Inquilab Logo Happiest Places to Work

رفتگاں رفتگاں آپ جیسا جہاں، اب کہاں اب کہاں!

Updated: July 18, 2026, 2:20 PM IST | Shahid Latif | Mumbai

یہ مضمون نہیں، رفتگاں کے نام خط ہے جو اس سے پہلے بھی لکھا جاچکا ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ زمانہ بدل رہا ہے اور تغیرات بے لگام ہیں، پتہ نہیں کہاں لے جائیں۔ ایسے میں یادِ رفتگاں پہلے سے سوا ہوجاتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

بزرگانِ محترم، خاکسار کا یہ دوسرا خط ہے جو آپ کے نام لکھا جارہا ہے۔ پہلے خط میں اس یقین کا اظہار کردیا گیا تھا کہ خط بھلے ہی آپ کے نام ہے مگر آپ تک نہیں پہنچے گا کیونکہ کوئی بھی مکتوب، مکتوب الیہ تک تبھی پہنچتا ہے جب اس کا پتہ درج کیا گیا ہو۔ آپ کا پتہ عالم بالا کا ہے۔و ہاں کوئی ڈاکیہ نہیں جاتا۔ جاتا بھی ہے تو خط پہنچانے نہیں جاتا۔ وہ ’’ہستی سے عدم تک نفس ِچند کی راہ‘‘ سے گزر کر وہاں پہنچتا ہے، اسی لئے یقین ِراسخ ہے کہ یہ دوسرا خط بھی آپ تک نہیں پہنچے گا مگر اس کی وجہ سے خط لکھنا ترک تو نہیں کیا جاسکتا۔ دُنیا میں ہزاروں لاکھوں لوگوں نے ہزاروں لاکھوں مکتوبات لکھے ہیں جو مکتوب الیہ تک نہیں پہنچے، پہنچ بھی نہیں سکتے تھے، اس کے باوجود اُن لوگوں نے جو موجود ہیں، اُن کیلئے  خطوط لکھے ہیں جو مرحوم ہوچکے ہیں، اور اسی مناسبت سے یہ خط تحریر کیا جارہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جو موجود ہیں اُن کی سوچ کے برعکس آپ کو خطوط ملتے بھی ہوں اور آپ انہیں پڑھتے بھی ہوں۔ عالم بالا کی باتیں آپ سب ہی جانتے ہیں، ہم سب تو بالکل نہیں جانتے اور جاننا بھی نہیں چاہتے کیونکہ ڈرتے ہیں۔ پہلے نہیں تھا ایسا۔ یہ نئی نفسیات ہے۔ اب ہم عالم بالا سے ڈرتے ہیں۔ آپ حضرات ’’چوں مرگ آید تبسم بر لب اوست‘‘ کے قائل تھے، اس کے تمنائی ہوا کرتے تھے۔ اب دُنیوی تمنائیں اس قدر دل میں پل رہی  ہیں کہ مزید کسی تمنا کی گنجائش نہیں رہتی۔ آپ کے دلوں میں بھی تمنائیں رہتی رہی ہوں گی مگر آپ کی کیفیت مختلف تھی، ہماری کیفیت مختلف ہے۔ شاید اسی پر مرحوم جگر (مرادآبادی) نے اس طرح روشنی ڈالی تھی: ’’جب دل میں تمنا تھی اب دل ہی تمنا ہے‘‘۔ 

یہ بھی پڑھئے: کارِ خیر کے نام پر چندہ چوری عام نہ ہو!

بہرکیف، مجھے یاد نہیں رہا کہ اس سے قبل جو خط لکھا تھا اس کے مندرجات کیا تھے اور موضوع کیا تھا۔ مگر مجھے یہ اُمید بھی ہے کہ نہ تو مندرجات کی تکرار ہوگی نہ ہی موضوع دُہرایا جائیگا کیونکہ پچھلے اور اس خط کے درمیان جتنا عرصہ گزرا ہے اُس میں بھی تغیرات کی یورش رہی، آپ شاید یقین نہ کریں کہ موجود وقت میں دُنیا اتنی تیزی سے بدل رہی ہے کہ ایسا لگتا ہے بہت عجلت میں ہے۔ اسی لئے دیکھئے کہ عمریں کم ہوگئی ہیں۔ آپ میں بہت ہونگے جو دو سو سال جئے،  ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے ڈیڑھ سو سال بعد رخت ِ سفر باندھا۔ موجودہ دور کا حال عجب ہے۔ چالیس پچاس میں وقت ِموعود آجاتا ہے یعنی ابھی آئے، ابھی بیٹھے اور ابھی دامن سنبھالا تھا کہ اچانک فرشتہ وارد ہوگیا کہ چلئے۔ آپ کے ہاں میردرد ؔموجود ہوں گے۔ بعد از سلام اُن تک یہ پیغام پہنچا دیجئے کہ آپ کے شعر کا یہ مصرعہ اب پہلے سے سوا یا د آتا ہے: ’’ساقیا! یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ‘‘۔ وہاں انشاؔ بھی ہوں گے۔ بعد از سلام اُن سے بھی عرض کیجئے کہ ’’بہت آگے گئے، باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں‘‘ کہہ کر آپ نے دُنیا کی بے ثباتی کی طرف اشارہ کیا تھا مگر اب ’’باقی جو ہیں‘‘ وہ ’’تیار بیٹھے‘‘ نہیں ہیں کیونکہ ہر شخص مصروف ہے۔ محترم حضرات، آپ کو یہ جان کر سخت حیرت ہوگی کہ آپ کی ترک کی ہوئی دُنیا میں اِس وقت جو لوگ موجود ہیں وہ جب مصروف نہیں رہتے تب بھی فارغ نہیں رہتے۔

آپ اس جملے کو مہمل کہیں گے۔ آپ کا فرمانا سو فیصد درست مگر یہ مہمل نہیں ہے۔ حال ہی کچھ ایسا ہے۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو مصروف نہیں ہے وہ مبتلا ہے۔ شاید یہ جملہ مہمل نہ ہو۔ ایک مسئلہ اور ہے۔ ہم نے خود کو زندگی سے بڑا سمجھ لیا ہے، ہمارے خیال میں زندگی ہم سے ہے، ہم زندگی سے نہیں۔ آپ کہیں گے تب تو زندگی کی قدر بڑھ گئی ہوگی؟ نہیں۔ کم وقت میں زیادہ جینا آپ کا اسلوب تھا۔ آج کے لوگ، جو آپ کے اخلاف ہیں، زیادہ وقت میں کم جیتے ہیں۔ آپ ایک دن کیلئے بھی پرانی دُنیا میں لوَٹ آئیں تو ہم پر نگاہِ قہر ڈالتے ہوئے ہمیں گھر سے نکال دینگے مگر مجھے علم ہے کہ آپ کو موقع دیا گیا تب بھی آپ واپس نہیں آنا چاہیں گے۔ ویسے، دُنیا اب آپ کے قابل نہیں رہ گئی ہے۔ واقعات کی آماجگاہ اور حادثات کی تجربہ گاہ بن جانے والی اِس دُنیا میں موٹر گاڑیاں اتنی ہیں کہ خدا کی پناہ، موٹر گاڑیوں کا شوق بھی اتنا ہے کہ خدا کی پناہ۔ آپ کہیں گے کیا ہوتی ہیں موٹر گاڑیاں۔ یوں سمجھ لیجئے کہ آپ دو پیروں پر چلتے تھے، اب چار پہیوں پر دوڑا جاتا ہے۔ دو پیروں پر چلنے کی روایت پرانی ہوگئی ہے۔ جو دو پیروں پر چلتا ہے اُسے بہ نگاہِ حقارت دیکھا جاتا ہے۔ کبھی کبھی تو اُس پر گاڑی چڑھا دی جاتی ہے۔ عدالت اب بھی مانتی ہے کہ راستوں پر پیدل چلنے والوں کا حق پہلا ہے۔ ابھی چند روز پہلے ہی سپریم کورٹ نے راہ گیروں کے اس حق پر روشنی ڈالی ہے مگر جس کے پاس گاڑی آجاتی ہے وہ ’’کہاں رُکتا ہے عرش و فرش کی آواز سے‘‘ وہ تو حد پرواز سے آگے جانا چاہتا ہے ۔ افسوس کہ چلا بھی جاتا ہے!

یہ بھی پڑھئے: شمال اور جنوب کے درمیان ہندوستان

بزرگان محترم، چونکہ خط لکھ رہا ہوں اس لئے آپ حضرات کے خطوط یاد آرہے ہیں۔ آپ ہر خط کے اخیر میں لکھتے تھے ’’تمام خردو کلاں کو سلام‘‘۔ اب کسی کو خرد کا معنی معلوم ہے نہ ہی کلاں کا۔ خرد کو کلاں کہہ دیجئے یا کلاں کو خرد، دونوں ہکا بکا رہ جائینگے اور اس طرح مخاطب کئے جانے کو ذہنی خلل سمجھیں گے۔آپ ’’خیریت دارم و خواہم‘‘ بھی لکھتے تھے۔ اب کسی سے کہئے اور پوچھئے کہ اس کا معنی کیا ہوا تو جواب ملتا ہے: ’’کچھ تو خیریت کے بارے میں ہے‘‘۔اس لئے وہ معدو دے چند لوگ جنہوں نے آپ کے خطوں اور تذکروں سے استفادہ کیا ہے، ایسے جملے اور فقرے نوکِ زبان پر نہیں آنے دیتے، احتیاط کرتے ہیں۔ آپ حضرات اپنے چھوٹوں کو ٹوکتے تھے، اب جو بڑے ہیں وہ چھوٹوں کو ٹوکتے نہیں ہیں۔ سوچتے ہیں چھوٹوں کی شان  میں گستاخی نہ ہو جائے۔ نصیحت بھی نہیں کرتے۔ آپ کے دور کے لوگ جب اپنے بڑوں سے ملتے تھے تو درخواست کرتے تھے کہ حضرت کوئی نصیحت فرما دیجئے۔ اب چھوٹے، بڑوں سے فرماتے ہیں کہ دادا جی پلیز، کوئی نصیحت مت کیجئے۔ آپ سمجھیں گے یہ المیہ ہے۔ جی نہیں۔ المیہ یہ ہے کہ بڑے، چھوٹوں کی اس فہمائش کا بُرا نہیں مانتے، ہنس کر رہ جاتے ہیں۔ 

اب کوئی نصیحت کر بھی دے اور کوئی اس پر عمل کر بھی لے تو نتیجہ صفر ہی رہتا ہے۔ پہلے برکت کی نصیحت گئی، اب دیکھئے کہ نصیحت کی برکت گئی۔  برکت کے ذکر پر  یاد آیا کہ اب برکت کا حقیقی مفہوم بھی کم ہی لوگ جانتے ہیں۔اگلے خط میں مزید باتیں ہونگی، والسلام۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK