Updated: February 04, 2026, 10:07 PM IST
| Jakarta
انڈونیشیا نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے شروع کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ سے فلسطینی خودمختاری کو عملی طور پر آگے نہ بڑھایا گیا تو وہ اس اقدام سے دستبردار ہو سکتا ہے۔ صدر پرابوو سوبیانتو کے مطابق انڈونیشیا ایسی کسی پالیسی کی حمایت کا پابند نہیں جو اس کے قومی مؤقف سے متصادم ہو۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ شرکت کا انحصار غزہ میں فوری امن، فلسطین میں استحکام اور مکمل خودمختاری پر ہے۔
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو۔ تصویر: آئی این این
انڈونیشیا نے امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کیے ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے حوالے سے واضح انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر یہ فورم فلسطینی خودمختاری کے قیام میں مؤثر ثابت نہ ہوا تو انڈونیشیا اس سے علاحدگی اختیار کر سکتا ہے۔ انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے انڈونیشین علماء کونسل کے نائب چیئرمین خلیل نفیس نے کہا کہ انڈونیشیا کسی ایسی بین الاقوامی پالیسی یا فورم کی حمایت کا پابند نہیں جو اس کے قومی اور اصولی مؤقف سے متصادم ہو۔ صدر پرابوو کے مطابق، اگر بورڈ آف پیس کی سمت انڈونیشیا کے مؤقف کے مطابق نہ رہی تو جکارتہ اس میں شرکت سے گریز کرے گا، اور ضرورت پڑنے پر مکمل دستبرداری بھی اختیار کی جا سکتی ہے۔ صدر پرابوو نے کہا، ’’اگر بعد میں امن بورڈ کی پالیسی ہمارے مؤقف کے خلاف گئی تو ہم اس میں شامل نہیں رہیں گے۔ اگر اس کی سمت پر اثر انداز ہونا ممکن نہ ہوا تو ہم مکمل طور پر الگ ہو سکتے ہیں۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب غزہ اور فلسطینی علاقوں میں جاری تنازع پر عالمی سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران کشیدگی کے درمیان ٹرمپ کا بیان: دونوں ممالک کے درمیان ’اس وقت‘ مذاکرات جاری ہیں
انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوجیونو نے بھی حکومت کے مؤقف کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بورڈ آف پیس میں انڈونیشیا کی شرکت واضح اور غیر مبہم شرائط سے مشروط ہے۔ ان کے مطابق، ان شرائط میں سب سے پہلے غزہ میں فوری جنگ بندی، اس کے بعد فلسطینی علاقوں میں پائیدار استحکام، اور بالآخر فلسطین کی مکمل خودمختاری شامل ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ اگر یہ بنیادی اہداف حاصل نہ ہوئے تو انڈونیشیا کے لیے اس پلیٹ فارم پر موجود رہنے کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت انڈونیشیا کی خارجہ پالیسی کا مستقل حصہ رہی ہے۔ یاد رہے کہ بورڈ آف پیس کا اعلان صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ۱۵؍ جنوری کو اپنے مجوزہ غزہ امن منصوبے کے تحت کیا تھا۔ بعد ازاں نومبر ۲۰۲۵ء میں اس اقدام کو یو این کے سلامتی کونسل کی قرارداد ۲۸۰۳؍ کے ذریعے باضابطہ حیثیت دی گئی۔ اس قرارداد کا مقصد غزہ اور فلسطینی علاقوں میں امن کے لیے ایک بین الاقوامی فریم ورک فراہم کرنا بتایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: رفح کراسنگ پر فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی رویہ، منظم دہشت گردی ہے: حماس
تاہم انڈونیشیا کا مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ محض سفارتی ڈھانچہ یا سیاسی اعلانات کافی نہیں سمجھے جائیں گے۔ جکارتہ کے نزدیک اصل معیار یہ ہے کہ آیا بورڈ آف پیس زمینی سطح پر امن کی صورتحال بہتر بنانے اور فلسطینی خودمختاری کے قیام میں حقیقی پیش رفت کر پاتا ہے یا نہیں۔ ابھی تک امریکی انتظامیہ یا بورڈ آف پیس کی جانب سے انڈونیشیا کے اس انتباہ پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔