دہلی میں کتاب میلہ جاری ہے۔ روزانہ کافی بھیڑ ہورہی ہے۔ اس کے باوجود کہنا پڑتا ہے کہ کتابیں خریدنا اور بات ہے کتابیں پڑھنا اور بات۔ کتابیں نہ پڑھی جانے سے الفاظ کا ذخیرہ تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ہم جانتے بھی نہیں کہ کتنا کم ہوچکا ہے۔
لفظکی قسمت بھی عجیب ہے۔ پڑا رہتا ہے لغت میں ۔ کوئی اُٹھا لے تو اُس میں جان پڑ جاتی ہے۔ سلیقے سے استعمال کرلے تو وہ خوش ہوتا ہے۔ گفتگو کا موضوع بن جائے تو اچھلنے لگتا ہے اور صحت ِ زبان کے نقطۂ نظر سے اُس پر اساتذہ کے کلام سے سند پیش کی جائے تو اُس کے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے۔ مگر جب ایسا نہیں ہوتا، اور ظاہر ہے کہ اب تو برسوں میں ایک آدھ بار بھی ایسا نہیں ہوتا، تب وہ بڑی بے بسی محسوس کرتا ہے، سوچتا ہے کیا کرے، کتابوں اور لغت سے نکل کر کہیں اور چلا جائے؟ مگر کہاں جائے؟ لغت اس کی آخری پناہ گاہ اور آخری پناہ گاہ سوالیہ نشان ہے۔ اپنی بے بسی کا شکوہ کرے تو کس سے کرے؟ دور دور تک تو کوئی نہیں جو اُس کی فریاد سننے کا روادار ہو۔ اُسے اپنوں میں غیریت کا احساس ہوتا ہے۔ سب اُس کے ہیں مگر ہونے جیسا کوئی نہیں ہے۔ کوئی نہیں ہے جو لغت میں جاکر اُس کی خیریت دریافت کرے، برسوں استعمال نہ ہونے کی وجہ سے اُس پر جو دھول جم گئی ہے اُس کو صاف کرے اور عہد کرے کہ آئندہ تغافل نہیں ہوگا۔ کبھی کبھی وہ کشمکش میں پڑ جاتا ہے کہ جسے وہ دھول سمجھ رہا ہے وہ دھول ہی ہے یا زنگ۔ دھول ہے یا زنگ، زنگ ہے یا دھول؟ کافی کوشش کے باوجود وہ فیصلہ نہیں کرپاتا!
لفظ کو، لغت میں پڑے پڑے اپنی حکمرانی کا دور یاد آتا ہے۔ وہ اہل زبان پر اور اہل زبان اُس پر ناز کرتے تھے۔ مجال تھی جو کوئی اُسے توڑ مروڑ دیتا! ہمت تھی کسی کی جو اُس کے اعراب یا املا بدل دیتا؟ حوصلہ تھا کسی میں کہ اُسے صحیح معنی میں استعمال نہ کرتا؟ جرأت تھی کسی میں کہ اس سے پیدا کی گئی معنویت کو ماننے سے انکار کرتا؟ مگر اب اُسے روزانہ ذلت اُٹھانی پڑتی ہے۔ لغت میں پڑا رہنا اور استعمال میں نہ آنا ذلت ہی تو ہے! اور استعمال تو ہونا مگر صحت کے ساتھ استعمال نہ ہونا تو اور بھی بڑی ذلت ہے۔ اتنا ہی نہیں ، کبھی کبھی استعمال ہونا مگر کسی کی سمجھ میں نہ آنا کہ یہ کیا ہے، یہ تو شرم سے ڈوب مرنے کی بات ہے۔ بے چارہ لفظ اس ذلت کو نہایت خاموشی سے سہتا ہے۔ زبان و بیان کی آب و تاب کے دَور میں اُس کی ضو فشانی اور طمطراق کے سب گرویدہ تھے۔ اس کے قصے آج بھی کتابوں میں محفوظ ہیں مگر کتابیں کہاں ہیں ؟ یہ الگ سوال ہے۔ اہل علم اور اہل زبان سے لفظ کی گاڑھی چھنتی تھی۔ وہ اہل زبان کی زبان پر آتا تو اس کی عید ہوجاتی تھی۔ سامعین و قارئین اُس سے مرعوب رہتے، مدرسین کو اس کے بارے میں مزید کچھ سیکھنے کی جستجو رہتی جو اپنے طالب علموں کو سکھانے کی لگن میں تبدیل ہوتی، لغت نویس اس کیلئے دامن دل کشادہ رکھتے اور عوام اُس کی حفاظت کا بیڑہ اُٹھاتے تھے۔ اُس سے کسی کو بیر نہیں تھا اور وہ کسی سے بیر نہیں رکھتا تھا۔ شاہ و گدا سب کے کام آتا۔ لغت میں وہ تب بھی تھا مگر قید نہیں تھا۔ باہر آنے کے بے شمار مواقع اُسے روزانہ ملتے تھے۔ کبھی محفل کا رُخ کرتا کبھی بازار کا۔ کبھی رصد گاہ میں چلا جاتا کبھی تجربہ گاہ میں ۔ کبھی سرکاری دفاتر میں ٹہلتا کبھی عدالتوں میں ۔ کبھی عبادت گاہوں اور درس گاہوں میں اپنے جلوے بکھیرتا، کبھی گھروں اور چوپالوں میں ، کبھی آپسی گفتگو میں اور نہ جانے کہاں کہاں قلانچیں بھرتا۔ ہر علاقہ اس کی عملداری میں تھا اور ہر شخص پر اُس کی حکومت تھی۔
یہی باتیں سوچتا ہوا خدا جانے کب مَیں نیند کی آغوش میں پہنچ گیا۔ شاید ایک پہر بھی نہیں گزرا تھا کہ عالم ِ خواب میں بہت سے لفظ اس طرح نظر آنے لگے جیسے موسم بہار میں شاخوں پر پھول کھلے ہوتے ہیں ۔ دیکھتا ہوں کہ مَیں اُن کے قریب جاکر اُن کو پڑھنے اور اُن کی کیفیت سمجھنے کی کوشش کررہا ہوں ۔ میرے سامنے یہ لفظ ہے ’’خوان یغماء‘‘۔ مَیں ذہن پر زور ڈال کر یاد کرنا چاہتا ہوں کہ اس کا معنی کیا ہے۔ مگر اس سے قبل کہ مَیں کچھ یاد کرپاتا لفظ خود بول پڑا: ’’خوان یغماء کا معنی ہے وہ دسترخوان جس سے ہر خاص و عام استفادہ کرے، لنگر، دعوت ِعام یا پھر وہ دولت جو مفت لٹائی جائے۔‘‘ اپنے معنی بتاتے ہوئے لفظ بہت خوش تھا مگر اُس کی خوشی اچانک معدوم ہوگئی۔ مَیں نے پوچھا خوان یغماء، کچھ کہو بھی کہ کیا ہوا؟ کہنے لگا آپ لغت میں مقید ہونے کی ذلت کے بارے میں سوچ رہے تھے نا! یہ بھی ذلت ہی ہے کہ مجھے اپنا معنی خود بتانا پڑرہا ہے۔
مَیں اپنی شرمندگی چھپانے کے مقصد سے آگے بڑھ گیا۔ اب میرے سامنے دوسرا لفظ تھا مشایعت۔ اس سے قبل کہ مَیں اس کا معنی یاد کرتا لفظ خود بولا: ی اور ع پر زبر کے ساتھ پڑھئے مجھے۔ کسی کو رخصت کرنے کیلئے چند قدم ساتھ جانے کو مشایعت کہتے ہیں ۔ مجھے لفظ کی بے باکی پر حیرت ہوئی مگر حیرت پر شرمندگی غالب آگئی، سوچنے لگا ایسا کیوں ہوا کہ مجھے مشایعت کا معنی یاد کرنے میں دیر ہوئی اور لفظ کے سامنے خفت اُٹھانی پڑی۔ شاید لفظ میرا ذہن پڑھ رہا تھا، فوراً بولا آپ کو خفت کی پڑی ہے، میری ذلت کو دیکھئے کہ اب مجھے کوئی نہیں جانتا۔ آپ کو تو ذخیرۂ الفاظ پر بہت نازتھا، کیا ہوا؟
مَیں نے ’’کیا ہوا؟‘‘ کا جواب نہیں دیا اور آگے بڑھ گیا۔ اب جو لفظ میرے سامنے تھا وہ دور ہی سے جانا پہچانا معلوم ہوا۔ ’’قوت لایموت‘‘۔ اس سے قبل کہ مَیں اُسے پڑھ پاتا، لفظ بولا: ’’مجھےواؤ پر تشدید کے ساتھ قوَّت بمعنی طاقت نہ پڑھئے۔ میں قُوت بروزن بھوت یا خوب ہوں ۔ اس طرح پڑھئے گا تو میرا معنی ہوگا خوراک، اور قوتِ لایموت کا معنی ہوگا اس قدر خوراک جو زندگی قائم رکھنے کیلئے کافی ہو۔ مَیں نے سر جھکا کر قوت لایموت کی بات سن لی ، چاہتا تھا کہ مزید آگے بڑھوں اور کسی نئے لفظ تک پہنچوں مگر اچانک نیند کھل گئی۔اب میرے سامنے کوئی لفظ نہیں تھا، خوابگاہ کی دیوار تھی، دیوار پر گھڑی تھی، گھڑی میں دو سوئیاں تھیں اور دونوں سوئیاں مجھے اپنے اندر کھبتی ہوئی محسوس ہورہی تھیں ۔ مَیں اُٹھ بیٹھا اور غور کرنے لگا۔ ایک زبان وہ ہے جو اہل زبان، ادباء و شعراء اور دانشور بولتے ہیں ۔ یہ اعلیٰ معیاری زبان ہے۔ اس سے کم معیاری وہ ہے جو عام بول چال کیلئے استعمال ہوتی ہے۔ تیسری وہ ہے جو بازاری کہلاتی ہے۔ دورِ حاضر کا سوال یہ نہیں ہے کہ اعلیٰ معیاری زبان بولنے والے کہاں ہیں ؟ سوال یہ ہے کہ جن کے بارے میں اچھا گمان ہے وہ بھی، اگر بازاری نہیں تو، غیر معیاری زبان بولنے لگے ہیں ۔ ایسا کیوں ہورہا ہے؟ آخر کسی کی زبان سے کوئی ایسا لفظ کیوں برآمد نہیں ہوتا جس سے خوشگوار تاثر قائم ہو یا جسکے بارے میں رُک کر سوچنا پڑے۔