Inquilab Logo Happiest Places to Work

ممبئی: مہیش ٹیٹوریلز کی۳۳؍ شاخیں اچانک بند، طلبہ اور والدین شدید پریشان

Updated: July 17, 2026, 7:04 PM IST | Mumbai

ریاست کے معروف کوچنگ ادارے ایم ٹی ایجوکیئر (مہیش ٹیٹوریلز) کی ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں ۳۳؍شاخوں کی اچانک بندش سے سیکڑوں طلبہ، والدین اور اساتذہ شدید بحران کا شکار ہوگئے ہیں، جبکہ تعلیمی سال کی مکمل فیس پہلے ہی وصول کی جا چکی ہے۔ متاثرین نے حکومت سے فوری مداخلت، غیرجانبدار تحقیقات، فیس کی واپسی اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کے تحفظ کیلئے ہنگامی اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

Students studying at a coaching center. Photo: INN
ایک کوچنگ سینٹر میں طلبہ پڑھائی کرتے ہوئے۔ تصویر:آئی این این

ریاست کی معروف کوچنگ ادارہ ایم ٹی ایجوکیئر لمیٹڈ (مہیش ٹیٹوریلز) نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ممبئی سمیت ریاست بھر میں اپنی۳۳؍ شاخیں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اچانک اقدام سے ہزاروں طلبہ، والدین، اساتذہ اور عملے میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے۔ ان شاخوں میں اس وقت۸۰۰؍سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں، جنہوں نے تعلیمی سال۲۰۲۶ء۔ ۲۷ءکی مکمل فیس پہلے ہی جمع کرا دی ہے۔ والدین نے طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر ریاستی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ 
مہیش ٹیٹوریلزگزشتہ تقریباً۳۸؍ برسوں سے تعلیمی میدان میں سرگرم ہے، تاہم، حال ہی میں اس کی متعدد شاخیں اچانک بند کر دی گئیں۔ ۷؍ جولائی ۲۰۲۶ءکو تمام برانچ ہیڈز کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد انتظامیہ نے اعلان کیا کہ۱۰؍ جولائی سے ریاست بھر کی تمام شاخوں کی سرگرمیاں فوری طور پر روک دی جائیں گی۔ اس سے قبل ادارہ۲۰۲۶ء۔ ۲۷ء کے تعلیمی سال کیلئے والدین سے مکمل داخلہ فیس وصول کر چکا تھا، مگر نہ تو طلبہ کیلئےکوئی متبادل تعلیمی انتظام کیا گیا اور نہ ہی فیس کی واپسی کے بارے میں کوئی واضح اعلان کیا گیا، جس کے باعث ہزاروں خاندان مالی اور ذہنی بحران سے دوچار ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’ایپ‘ والی گاڑیوں کیلئے ’نئی ایگریگیٹر پالیسی‘ متعارف

مہاراشٹر کلاس اونرز اسوسی ایشن کے صدر پراجیش ٹراٹسکی نے کہا:’’ادارے نے ریاست بھر میں نقصان میں چلنے والی کئی شاخیں بند کر دیں، جبکہ شہر کی آمدنی بخش شاخیں جاری رکھیں، اس کے باوجود اسے مسلسل خسارہ ہوتا رہا۔ ادارے نے نویں اور دسویں جماعت کا مشترکہ کورس پیش کیا اور دیوالیہ قرار دیئے جانے کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ ‘‘اس معاملے پر مہیش ٹیٹوریلزکی جانب سے کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ 
اس فیصلے سے مہاراشٹر اسٹیٹ بورڈ کے دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات کی تیاری کرنے والے۸۰۰؍سے زائد طلبہ، سی بی ایس ای اور آئی سی ایس ای بورڈز کے تقریباً۵۰۰؍ طلبہ، سیکڑوں تدریسی و غیر تدریسی ملازمین اور ہزاروں والدین براہِ راست متاثر ہوئے ہیں۔ چونکہ دسویں اور بارہویں جماعت طلبہ کی تعلیمی زندگی کے انتہائی اہم مراحل ہیں، اس لئے اس موقع پر کلاسوں کی بندش سے ان کے مطالعاتی شیڈول، بورڈ امتحانات، مسابقتی امتحانات کی تیاری، ذہنی صحت اور مستقبل کے تعلیمی امکانات پر سنگین اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’ایس آئی آر‘ میں ۲؍ ماہ کی توسیع کا مطالبہ

سنسکرتی جیون آدھار فاؤنڈیشن کے صدر پردیپ ماگارے نے کہا’’زیادہ تر والدین نے داخلہ فیس اپنی جمع پونجی، قرض یا دیگر مالی انتظامات کے ذریعے ادا کی تھی۔ کلاسوں کی اچانک بندش نے نہ صرف طلبہ کی تعلیم متاثر کی بلکہ والدین کے مالی اعتماد کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ‘‘اساتذہ کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے ان کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں، جبکہ گزشتہ تقریباً دو برسوں سے تنخواہوں کی ادائیگی بے قاعدگی کا شکار رہی ہے۔ فاؤنڈیشن نے وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ، محکمۂ اسکولی تعلیم اور دیگر متعلقہ حکام کو ایک باضابطہ یادداشت پیش کرتے ہوئے مہیش ٹیٹوریلز کی شاخوں کی اچانک بندش کے معاملے میں فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: پیپر لیٖک اور نوجوانوں کے مسائل پر آزاد میدان میں زبردست احتجاج

یادداشت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومت فوری طور پر ایک غیرجانبدار تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے۔ انتظامیہ اور والدین کے درمیان اجلاس منعقد کرایا جائے تاکہ طلبہ کا تعلیمی نقصان روکا جا سکے۔ وصول کی گئی فیسوں کا مالیاتی آڈٹ کرایا جائے اورطلبہ کو ان کی فیس واپس دلانے کی ضمانت فراہم کی جائے۔ یادداشت میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مہاراشٹر میں نجی کوچنگ اداروں کیلئے مؤثر ضابطہ بندی کا فقدان ہے۔ اگرچہ اسکول، جونیئر کالج اور جامعات مختلف قوانین کے تحت کام کرتے ہیں، مگر کروڑوں روپے کی پیشگی فیس وصول کرنے والے نجی کوچنگ اداروں کی نگرانی کیلئےکوئی مؤثر قانونی نظام موجود نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سیٹ پر سونے کے تنازع میں لوکل ٹرین کے ۳؍ مسافروں میں تصادم

واضح رہے کہ ۲۰۲۲ءمیں نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی)، ممبئی بنچ نے کنیکٹ ریزیڈیوری پرائیویٹ لمیٹڈ کی جانب سے ایم ٹی ایجوکیئر لمیٹڈ کے خلاف دائر دیوالیہ پن کی درخواست منظور کرتے ہوئے کمپنی کو دیوالیہ قرار دیا تھا۔ کنیکٹ ریزیڈیوری نے انسولوینسی اینڈ بینکرپسی کوڈ (IBC) کی دفعہ ۹؍کے تحت درخواست دائر کی تھی جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ایم ٹی ایجوکیئر نے آئی ٹی آلات، سرورز، راؤٹرز، ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز، یو پی ایس اور دیگر سازوسامان کے کرایے کی مد میں تقریباً۵ء۴۸؍ کروڑ روپے واجب الادا ادا نہیں کئے۔ ٹریبونل نے قرار دیا کہ کمپنی نے جولائی-اگست ۲۰۱۹ء سے مسلسل کرایہ ادا نہیں کیا اور اگست۲۰۲۱ء میں قانونی نوٹس جاری ہونے کے بعد بھی ادائیگی نہیں کی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ زیادہ کرایے، غیر استعمال شدہ آلات یا سابقہ انتظامیہ کے فیصلوں سے متعلق کمپنی کے اعتراضات حقیقی قانونی تنازع ثابت نہیں ہوتے۔ درخواست منظور کرتے ہوئے ٹریبونل نے آلات کو پہنچنے والے نقصان اور ہرجانے سے متعلق دعووں کو دیوالیہ کارروائی کے دائرہ کار سے خارج کر دیا اور کمپنی کے خلاف کارپوریٹ انسولوینسی ریزولوشن پروسیس (CIRP) شروع کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایک انسولوینسی پروفیشنل مقرر کیا۔ 
دوسری جانب آریہنت اکیڈمی کے ڈائریکر امیش پانگم نے کہا:’’نیک نیتی کے جذبے کے تحت بعض طلبہ کو بغیر کسی اضافی فیس کے آریہنت اکیڈمی میں داخلہ دے دیا گیا ہے۔ ‘‘اگرچہ اس اقدام سے کچھ طلبہ کو وقتی ریلیف ملا ہے، تاہم بورڈ امتحانات میں صرف چند ماہ باقی رہ جانے کے باعث اب بھی سیکڑوں طلبہ کا تعلیمی مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: بند ٹول ناکہ کا خستہ ڈھانچہ شہریوں کیلئے وبالِ جان، حادثے کا خدشہ

ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے: طلبہ کے تاثرات
اس دوران کئی طلبہ نے اپنی ناراضی اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ادارے کی جانب سے ’’دھوکہ دیا گیا۔ ‘‘ طلبہ کے مطابق انہوں نے پورے تعلیمی سال کی فیس ادا کی، باقاعدگی سے کلاسیں شروع کیں اور بورڈ امتحانات کی تیاری میں مصروف تھے، مگر اچانک کسی پیشگی اطلاع کے بغیر ادارہ بند کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے نہ تو مستقبل کے تعلیمی انتظامات کے بارے میں آگاہ کیا اور نہ ہی فیس کی واپسی یا متبادل کلاسوں کے حوالے سے کوئی یقین دہانی کرائی۔ بعض طلبہ نے کہا کہ ’’ہمیں ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔ ہم نے اس ادارے پر اعتماد کرتے ہوئے داخلہ لیا تھا، لیکن اب بورڈ امتحانات سے چند ماہ قبل ہمیں نئی کوچنگ تلاش کرنی پڑ رہی ہے، جس سے ہماری پڑھائی اور ذہنی سکون دونوں متاثر ہوئے ہیں۔ ‘‘ والدین کا بھی کہنا ہے کہ اس اچانک فیصلے نے نہ صرف بچوں کی تعلیمی تیاری کو نقصان پہنچایا بلکہ خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ بھی ڈال دیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK