• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گلابی جاڑا، گلابی اُردوکوئی نہ جانے، کوئی نہ سمجھے

Updated: January 03, 2026, 1:46 PM IST | Shahid Latif | mumbai

کم لوگ ہیں جو کچھ سیکھنے سکھانے سے دلچسپی رکھتے ہیں۔ ایسے لوگ قابل مبارکباد ہیں مگر وہ جو سیکھنا نہیں چاہتے اُن کیلئے عرض ہے کہ وہ اپنا بڑا نقصان کرتے ہیں۔ سیکھنا علم میں اضافہ بھی کرتا ہے، سرشاری بھی عطا کرتا ہے۔

INN
آئی این این
اِن دِنوں   شہر ممبئی میں   جیسی سردی پڑ رہی ہے کیا اُسی کو گلابی جاڑا کہتے ہیں  ؟ اُردو کا مجھ ایسا طالب علم یقین سے کچھ نہیں   کہہ سکتا کیونکہ لغت میں   گلابی جاڑا کا معنی اس طرح درج ہے: وہ خفیف سا جاڑا جو موسم سرما کے آخر اور موسم بہار کے آغاز میں   ہوتا ہے۔ دوسرا معنی: یہ موسم بہار کا آغاز ہے جب ہلکی سردی ہوتی ہے۔ تیسرا معنی: ہلکا جاڑا، سردی کے ابتدائی اور آخری دن۔ اِن معنوں   میں   ممبئی کے جاڑےکو پرکھنا تو دور کی بات سمجھنا بھی مشکل ہے کیونکہ اس شہر ِ دل پسند میں   کافی عرصے  سے یہ حال ہے کہ جب تک جاڑا اپنی آمد کی خبر دیتا ہے اور اہل ممبئی اس کا اعتراف کرتے ہیں   کہ ہاں   ٹھنڈ پڑنے لگی ہے تب تک اس کی ’’جاؤں   جاؤں  ‘‘ شروع ہوجاتی ہے، بقول شاعر:
ابھی آئے، ابھی بیٹھے، ابھی دامن سنبھالا ہے
تمہاری جاؤں   جاؤں   نے ہمارا دَم نکالا ہے
ویسے اہل ممبئی جاڑا موٹے تازے اور بھاری بھرکم شخص کو کہتے ہیں  ، یہ معنی لغت میں   درج نہیں   ہےمگر کہتے ہیں  ، کہنے والوں   کو کون روک سکتا ہے، وہ تو وبال کو بوال اور پتیلی کو تپیلی بھی کہتے ہیں  ، کسی نے آج تک نہیں   روکا اُنہیں  ۔ جب سے اُردو پر بُرا وقت آیا ہے اہل اُردو اس فکر سے آزاد ہوگئے ہیں   کہ گلابی جاڑا شروع ہوا یا نہیں  ، آیا بھی یا نہیں  ۔ اُن کی اکثریت بالخصوص نئی پود جانتی ہی نہیں   کہ گلابی جاڑا بھی کوئی چیز ہے۔ ا س معاشرہ کے نئے لوگ اسے وِنٹر کہتے ہیں  ۔ وِنٹر کی خوبی یہ ہے کہ وہ ہلکا بھاری نہیں   ہوتا، گلابی بادامی یا کسی اور رنگ کا بھی نہیں   ہوتا۔ یورپ میں  ، جہاں   سے انگریزی اور اس کی اُنگلی پکڑ کر وِنٹر آیا ہے، وِنٹر کی الگ خصوصیات اور اقسام ہوتی ہوں   گی جن کا ہم ہندوستانیوں   کو علم نہیں  ۔ (ہمارے یہاں   تو بہار اور خزاں   بھی صرف اُردو شاعری میں   ہیں  )۔ معلوم ہوا کہ ہم نہ تو جاڑے سے واقف ہیں   نہ وِنٹر سے۔ اس سے یہ عقدہ بھی کھلا کہ ہم نے نہ تو انگریزی جیسی انگریزی سیکھی نہ اُردو جیسی اُردو ہمیں   آتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ انگریزی جیسی انگریزی آئے اور اُردو جیسی اُردو۔ اس کے دو فائدے ہوں   گے۔ پہلا یہ کہ ہم اُردو میں   انگریزی بولنا ترک کردیں   گے اور دوسرا یہ کہ وِنٹر کا معنی بھی ٹھیک طریقے سے سمجھ میں   آجائیگا۔ 
ویسے وِنٹر والوں   بالخصوص نئی پود کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اُنہیں   ’’تھرٹی فرسٹ‘‘ (دیکھئے تصویر) منانے کا بھی بڑا شوق ہے جو ابھی دو روزقبل گزرا ہے۔ ہماری نئی نسل میں   بھی اس کا ذوق کم نہیں  ۔ سلیقے کے ماں   باپ جب اُنہیں   تھرٹی فرست منانے سے روکتے ہیں   تو وہ تھرٹی فرسٹ کے ویڈیوز سے دل بہلاتے اور جھوم جھوم اُٹھتے ہیں  ۔ یہ مضمون نگار اس خیال کا حامل ہے کہ تھرٹی فرسٹ وہ منائے جو خوشی منانا جانتا ہو اور خوشی وہ منائے جو خوش ہونا جانتا ہو۔ جہاں   تک بہار اور خزاں   کا تعلق ہے، یہ دونوں   موسم ہمیں   میسر نہیں   مگر اہل اُردو کی خوش نصیبی ہے کہ اُردو ادب میں   ان کا بہ کثرت استعمال ہوا اور یہ کچھ اس طرح وارد ہوئے ہیں   کہ جو اُردو سے نابلد ہے وہ بھی بآسانی سمجھ لیتا ہے۔ ویسے اُردو میں   ہجر و وصال کا موسم بھی ہے اور ایسے ہی دیگر موسم بھی جو دیگر زبانوں   میں   مشکل سے ملیں   گے۔ 
گلابی جاڑا اس مضمون کا عنوان یا موضوع نہیں   ہے۔ یہ اس لئے یاد آگیا کہ بات گلابی اُردو کی کرنی تھی۔ گلابی اُردو؟ کیا اُردو بھی گلابی، جامنی، سرخ اور زرد ہوتی ہے؟ یہ سوال آپ کے ذہن میں   آسکتا ہے مگر جاننے والے جانتے ہیں   کہ اُردو کے مایہ ناز ادیب، کالم نگار اور طنز و مزاح نگار ملا ّرموزی (۱۸۹۶ء تا ۱۹۹۲ء)، جن کا تعلق بھوپال سے تھا، اپنے اخباری کالم میں   استعمال ہونے والی اُردو کو گلابی اُردو کہتے تھے جس کی بابت خواجہ حسن نظامی دہلوی نے ۱۹۲۱ء میں   لکھا تھا کہ ’’ملا رموزی صاحب نے ایک خاص روش اختیار کی ہے اور مستقل مزاجی سے مسلسل اسی رنگ میں   ان کے مضامین گلابی اُردو کے عنوان سے شائع ہوتے ہیں  ۔ انہوں   نے واقعات ِسیاسی و معاشی کو مؤثر خوبی کے ساتھ اپنے مضامین میں   ادا کیا ہے اور اب ان کو پوری قدرت جدت آفرینی میں   حاصل ہوگئی ہے۔‘‘ 
گمان ہے کہ ملا رموزی نے تحریر کی شگفتگی اور شوخی کے پیش نظر اسے گلابی اُردو نام دیا۔ ویسے حضرت علامہ نے جو مضامین اخباری کالم کے طور پر نہیں   لکھے اُنہیں   بھی گلابی اُردو ہی جان کر پڑھا گیا، یہ الگ بات کہ اُن کا طرز تحریر مختلف ہے جیسے اُن کا طویل مضمون بخار۔ یہ مخصوص معنی میں   گلابی اُردو میں   نہیں   ہے۔ ان کے مضامین کے عنوان بھی خاصے دلچسپ ہوتے تھے مثلاً ایک کتاب کا دیباچہ لکھا تو اُسے ’’فیروزی دیباچہ‘‘ عنوان دیا۔ اسی طرح، مضمون کی ابتداء ہی بڑے دلچسپ جملے سے ہوتی مثلاً ’’اے دودھ کی طرح سفید لباس والے طلبہ‘‘ یا ’’اے رمضان کے بعد ہی سے نماز ترک کردینے والو!‘‘۔ ملا رموزی کی گلابی اُردو کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں   پرانی طرز کی ثقیل الفاظ اور الگ ساخت کے جملوں   والی اُردو میں   نئے دور، اس کے مسائل اور سیاسی موضوعات پر خامہ آرائی کی جاتی تھی۔ اپنے اس فن کے بارے میں   خود ملا رموزی کا کہنا تھا کہ ’’جملے کی ساخت یوں   بدل لی جائے کہ پہلے فعل ہو، پھر فاعل اور تب مفعول تاکہ عربی سے اُردو ترجمے کا انداز پیدا ہوجائے جو لطف آگیں   ہوتا ہے۔‘‘ 
ان کے اخباری کالم یوں   تو کئی اخبارات اور رسائل میں   شائع ہوتے تھے مگر یہ لکھے گئے تھے اخبار ’’زمیندار‘‘ کیلئے۔ اس کالم کی مقبولیت کے پیش نظر ’’ادبی دُنیا‘‘ (لاہور) نے لکھا تھا کہ ’’ملا رموزی کی گلابی اُردو کیلئے اخبار زمیندار کا لوگ اُس بے چینی سے انتظار کرتے تھے جس بے چینی سے جنگ کی خبرو ں  کا انتظار کرتے تھے۔‘‘ گلابی اُردو طنز و مزاح کا بہترین نمونہ ہوتی تھی مگر یہی بات اس کا واحد وصف نہیں  ۔ اِن مضامین میں   قوم کی دُکھتی رگ پر ہاتھ رکھنے کی کوشش بھی ہوتی تھی ۔ ’’ملا رموزی کا طنز و مزاح اور شاعری‘‘ میں   عزیز انصاری نے لکھا ہے کہ ’’قوم کے زوال، غلامی، غیر قومی تربیت، افلاس انگیز ذہنیت اور مولویانہ افسردگی کو وہ عموماً نثر میں   اس انداز سے بیان کرتے ہیں   جس انداز سے اکبر الہ آبادی نے نظم میں   بیان کیا ہے۔ قوم کی رونے رُلانے کی فطرت ملا رموزی کی نظر سے کچھ یوں   دکھائی دیتی ہے: حضرت میر انیس نے اپنے مرثیہ میں   شجاعت پناہ امام حسینؓ کی شجاعت اور تیغ افگنی کے جتنے جوش انگیز واقعات لکھے، انہیں   تو بالائے طاق رکھ دیا اور مرثیہ کا وہ حصہ لے کر بیٹھ گئے جس میں   رونے رُلانے کے واقعات جمع ہیں  ۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK