جین زی کے دل میں جو ہے وہی زبان پر ہے اور اسی لئے انہیں سیاستدانوں کی ریاکاری ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔ انہیں پروا نہیںکہ اس ’’ سبھیہ سماج‘‘ کو ان کی کوئی بات پسند ہے یا نہیں۔ جو اپنے ماں باپ کی نہیں سنتے وہ بھلا پردھان منتری کے اپدیش کیا سنیںگے؟
EPAPER
Updated: August 06, 2026, 3:26 PM IST | Parvez Hafeez | Mumbai
جین زی کے دل میں جو ہے وہی زبان پر ہے اور اسی لئے انہیں سیاستدانوں کی ریاکاری ایک آنکھ نہیں بھاتی ۔ انہیں پروا نہیںکہ اس ’’ سبھیہ سماج‘‘ کو ان کی کوئی بات پسند ہے یا نہیں۔ جو اپنے ماں باپ کی نہیں سنتے وہ بھلا پردھان منتری کے اپدیش کیا سنیںگے؟
جنتر منتر کے محاذ پر ہوئی نریندر مودی حکومت کی شکست کی ہزیمت سے قوم کی توجہ ہٹانے اور مظلوموں کو ہی خطاوار ٹھہرانے کی خاطر بھارتیہ جنتا پارٹی نے گودی میڈیا کی مدد سے فرضی بیانیہ کی ایک نئی جنگ چھیڑ دی ہے۔چونکہ یہ سارا نظام جمہوریت کے بجائے اب شخصیت پرستی (personality-cult) کے محور پر چل رہا ہے اس لئے اس بیانیہ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی مودی جی کو ہی سونپی گئی۔
۳۶؍دنوں کے آندولن کی کامیابی کے انعام کے طور پر ملی دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کی ٹرافی ساتھ لئے جب نئی نسل کے نوجوان جنتر منتر سے اپنے اپنے گھروں کو واپس لوٹ گئے تو پردھان منتری کے خصوصی مشیران سر جوڑ کر بیٹھے اور اس نتیجہ پر پہنچے کہ جین زی کی مودی سرکار سے انتہا تک پہنچی ہوئی بدگمانی اور برہمی کو اگر جلد ہی دور نہیں کیا گیا تو اگلے سال اترپردیش کے اسمبلی الیکشن اور ۲۰۲۹ء کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی شکست طے ہے۔ بانکی پور میں بی جے پی کی ذلت آمیز شکست اس بات کا ثبوت ہے کہ بی جے پی قیادت کے یہ خدشات غلط نہیں ہیں۔ جین زی کی ناراضگی اگر برقرار رہی تو بی جے پی کیلئے آگے کی راہ بے حد کٹھن ہونے والی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بِہار میں سرکاری ملازمت کی بَہار
طے یہ پایا کہ مودی جی جین زی کے پسندیدہ مواصلاتی پلیٹ فارم انسٹا گرام پر جاکر ان سے براہ راست مخاطب ہوں گے۔ بلاشبہ پردھان منتری کی انسٹا گرام ریل کو کروڑوں لوگوں نے دیکھا۔ مودی کے سیاسی گرو اڈوانی نے ٹھیک کی کہا تھا کہ وہ ایک ماہر event manager ہیں۔ لیکن انسٹا گرام پر سیلفی اسٹائل میں بنائی گئی ان ویڈیو ریلزکی مقبولیت سے قطع نظرمودی جی نے جس مقصد کے لئے یہ نیا مشغلہ شروع کیا تھا،اس کی کامیابی کا کوئی امکان نظر آرہا ہے۔ مجھے نہیں لگتا ہے کہ مودی جی جین زی کا دل جیتنے میں کامیاب ہوسکیں گے۔ مودی جی نے اپنی سیلفی ویڈیو کا آغاز ’’مترو‘‘ کے بجائے "Friends" سے کیا تو ہے لیکن احتجاجی بچے بھلا انہیں اپنا دوست کیسے سمجھ سکتے ہیں؟انہوں نے تو ۲۰؍جولائی کو جنترمنتر پر پولیس کریک ڈاؤن میں زخمی لڑکے اور لڑکیوں کے لئے ہمدردی کا ایک لفظ تک کہنا ضروری نہیں سمجھا۔
مودی جی انتہا تک پہنچی ہوئی نرگسیت کا شکار ہیں۔ اس ویڈیو میں بھی وہ اسی بات کا رونا روتے نظر آرہے ہیں کہ لڑکیوں نے انہیں اور ان کی سورگباشی ماتا جی کو بھدی بھدی گالیا ں دیں۔ مودی جی کا ریکارڈ اٹھاکر دیکھ لیں: وہ ہمیشہ گالیاں کھانے والی بات سناکر لوگوں سے ہمدردیاں بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں۔اسے وکٹم کارڈ کھیلنا کہتے ہیں۔ مودی جی نے بڑی چالاکی سے اپنے ذاتی درد کو قومی سانحہ بنانے کی بھی کوشش کی۔ مودی جی نے دعوی ٰ کیا کہ انہیں لڑکیوں کے ذریعہ انہیں گالیاں دی گئیں اسلئے ’’سماج کے اندر ایک جن آکروش‘‘ ہے۔ گالیاں دینا بری بات ہے خواہ گالیاں لڑکی دے یا لڑکا۔ ملک کا کوئی شہری وزیر اعظم کو گالی دینے کی حمایت نہیں کرے گا لیکن مودی جی کا یہ دعویٰ فرضی ہے کہ ان گالیوں کی وجہ سے عوام میں برہمی پھیل گئی ہے۔ بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لوگ مہاتما گاندھی جی کو دن رات گالیاں دیتے ہیں لیکن عوامی برہمی نظر نہیں آتی ۔ نہرو جی کی بھی لگاتار تذلیل کی جارہی ہے لیکن کوئی احتجاج نہیں ہوتا ہے۔
مودی جی کے مطابق کچھ شرارتی بچوں کے منہ سے ایسے ایسے الفاظ نکلے جو کسی بھی مہذب معاشرے کو گوارا نہیں ہوسکتے۔ ایسے درجنوں لیڈر ہیں جو مرکزی حکومت اور ریاستی حکومتوں میں اونچے عہدوں پر فائز ہیں جن کے خلاف ریپ اور مرڈر جیسے سنگین جرائم کے مقدمے چل رہے ہیں۔ مودی جی کو ایسے مجرمانہ ریکارڈ والے منتریوں سے پرہیز نہیں ہے۔ لیکن طلبہ خصوصاً طالبات انہیں سنسکاری چاہئیں۔ الفاظ سے کسی کا کچھ نہیں بگڑتا ہے۔ کیا مودی جی نے کبھی سوچا کہ ان کی پولیس قوم کے نوجوان لڑکے لڑکیوں کے ساتھ جس طرح کا ناروا سلوک کررہی ہے کیا کوئی مہذب معاشرہ اس طرز عمل اور رویے کو گوارا کرے گا؟
یہ بھی پڑھئے: راہی معصوم رضا کی پیدائش کو ۱۰۰؍ سال ہو گئے
مودی جی ایک شفیق بزرگ کی طرح شرارتی بچوں کی غلطیوں اور گستاخیوں کو معاف کرکے انہیں گلے سے لگانے کیلئے بے قرار ہیں لیکن ان کے ان فراخدلانہ دعووں کے باوجود پولیس نے ابھی بھی ایسے متعدد لڑکے لڑکیوں کے خلاف مقدمے واپس نہیں لئے ہیں اور اندھ بھکت ابھی بھی ان کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔
سچائی تو یہ ہے کہ احتجاجی طلبہ کو معافی دینے کا اعلان کرکے مودی جی نے عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ طلبہ کا احتجاج ایک جرم تھا جس کی انہیں سزا دلوائی جاسکتی تھی لیکن چونکہ مودی جی کا دل بہت بڑا ہے اسی لئے انہوں نے ان شرارتی بچوں کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پہلی اور بنیادی بات یہ ہے کہ ایک ماہ سے زیادہ عرصے تک چلا طلبہ اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کا یہ آندولن گمراہ اور شرارتی بچوں کی کارستانی نہیں تھا۔ نیویارک ٹائمز نے آندولن پر ایک خصوصی تجزیہ شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے:
The World`s Largest Democracy Gets a Second Chance
’’ نئی نسل کے ہندوستانی نوجوانوں کے دلوں میں برسوں سے محرومیوں اور مایوسیوں کا لاوا پک رہا تھا جو آتش فشاں بن کر اس تحریک کی صورت میں پھٹ پڑا۔‘‘ ٹائمز کے مطابق ہندوستانی نوجوان اپنی پرآشوب حقیقی زندگی اور مودی کے افسانوی خوشحال نیوانڈیا میں کوئی مطابقت نہیں پاتے ہیں۔ ملک کے بظاہرناقابل تسخیروزیر اعظم کو نوجوانوں نے پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔
یہ بھی پڑھئے: سلامتی کونسل کی منتخبہ نشست اور ہماری کدو کاوش
ساری دنیا کو سمجھ میں آرہا ہے کہ وشو گرو ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہندوستان کے نوجوانوں خصوصاً طلبہ کے دلوں میں برہمی اور اضطراب کا طوفان سر ابھاررہا ہے۔ سری لنکا، بنگلہ دیش اور نیپال کی طرز پر وطن عزیز میں بھی عوامی انقلاب کی قیاس آرائیاں کئی تجزیہ نگار کرچکے ہیں۔ مودی جی کو خلوص نیتی سے جین زی کی شکایات کا ازالہ کرنا چاہئے۔ جین زی کے دل میں جو ہے وہی زبان پر ہے اور اسی لئے انہیں سیاستدانوں کی ریاکاری ایک آنکھ نہیں بھاتی ہے۔ اس نسل کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے کہ ’’ سبھیہ سماج‘‘ کو کیا شوبھادیتا ہے کیا نہیں اور انہیں یہ گیان دیتا ہوا شخص بھی زہر لگتا ہے۔ جو نسل بڑی مشکلوں سے اپنے ماں باپ کی سنتی ہے وہ بھلا پردھان منتری کے اپدیش کیا سنے گی؟ یہ اپنی شرائط پر زندگی گزارنے والی نسل ہے۔ انسٹا گرام اور ریل کے ذریعہ ملک کے پڑھے لکھے نوجوانوں کا برین واش کرکے انہیں بھکت بنانے کی کوشش رائیگاں جائے گی۔یہ خود سر نسل قابو میں آنے والی نہیں ہے۔