ترکی، پاکستان اور اسپین سمیت ۱۲ ممالک کے گروپ نے اسرائیل کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس کارروائی کو ”بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی“ قرار دیا۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 10:04 PM IST | Athens/Brussels/Warsaw/Rome
ترکی، پاکستان اور اسپین سمیت ۱۲ ممالک کے گروپ نے اسرائیل کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس کارروائی کو ”بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی“ قرار دیا۔
غزہ کے فلسطینی باشندوں کیلئے امداد لے کر جا رہے گلوبل صمود فلوٹیلا کے بحری بیڑے پر بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیلی بحریہ کے حملے اور چھاپہ مار کارروائی کے بعد جمعرات کو عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اس واقعے پر مختلف حکومتوں، اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی گروپس کی جانب سے سخت تنقید کی جارہی ہے۔
یونان کی اہم اپوزیشن پارٹی ’پاسوک‘ (PASOK) نے اس واقعے میں وزیرِ اعظم کیریاکوس مِتسوتاکیس کی حکومت کے کردار پر سوال اٹھایا ہے۔ پاسوک کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ دیمیتریس مانٹزوس نے اس کارروائی کو ”سمندری بین الاقوامی قانون اور جہاز رانی کی آزادی کی سنگین خلاف ورزی“ قرار دیا۔ انہوں نے وضاحت طلب کی کہ آیا کوسٹ گارڈ سمیت یونانی حکام کو اسرائیلی آپریشن کا پہلے سے علم تھا اور کیا کریٹ کے قریب وہ مقام یونان کے ”تلاش و بچاؤ“ کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔
یونانی کمیونسٹ پارٹی نے بھی اس واقعے کو ”قزاقی“ قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور سوال اٹھایا کہ کیا ایتھنز نے اسرائیل کے ساتھ تعاون کیا تھا اور ان شہریوں کے تحفظ کیلئے کیا اقدامات کئے گئے جو مبینہ طور پر تباہ شدہ جہازوں میں بے یار و مددگار چھوڑ دیئے گئے تھے۔ واضح رہے تھے کہ فلوٹیلا، جس میں سیکڑوں کارکن اور درجنوں امدادی کشتیاں شامل تھیں، صقلیہ، اٹلی سے غزہ کو انسانی امداد فراہم کرنے کے مقصد سے روانہ ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل، غزہ کے۱۴؍ ڈاکٹروں کو فوراً رہا کرے: فزیشنز فار ہیومن رائٹس کا مطالبہ
۱۲ ممالک نے ’بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی‘ پر اسرائیل کی مذمت کی
ترکی، پاکستان اور اسپین سمیت ۱۲ ممالک کے گروپ نے اسرائیل کے اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔ ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس کارروائی کو ”بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فلوٹیلا ایک پرامن شہری اقدام تھا جس کا مقصد غزہ کے انسانی بحران کو اجاگر کرنا تھا۔ انہوں نے آپریشن کے دوران حراست میں لئے گئے کارکنوں کی حفاظت پر تشویش کا اظہار کیا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔ بیان میں عالمی برادری پر مزید زور دیا گیا کہ وہ قانونی ذمہ داریوں کو برقرار رکھے، شہریوں کا تحفظ کرے اور احتساب کو یقینی بنائے۔
ملائیشیا کی ’قزاقانہ اقدامات‘ کی مذمت، شہریوں کی رہائی کا مطالبہ
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے اسرائیلی کارروائی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ”سمندری قانون کی واضح خلاف ورزی“ قرار دیا اور اسے قزاقی سے تشبیہ دی۔ انہوں نے کہا کہ یہ آپریشن ”آفاقی انسانی اصولوں پر بدنما داغ“ ہے۔ انور ابراہیم نے تصدیق کی کہ حراست میں لئے گئے افراد میں ۱۰ ملائیشین شہری بھی شامل ہیں اور ان کی حکومت ان کی رہائی کیلئے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ رابطہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”ہم خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔“ کارکنوں نے اطلاع دی کہ اسرائیلی افواج نے کریٹ کے قریب فلوٹیلا کو گھیر لیا، مواصلات جام کر دیے اور متعدد جہاز قبضے میں لے لئے، جس سے کئی کشتیاں ناکارہ ہوگئیں۔
یہ بھی پڑھئے: گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی کارروائی، گرفتار کارکنان کو یونان بھیجنے کا فیصلہ
پولینڈ میں زیرِ حراست کارکن کے حق میں احتجاج
پولینڈ کے دارالحکومت وارسا میں، درجنوں افراد صمود فلوٹیلا کے جہاز کو روکے جانے کے خلاف احتجاج کرنے کیلئے اسرائیلی سفارت خانے کے باہر جمع ہوئے۔ اس جہاز پر ایک پولش شہری بھی سوار ہے۔ مظاہرین نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ”فلوٹیلا کو آزاد کرو“ کے نعرے درج تھے۔ انہوں نے اسرائیل پر بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا تھا۔ پولینڈ کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے اور سفارتی ذرائع سے مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
پورے اٹلی میں بڑے پیمانے پر مظاہرے
اطالوی دارالحکومت روم، میلان اور نیپلز سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی آپریشن کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے فلسطینی پرچم اٹھا رکھے تھے اور کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ریلیوں کے مقررین نے اس واقعے کو ”قزاقی“ قرار دیا اور حکومت کے ردِعمل کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سخت سفارتی کارروائی پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارے میں بڑھتا تشدد: یورپی یونین کا فلسطینیوں کے تحفظ کیلئے نیا پروگرام
میلونی نے فلوٹیلا کے مقصد پر سوال اٹھایا
اطالوی وزیرِ اعظم جارجیا میلونی نے فلوٹیلا کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ”غزہ کے لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچتا“ بلکہ یہ ”مزید مسائل“ پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اٹلی نے اسرائیلی حکام تک اپنے خدشات پہنچا دیئے ہیں۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ حکام نے حراست میں لئے گئے شرکاء کی رہائی کا اشارہ دیا ہے۔ تاہم، انہوں نے مزید کہا کہ مستقبل کے مشنز کی حفاظت کیلئے بحری جہاز تعینات کرنے کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔