔
یہ بھی پڑھئے: میلبورن میں مہاتما گاندھی کے مجسمے کی بے حرمتی اور چوری، ہندوستان نے مذمت کی
تاحال حماس کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، اور نہ ہی امریکی انتظامیہ یا بورڈ آف پیس کی جانب سے دو ماہ کے الٹی میٹم کی تفصیلات کی تصدیق کی گئی ہے۔ فلسطینی حلقوں میں اس بیان کو یک طرفہ مؤقف قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس پر سرکاری سطح پر کوئی موقف جاری نہیں کیا گیا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ میں جنگ بندی نازک مرحلے میں ہے اور خطے کے مستقبل سے متعلق سفارتی سرگرمیاں تیز ہو رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اسلحہ چھوڑنے کا مطالبہ آنے والے مذاکرات میں ایک مرکزی اور متنازع نکتہ بن سکتا ہے۔