Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی کنارہ میں اسرائیلی مظالم اورفلسطینی مزاحمت

Updated: August 06, 2026, 4:31 PM IST | Ramzy Baroud | Mumbai

اس خطہ میں فوج ظلم ڈھاتی ہے یہ سب کو معلوم ہے مگر مسلح آباد کار بھی کچھ کم نہیں۔ وہ اسلئے بے خوف رہتے ہیں کہ اسرائیلی فوج اُن کی پشت پناہ ہے پھر بھی فلسطینی ہار ماننے والے نہیں ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

گزشتہ ماہ نابلس کے   جنوبی مغرب میں واقع ایک قصبے ’’تِل‘‘ میں اسرائیلی فوجی کے ذریعے برپا کیا گیا تشدد کوئی  نئی کارروائی نہیں تھے بلکہ اس کی نوعیت وہاں پر آباد فلسطینیوں کیلئے انتباہ کی ہے۔  اسرائیلی فوج مغربی کنارے کے دیہی علاقوں کو برسوں سے  نشانہ بنا رہی ہے۔ ستم بالائے ستم آبادکاروں کے حملے بھی جاری رہتے ہیں تاکہ ان کی زمینوں پر قبضہ کیا جائے۔ اسرائیل اس گمان میں ہے کہ ایسی کارروائیاں، جو پُرتشدد ہیں، فلسطینی عوام برداشت کرلیں گے ، اپنے مرنے والوں کو دفن کرتے رہیں گے اور معمول کی طرف لوٹ جائینگے۔ تاہم ، تل کے علاقے میں کچھ ایسے واقعات پیش آئے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اسرائیل کی خام خیالی تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: یہ خود سر نسل قابو میں آنے والی نہیں!

تصادم کا آغاز اس وقت ہوا جب مسلح اسرائیلی آباد کار ایک گاؤں کے قریبی علاقے میں داخل ہوئے اور فلسطینیوں کے گھروں پر حملہ کرنے کی کوشش کی لیکن گاؤں والوں نے ان کا مقابلہ کیا۔اس کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے مداخلت کی جس کے نتیجے میں مسلح آبادکاروں کے حملوں کا دائرہ وسیع ہوگیا۔ اس مقابلہ آرائی میں ایک فلسطینی شخص نے اسرائیلی ہتھیار چھین کر اسی کے ذریعے فائرنگ کی جس میں دو اسرائیلی مارے گئے، ساتھ ہی  علاقے کے رمضان خاندان کے ۴؍ افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے پورے گاؤں کے خلاف بطور سزا   حملہ کی ایک مہم شروع کردی۔  انہوں نے تِل کا محاصرہ کرلیا ، کئی گھروں پر حملہ کیا  اور درجنوں مکینوں سے پوچھ تاچھ شروع کی۔ ابتدائی کریک ڈاؤن میں ۷۰؍ سے زائد فلسطینیوں کو  حراست میں لیا گیا۔ اسرائیلی تشدد جلد ہی آس پاس کے علاقوں تک پھیل گیا  اور مسلح آباد کاروں نے گھروں اور گاڑیوں پر حملہ کیا اور مساجد کو  نذر آتش کرنے کی مذموم حرکت کی۔

  تِل کے واقعات سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مسلح آباد کاروں اور فوجیوں کا سامنا کرتے ہوئے  فلسطینیوں نے پیچھے ہٹنے سے انکار کرکے ایک واضح پیغام دیا ہے۔ یہاں پیش آنے والا کوئی واقعہ بغاوت کو جنم دے سکتا ہے یا نہیں، اس سے قطع نظر حقیقت یہ ہے کہ اسرائیلی کنٹرول کے ظاہری تاثر کے باوجود، مغربی کنارہ ایسے نازک مرحلہ پر آ چکا ہے جہاں حالات کبھی بھی  ہنگامہ خیز سکتے ہیں۔

اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ میں نسل کشی کے ساتھ ہی اسرائیل نے مغربی کنارہ کو جنگ کے میدان میں تبدیل کردیا ہے۔ ۱۱۸۰؍ سے زائد فلسطینی جاں بحق  اور تقریباً ۱۳؍ہزار زخمی  ہوچکے ہیں نیز ۲۴؍ ہزار ۶۰۰؍ افراد کو حراست میں لیا جاچکا ہے جس میں  سیکڑوں خواتین کے علاوہ ۲؍ہزار سے زائد  بچے ہیں۔

 

اسرائیلی حملہ صرف فوجی چھاپوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک منظم اور مربوط نظام کا حصہ ہے، جس میں قابض فوج، مسلح آبادکار، فوجی عدالتیں، آبادکاری کونسلیں، مکانات مسمار کرنے والے ادارے، اور وہ وزراء شامل ہیں جو کھلے عام مغربی کنارے کے الحاق کی وکالت کرتے ہیں۔ سالِ رواں میں آبادکاروں کے حملوں، انہدامی کارروائیوں اور فلسطینی تعمیراتی کاموں پر اسرائیلی پابندیوں کی وجہ سے ہزاروں فلسطینی بے گھر ہوچکے ہیں۔ جولائی تک کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اوسطاً  یومیہ ۱۷؍فلسطینی بے گھر ہورہے ہیں جو گزشتہ تین برسوں کے دوران ریکارڈ کئے گئے یومیہ اوسط کا دوگناہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک سوچی سمجھی پالیسی کا حصہ ہے۔  اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے نہایت ہی شاطرانہ طریقے سے مغربی کنارہ کو  شدت پسند عناصر کے حوالے کردیا ہے۔  وزیرخزانہ بیزالیل سموترچ  اپنے حکومتی  اختیارات کا بے جا استعمال کرتے ہوئے  غیرقانونی اسرائیلی آبادکاروں کے ذریعے ہونے والی تعمیرات کو تیز کررہے ہیں نیز غیرقانونی چوکیوں کو قانونی حیثیت دے رہے ہیں۔  اتنا ہی نہیں، انہوں نے مقبوضہ علاقوں کے  انتظامی اختیارات کو فوجی انتظامیہ سے اسرائیلی شہری اداروں کو منتقل کردیا ہے۔ یہ مقبوضہ علاقوں کے اسرائیل سے الحاق کی جانب ایک بنیادی  قدم سمجھا جاسکتا ہے۔ اسی دوران اسرائیل کے قومی سلامتی کے وزیر ایتامر بین گوئر نے اسرائیلی آبادکاروں کی تحریک کو سیاسی تحفظ بھی فراہم کردیا  ہے جو بار  بار مسجد اقصیٰ پر بھی دھاوا بولتے ہیں۔ ۲۳؍ جولائی کو ہزاروں اسرائیلی آباد کاروں نے پولیس کی بھاری حفاظت میں الحرام الشریف پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس وقت  بین گوئر بھی اُن کے ساتھ تھے۔ اس سے ’’مقاصد‘‘ اور ’’عزائم‘‘ سمجھ میں آتے ہیں۔   ایسی کارروائیوں کی پشت پناہی کے صلہ میں نیتن یاہوکو وہ چیز مل  جاتی ہے جس کی انہیں سب سے زیادہ ضرورت ہے: یعنی ان کی حکومت کا مسلسل برقرار رہنا۔ ۲۷؍ اکتوبر کے انتخابات کیلئے نیتن یاہو کی انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ مغربی کنارہ ہوگا۔  اسرائیلیوں کیلئے ان کا سیاسی پیغام یہی ہوگا کہ وہ نہ صرف ’’تحفظ‘‘ فراہم کرسکتے ہیں بلکہ مستقل طور پر فلسطین کا جغرافیہ بھی بدل سکتے ہیں۔ 

فلسطین کے عوام ایک ظالمانہ دوراہے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر فلسطینی مزاحمت نہ کریں تو اسرائیلی فوج اور آبادکار اپنی پیش قدمی جاری رکھیں گے اور اگر انہوں نے ظلم کا جواب دیا تو انہیں دہشت گرد کہہ کر  ان کے خلاف کارروائیاں ہوں گی جیسا کہ ہوتا آیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راہی معصوم رضا کی پیدائش کو ۱۰۰؍ سال ہو گئے

 باوجود اس کے کہ  اسرائیل گھروں کو مسمار کرسکتا ہے، راستوں کو بند کرسکتا ہے اور  پورے کے پورے خاندان کو گرفتار کرسکتا ہے، تِل کے واقعے نے بلاشبہ اس ظالمانہ رویے کو ختم کرنے کی طرف پیش قدمی کی ہے ۔ اسرائیل رفیوجی کیمپس کو خالی کرسکتا ہے جیسا کہ اس نے جینن ، طولکرم اور نور شمس کے کیمپوں پر حملہ کرکے کیا تھا۔ لیکن فوجی تسلط حقیقی قبضہ نہیں ہوتا۔ فلسطینی تاریخ اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے۔ دونوں انتفاضے اس وقت ہوئے تھے جب مسلسل ذلت، معاشی گھٹن اور فوجی جبر اس حد تک پہنچ گیا تھا کہ عام فلسطینیوں کے لئے برداشت کرنا ممکن نہیں رہ گیا تھا۔ اگر فلسطینیوں کی زمینوں کا تحفظ کیا جائے، ان کے قیدیوں کو رہا کیا جائے، ان کی بستیوں کو پُرامن زندگی گزارنے دی جائے اور ان کے بنیادی حقوق کا احترام کیا جائے، تو یہ دوبارہ اٹھ کھڑے ہوسکتے ہیں لیکن اگر عالمی حکومتیں اسرائیل کو جوابدہی سے بچاتی رہیں، تو پھر سوال یہ نہیں ہوگا کہ مغربی کنارہ کب اٹھ کھڑا ہوگا، بلکہ یہ ہوگا کہ کب، کہاں اور کون سا ایک واقعہ آخرکار اس چنگاری کا کام کریگا جو حالات کو بھڑکا دے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK