بے گھر فلسطینیوں نے اسرائیل کی مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی سےتنگ آکر احتجاجاًاپنے خیمے نذر آتش کئے، غزہ کے محلہ زیتون میں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ خیمے اب نہ تو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی باوقار زندگی۔
EPAPER
Updated: May 01, 2026, 10:04 PM IST | Gaza
بے گھر فلسطینیوں نے اسرائیل کی مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی سےتنگ آکر احتجاجاًاپنے خیمے نذر آتش کئے، غزہ کے محلہ زیتون میں فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ خیمے اب نہ تو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی باوقار زندگی۔
مشرقی غزہ شہر میں بے گھر فلسطینیوں نے اپنے ہی خیموں کو انتہائی ناامیدی کے عالم میں احتجاج کرتے ہوئے آگ لگا دی، جس سے بگڑتے ہوئے حالاتِ زندگی اور اسرائیل کی جانب سے طےجنگ بندی کی بار بار خلاف ورزیوں پر بڑھتی مایوسی جھلکتی ہے۔یہ احتجاج جمعرات کو دارالسلام کیمپ، محلہ زیتون میں ’’ہم اپنے خیمے اس سے پہلے جلا دیتے ہیں کہ وہ ہمیں جلا دیں‘‘ کے نعرے کےتحت ہوا، جس میں درجنوں بچوں سمیت باشندوں نے فوری تحفظ کا مطالبہ کیا۔شرکاء نے کیمپ کو اسرائیلی فائرنگ سے بچانے کے لیے مٹی کی رکاوٹیں تعمیر کرنے اور بنیادی انسانی امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا، کیونکہ پانی اور ضروری اشیاء کی شدید قلت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی مسلسل رکاوٹوں کے سبب غزہ کے اسپتالوں میں آکسیجن کی قلت
دریں اثناءبے گھر اسماء ارحیم، جو اسرائیلی فائر نگ سے زخمی ہو چکی ہیں، نے کہا کہ ’’جب فائرنگ شروع ہوتی ہے تو ہم خیمے کے اندر زمین پر گر جاتے ہیں۔ یہ کوئی حقیقی تحفظ نہیں دیتا۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ اہل غزہ مہینوں سے پانی تک قابلِ اعتماد رسائی کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں، جس کی وجہ سے انہیں پانی لینے لمبا فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے، جبکہ خوراک کی امداد وقفے وقفے سے آتی ہے۔یہ خیمے اب نہ تو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور نہ ہی باوقار زندگی۔‘‘ بعد ازاں انہوں نے خیموں کو آگ لگانے کو غصے کاعلامتی اظہار قرار دیا۔ واضح رہے کہ یہ کیمپ مشرقی غزہ شہر میں نام نہاد ’’پیلی لکیر‘‘کے قریب ہے، جہاں سے اسرائیلی افواج اکتوبر۲۰۲۵ء میں ہونے والی جنگ بندی معاہدے کے تحت پیچھے ہٹ گئی تھی۔ تاہم یہاں کے باشندوں کا کہنا ہے کہ اس علاقے کو تب سے بار بار اسرائیلی فائرنگ کا سامنا ہے، جو کیمپ میں رہنے والوں کے لیے مسلسل خطرہ بنی ہوئی ہے۔ایک اور بے گھر باشندے وسام عبداللہ نے کہا، ’’جنگ کے دوران ہمیں پتہ ہوتا تھا کہ بمباری کب شروع ہوگی۔ جبکہ اب آپ معمول کے مطابق چل رہے ہوتے ہیں اور کسی بھی وقت گولی لگ سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ وہ دو بار گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں، اور ایک گولی ہفتوں کی تکلیف کے بعد کل ہی ان کے جسم سے نکالی گئی۔جنگ بندی کی باتوں کے باوجود حقیقت بالکل مختلف ہے۔‘‘دارالسلام کیمپ میں زیتون کے دیگر حصوں سے فرار ہونے کے بعد سیکڑوں بے گھر فلسطینی رہ رہے ہیں، جہاں انسانی حالات مزید بگڑ رہے ہیں اور امداد محدود ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو لبنان میں تحمل سے کام لینے کی نصیحت
ذہن نشین رہے کہ اکتوبر۲۰۲۵ء میں اسرائیلی نسل کشی میں جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیل نے سینکڑوں مرتبہ اس کی خلاف ورزی کی ہے۔غزہ کی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل نے کم از کم۸۲۴؍ فلسطینیوں کو شہید اور۲۳۱۶؍ کو زخمی کیا ہے۔ جبکہ اسرائیل نے اکتوبر۲۰۲۳ء سے غزہ میں اپنی نسل کشی میں ۷۲۵۰۰؍ سے زائد فلسطینی (اکثریت خواتین و بچے) شہید اور۱۷۲۰۰۰؍ سے زائد زخمی کر دیئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صرف ایک ابتدائی تخمینہ ہے، جبکہ اصل ہلاکتیں۲؍ لاکھ کے قریب ہو سکتی ہیں۔اسرائیل نے مسلسل رہائشی علاقوں پر حملوں میں بیشتر علاقہ ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے، اورتمام آبادی کو بے گھر کر دیا ہے، ا س کے علاوہ محصور علاقے کے نصف سے زائد پر قبضہ کر لیا ہے۔