لیہ کی شدید سرد ہوائیں اگرچہ سخت موسم کی علامت سمجھی جاتی ہیں، لیکن یہی ٹھنڈی آب و ہوا للی (Lily) کے پھولوں کے لیے نہایت موزوں اور زندگی بخش ثابت ہوتی ہے۔ اسی خصوصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب لداخ میں للی کی کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: July 17, 2026, 6:10 PM IST | Jammu
لیہ کی شدید سرد ہوائیں اگرچہ سخت موسم کی علامت سمجھی جاتی ہیں، لیکن یہی ٹھنڈی آب و ہوا للی (Lily) کے پھولوں کے لیے نہایت موزوں اور زندگی بخش ثابت ہوتی ہے۔ اسی خصوصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب لداخ میں للی کی کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
لیہ کی شدید سرد ہوائیں اگرچہ سخت موسم کی علامت سمجھی جاتی ہیں، لیکن یہی ٹھنڈی آب و ہوا للی (Lily) کے پھولوں کے لیے نہایت موزوں اور زندگی بخش ثابت ہوتی ہے۔ اسی خصوصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب لداخ میں للی کی کاشت کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ لیہ کے چوگلمسر علاقے میں زرعی سائنس دان للی کی کاشت کو نئی سمت دینے میں مصروف ہیں۔ لداخ میں اس پیمانے پر پھولوں کی کاشت کا یہ اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے، جس کا مقصد مقامی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا ہے۔
حکام کے مطابق گزشتہ چند دنوں میں اس پھولوں کے باغ میں ۵۰؍ ہزار سے زائد للی کے پودے لگائے جا چکے ہیں اور توقع ہے کہ رواں سال ستمبر کے پہلے ہفتے میں پہلی بار یہ باغ رنگ برنگے للی کے پھولوں سے بھر جائے گا۔ دریائے سندھ کے کنارے تقریباً ۹۳؍ ہزار مربع میٹر رقبے پر پھیلا چوگلمسر فلاور فیلڈ ملک کے بلند ترین پھولوں کے باغ کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔ اس وقت ہندوستان کا سب سے بلند پھولوں کا باغ اتراکھنڈ کے مانا میں ۳۲۰۰؍ میٹر کی بلندی پر واقع ہے، جبکہ چوگلمسر فلاور گارڈن تقریباً۳۲۶۵؍ میٹر کی بلندی پر قائم کیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ ہمالیائی حیاتیاتی وسائل ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ، پالَم پور کے سائنس دانوں کے تعاون سے نافذ کیا جا رہا ہے۔ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے گزشتہ ۲۲؍ جون کو اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ اس منصوبے کا مقصد اعلیٰ معیار کے للی کے پھول اور کلیاں پیدا کرنا ہے، جن کی قومی اور بین الاقوامی منڈیوں میں اچھی قیمت ملتی ہے۔ اس سے خود امدادی گروپوں اور کوآپریٹیو سوسائٹیوں کے ذریعے لداخ کے کسانوں کے لیے آمدنی کا ایک نیا ذریعہ پیدا ہوگا۔ منصوبے کے تحت پہلے سال محکمہ زراعت اس پھولوں کے باغ کو تیار کرے گا اور پھول کھلنے کے بعد اسے متعلقہ کمیٹیوں کے حوالے کر دے گا۔ محکمہ قومی اور بین الاقوامی منڈیوں میں پھولوں کی فروخت میں بھی تعاون کرے گا تاکہ کسانوں کو زیادہ سے زیادہ منافع حاصل ہو۔
اس کے بعد آئندہ سال سے کوآپریٹیو سوسائٹیاں خود للی کی تجارتی کاشت، کٹائی اور ویلیو ایڈیشن کا کام سنبھالیں گی۔ اس مقصد کے لیے مقامی کسانوں کو جدید پھولوں کی کاشت، سائنسی زرعی طریقوں اور تجارتی باغبانی کی تربیت بھی دی جا رہی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق لداخ کی آب و ہوا للی کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہے۔ اس کے پودے منفی ۴؍ ڈگری سے مثبت ۴؍ ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان درجہ حرارت میں بہترین پیداوار دیتے ہیں اور قدرتی طور پر اس خطے کے ماحول سے ہم آہنگ ہیں۔ للی کی کاشت کا ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ تین سال بعد اس کے پودے مزید زیادہ پیداوار دینے لگتے ہیں، جس سے اضافی سرمایہ کاری کے بغیر کسانوں کا منافع بڑھ جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:فیفا ورلڈکپ : لیونل میسی کافو کے خصوصی کلب میں شامل ہونے کے قریب
لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ کے مطابق یہ پہل نہ صرف زراعت میں تنوع لائے گی بلکہ اعلیٰ قدر والی پھولوں کی کاشت کے ذریعے خود امدادی گروپوں، کوآپریٹیو سوسائٹیوں اور نوجوان کاروباری افراد کو بھی بااختیار بنائے گی۔ للی دنیا کے مقبول ترین کٹے ہوئے پھولوں میں شمار ہوتی ہے، کیونکہ یہ اپنی خوبصورتی اور طویل عرصے تک تازہ رہنے کی صلاحیت کے باعث انتہائی پسند کی جاتی ہے۔ گھریلو ریٹیل مارکیٹ میں اس کی اعلیٰ اقسام کی قیمت ۱۵۰؍ سے ۲۰۰؍ روپے فی ڈنڈی تک ہوتی ہے، جبکہ پھولوں کی صنعت، ہوٹلوں اور تقریبات کی سجاوٹ میں بھی اس کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔