ملک کے مختلف حصوں میں کرسمس کی تقریبات کو درہم برہم کرنے کی خاطر جس بے خوف اور منظم طریقے سے شرانگیزی، توڑ پھوڑ اور محاذآرائی کی گئی اس سے یہ صاف ظاہر تھا کہ بھگوادھاری غنڈوں کو قانون کا ذرا سا بھی ڈر نہیں تھا۔ ہر جگہ پولیس خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی اور انتہا پسند گروہ اپنی من مانی کرتے رہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ۲۵؍دسمبر کی صبح دلی کے ایک گرجا گھر میں کرسمس کی خصوصی عبادات میں شرکت بھی کی اور انہماک اور احترام سے پادری کا خطبہ بھی سنا۔ مودی جی نے بعد میں سوشل میڈیا ایکس پر لکھاکہ کرسمس کی خصوصی سروس میں محبت، امن اور رحمدلی کالازوال پیغام نمایاں تھا۔انہوں نے یہ امید ظاہر کی کہ کرسمس کے اس پیغام سے معاشرے میں ہم آہنگی اور خیر سگالی فروغ پائے گی۔
وزیر اعظم کو یہ دیکھ کر مایوسی ہوئی ہوگی کہ ان کے توقع کے برعکس اس بار کرسمس کے موقع پر ہندو توا وادی طاقتوں نے قومی ہم آہنگی او ر مذہبی خیر سگالی کو پارہ پارہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ مودی جی کی ایک قابل تحسین پیش رفت پرسنگھ پریوار کے جنونی کارکنوں نے پانی پھیر دیا۔
راجستھان، اتر پردیش، آسام، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، اڑیسہ اور متعدد صوبوں میں کرسمس ٹری، سانتا کلاز اور کرسمس کی سجاوٹوں کو تباہ اور تہوار کی تیاریوں میں مصروف لوگوں کو دہشت زدہ کیا گیا۔ بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے غنڈوں نے گرجا گھروں ، مشنری اسکولوں ،شاپنگ مالز،اور کرسمس کے روائتی نغمے (carols) گانے والے بچوں اور فٹ پاتھوں پر کرسمس کی ٹوپیاں بیچنے والے لوگوں کوبھی نشانہ بنایا۔ کیا یہ کوئی اتفاق تھا کہ جن صوبوں میں کرسمس کی تقریبات میں شرپسندی کی گئی ان میں سوائے کیرالا کے باقی سبھی صوبوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومتیں ہیں ؟جبل پور میں جس بددماغ خاتون نے چرچ کی ایک تقریب میں حصہ لے رہی ایک نابینا لڑکی کو زدو کوب کرنے کی کوشش کی وہ بی جے پی کی ایک مقامی لیڈر تھی۔بریلی کے ایک چرچ کے اندر ہورہی عبادت میں خلل ڈالنے کیلئے چرچ کے باہر ایک بھگوا ٹولہ بلند آوازمیں ہنومان چالیسا بھی پڑھتا رہااور جے شری رام کے نعرے بھی لگاتارہا۔
ملک کے مختلف حصوں میں کرسمس کی تقریبات کو درہم برہم کرنے کی خاطر جس بے خوف اور منظم طریقے سے شر انگیزی، توڑ پھوڑ اور محاذآرائی کی گئی اس سے یہ صاف ظاہر تھا کہ بھگوادھاری غنڈوں کو قانون کا ذرا سا بھی ڈر نہیں تھا۔ ہر جگہ پولیس خاموش تماشائی بنی کھڑی رہی اور انتہا پسند گروہ اپنی من مانی کرتے رہے۔ کرسمس کی تقریبات میں کی گئی تخریب کاری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی پربھو چاؤلہ نے یہ تجویز پیش کی کہ ریاستی حکومتوں کو چاہئے کہ ایسے شرپسندعناصر کے گھروں پر بھی بلڈوزر چلوانے کا حکم دیں ۔
کرسمس کے موقع پر گرجا گھروں میں کی جانے والی خصوصی عبادات تو عیسائی مذہب کے پیروکاروں تک محدود رہتی ہیں لیکن اس تہوار کی خوشیوں میں غیر عیسائی بھی بڑے پیمانے پر حصہ لیتے ہیں ۔ ہمارے ہندوستان جنت نشان میں ایک جانب جہاں ہندو دھرم کے خود ساختہ ٹھیکیدار دوسری ریاستوں میں کرسمس کی تقریبات میں رنگ میں بھنگ ڈال رہے تھے تو دوسری جانب کلکتہ میں یہ تہوار اتنے ہی جوش و خروش سے منایا گیا جتنا لندن یا نیو یارک میں منایا جاتا ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے ہر سال کی طرح اس بار بھی کرسمس سے ایک ہفتہ قبل اپنے ہاتھوں سے پارک اسٹریٹ میں واقع ایلین پارک میں ’’ کولکاتا کرسمس فیسٹول‘‘کا افتتاح کیا۔پارک اسٹریٹ شہر کی مصروف اور معروف ترین سڑکوں میں سے ایک ہے۔ پارک اسٹریٹ کو ہر سال کرسمس سے قبل دلہن کی طرح سجایا جاتا ہے اور سال نو کی آمد تک لاکھوں لوگ ہر روزیہاں جمع ہوتے ہیں ۔ ہر طرف جشن کا سماں ہوتا ہے۔ ۲۴؍ اور ۲۵؍ دسمبر کو تو یہاں لوگوں کا ایسا اژدہام امڈ پڑتا ہے کہ پارک اسٹریٹ پر گاڑیوں کی آمدورفت بند کردی جاتی ہے۔ بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے جو تنگ نظر کارکن یہ سمجھتے ہیں کہ کرسمس کی سرخ ٹوپی اوڑھ لینے یا کرسمس ٹری گھر میں سجا لینے سے دھرم خطرے میں پڑجائے گا انہیں ایک بار کلکتہ کے پارک اسٹریٹ پر کرسمس کے جشن کا مشاہدہ کرنا چاہئے۔ لاکھوں ہندو ہر سال اس جشن میں شامل ہوکر ملک کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ کرسمس کی شادمانیوں میں سبھوں کا حصہ ہے۔بہت سے غیر عیسائی سینٹ پال کیتھیڈرل میں کرسمس کی نصف شب کی خصوصی سروس میں بھی شامل ہوتے ہیں ۔ خود وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی ہر سال بلا ناغہ چرچ میں کرسمس کی خصوصی سروس میں ضرور حصہ لیتی ہیں ۔
کلکتہ میں ایسے بنگالی گھرانے کم ہی ہوں گے جہاں کرسمس کے کیک کا لطف نہیں اٹھایا جاتا ہو۔ دسمبر آتے ہی بنگال کے دور دراز کے علاقوں سے لوگ کلکتہ کے قلب میں واقع نیو مارکیٹ کا رخ کرتے ہیں جہاں کرسمس کی سجاوٹ کے سازوسامان کی فروخت کے لئے خصوصی اسٹالز لگائے جاتے ہیں ۔ قارئین کو یہ شاید یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ خریداروں میں اکثریت غیر عیسائیوں کی ہوتی ہے۔کلکتہ کے نواح میں واقع بیلور مٹھ میں رام کرشن مشن کا ہیڈ کوارٹر ہے۔یہ ہندوؤں کی ایک اہم زیارت گاہ ہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ بیلور مٹھ میں بھی ہر سال کرسمس منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر بائبل کے اقتباسات پڑھے جاتے ہیں اور عقیدت مندوں میں کیک تقسیم کیا جاتا ہے۔رام کرشن مشن کے بانی سوامی وویکا نندکے وقت سے یہ روائت چلی آرہی ہے۔ عیسائی ہندوستان کی ایک چھوٹی سی اقلیت ہیں اور مجموعی آبادی میں ان کا تناسب دو فی صد ہے۔ وہ عموماً اپنے کام سے کام رکھنے والے لوگ ہیں لیکن پچھلے دس برسوں میں ان کی عبادت گاہوں ، ثقافتی اداروں اور ذاتی املاک پر شدت پسند ہندوتوا وادی تنظیموں کے حملوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے : فسطائیت کی صدی بالآخر ختم ہوئی
بنگلہ دیش میں ہندو نوجوانوں کے حالیہ قتل کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن ہمسایہ ملک میں اقلیتوں پر ہورہے مظالم پر زبان کھولنے سے پہلے کیا ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا نہیں چاہئے؟ ہم دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے پر اتراتے ہیں ، ہم سیکولرزم اور مذہبی آزادی کے نعرے بلند کرتے ہیں لیکن زمینی حقیقت کچھ اور ہی ہے۔نسلی مساوات، مذہبی رواداری اور لسانی کشادہ دلی کبھی ہندوستانیوں کی شناخت ہوا کرتی تھی لیکن پچھلے دس برسوں میں ہم نے ان اقدارسے کنارہ کشی اختیار کرلی ہے۔ پچھلے دو ہفتوں میں ہی دہرہ دون میں تری پورہ، کیرل میں چھتیس گڑھ اور اڑیسہ میں مغربی بنگال کے باشندے مذہبی، نسلی اور لسانی منافرت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ ملک میں لنچنگ جیسے ہیٹ کرائم اب وبائی صورت اختیار کرتے جارہے ہیں ۔
وزیر اعظم کا دلی کے چرچ میں حاضری دینا ضروری نہیں تھا۔ ملک کا آئین عیسائی شہریوں کو بھی کرسمس منانے کا اتنا ہی حق دیتا ہے جتنا ہندوؤں کو دیوالی اور مسلمانوں کو عید منانے کا دیتا ہے۔ کا ش حکومت نے کرسمس سے چند روز قبل صرف یہ پیغام نشر کرادیا ہوتا۔