Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار میں نئی سیاسی صف بندی کے امکانات ؟

Updated: August 11, 2026, 1:14 PM IST | Professor Mushtaq Ahmed | Mumbai

بانکی پور اسمبلی حلقہ پر تین دہائیوں سے بی جے پی کا قبضہ تھا، لیکن حالیہ ضمنی انتخاب میں یہاں جن سوراج پارٹی کی جیت نے تمام سیاسی پارٹیوں کو اپنی حکمت ِ عملی پر ازسر نو غور کرنے پر مجبور کردیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بہار کی سیاست میں بانکی پور اسمبلی ضمنی انتخاب کا نتیجہ محض ایک نشست کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی اشارے کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے ریاستی اور قومی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ تقریباً تین دہائیوں سے بھارتیہ جنتا پارٹی کا مضبوط قلعہ سمجھی جانے والی اس نشست پر جن سوراج پارٹی کے بانی پرشانت کشور کی کامیابی نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ کیا بہار میں روایتی سیاسی صف بندیاں بدل رہی ہیں، یا یہ صرف ایک مقامی انتخابی واقعہ ہے؟ اس نتیجے نے بہرحال تمام سیاسی جماعتوں کو اپنی حکمت ِ عملی پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ واضح ہو کہ بانکی پور کی سیاسی اہمیت اس لئے بھی غیر معمولی رہی ہے کہ یہ بی جے پی کے  قومی صدر نیتن نوین کی سیٹ رہی ہے۔اس حلقے میں تجارتی طبقہ کا اثر رسوخ رہا ہے جو  بی جے پی کا روایتی ووٹر سمجھا جاتا ہے۔موجودہ ریاستی صدر سنجے سرا وگی کا تعلق اسی طبقے سے ہے۔  اس حلقے کو شہری متوسط طبقے، تعلیم یافتہ ووٹروں اور بی جے پی کی تنظیمی طاقت کا مرکز سمجھا جاتاہے۔ اسی لئے اس نشست پر شکست کو صرف ایک انتخابی ہار نہیں بلکہ سیاسی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ونوبا بھاوے کی ایک اہم کتاب’’زندگی اور تعلیم‘‘

پرشانت کشور کی کامیابی کئی پہلوؤں سے اہم ہے۔ ایک تو یہ کہ وہ برسوں تک مختلف جماعتوں کے انتخابی حکمتِ عملی ساز رہے، مگر اب پہلی بار خود میدانِ سیاست میں اتر کر کامیاب ہوئے۔ دوسرے، انہوں نے ایسی نشست منتخب کی جسے سب سے مشکل تصور کیا جاتا تھا۔ اس سے ان کی سیاسی ساکھ میں اضافہ ہوا ہے اور جن سوراج کو ایک سنجیدہ سیاسی قوت کے طور پر دیکھنے کا رجحان پیدا ہوا ہے۔ریاستی سیاست پر اس کامیابی کا پہلا اثر یہ ہوگا کہ بہار میں اب مقابلہ صرف این ڈی اے اور مہاگٹھ بندھن کے درمیان محدود نہیں رہے گا۔ اگر جن سوراج اپنی اس کامیابی کو تنظیمی طاقت میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو آئندہ اسمبلی انتخابات سہ رخی یا حتیٰ کہ چہار رخی مقابلے کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ اس سے بہار کی سیاست میں نئی صف بندیاں جنم لے سکتی ہیں۔

بی جے پی کے لئے یہ نتیجہ ایک واضح تنبیہ ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے سب سے محفوظ سمجھی جانے والی نشست کا ہاتھ سے نکل جانا اس بات کا اشارہ ہے کہ روایتی ووٹ بینک کو ہمیشہ کے لئے یقینی نہیں سمجھا جا سکتا۔ پارٹی کو شہری نوجوانوں، روزگار، تعلیم اور مقامی مسائل پر اپنی حکمت ِ عملی کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ بعض تجزیہ کاروں نے بھی اس نتیجے کو نوجوان ووٹروں اور مقامی مسائل کے اثر سے جوڑا ہے۔اسی طرح راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس کے لئے بھی یہ نتیجہ غور طلب ہے۔ اگر ایک نئی جماعت شہری ووٹروں میں جگہ بنا سکتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف روایتی سماجی اور ذاتی اتحاد اب کافی نہیں رہے۔ بہار کا ایک طبقہ ترقی، تعلیم، شفاف حکمرانی اور روزگار جیسے موضوعات پر بھی ووٹ دینے کیلئے تیار دکھائی دیتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دیکھ سکو تو دیکھ لو صاحب ذروں کی تابانی کو

پرشانت کشور کی پوری سیاسی مہم کا مرکزی نکتہ یہی رہا ہے کہ بہار کی سیاست کو ذات پات اور مذہبی تقسیم سے نکال کر ترقی، تعلیم اور بہتر نظم و نسق کی طرف لے جایا جائے حالانکہ مبینہ طورپر بی جے پی کے لئے کام کرنے کا ان پر الزام بھی عائد ہوتا رہاہے۔ بانکی پور کی کامیابی نے کم از کم یہ ضرور ثابت کیا ہے کہ اس بیانیے کو ایک حد تک عوامی پزیرائی ملی ہے، اگرچہ اس کی حقیقی آزمائش آئندہ عام انتخابات میں ہوگی۔قومی سیاست کے تناظر میں بھی اس کامیابی کی اہمیت کم نہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں بی جے پی کو ناقابلِ شکست جماعت کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، مگر بانکی پور جیسے مضبوط قلعے میں شکست نے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر کوئی جماعت مضبوط تنظیم، واضح بیانیہ اور مؤثر امیدوار کے ساتھ میدان میں اترے تو سیاسی معادلے بدل سکتے ہیں۔ البتہ اس ایک نتیجے سے قومی سیاست کے مکمل رخ بدل جانے کا نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔ایک اور اہم پہلو نوجوان سیاست کا ہے۔ پرشانت کشور نے اپنی انتخابی مہم میں تعلیم، روزگار، امتحانی بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کی ہجرت جیسے مسائل کو نمایاں رکھا۔ اگر یہ موضوعات آئندہ بھی انتخابی سیاست کے مرکز میں رہتے ہیں تو بہار کی سیاست میں مسئلہ پر مبنی مباحثے کو تقویت مل سکتی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ضمنی انتخابات کے نتائج کو ہمیشہ عام انتخابات پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ ضمنی انتخاب میں مقامی عوامل، امیدوار کی شخصیت، انتخابی فضا اور ووٹر ٹرن آؤٹ اہم کردار ادا کرتے ہیں  اس لئے بانکی پور کی جیت کو ایک نئے رجحان کا اشارہ تو کہا جا سکتا ہے، لیکن اسے بہار کی پوری سیاست کا حتمی فیصلہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔بہار کے ووٹر نے اس انتخاب کے ذریعے ایک واضح پیغام ضرور دیا ہے کہ وہ متبادل سیاسی امکانات کو آزمانے کیلئے تیار ہے، بشرطیکہ اسکے سامنے ایک قابلِ اعتماد قیادت اور واضح پروگرام موجود ہو۔ یہی پیغام تمام سیاسی جماعتوں کیلئے غور و فکر کا باعث ہونا چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے:وندے ماترم کی توہین نہ کرنے کا قانون

مختصر یہ کہ بانکی پور کی جیت صرف پرشانت کشور کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ بہار کی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز بھی ہو سکتی ہے۔ اگر جن سوراج اس کامیابی کو مضبوط تنظیم، عوامی رابطے اور مسلسل عوامی جدوجہد میں تبدیل کر دیتی ہے تو آنے والے برسوں میں بہار کی سیاست یقیناً مزید دلچسپ، متحرک اور مسابقتی ہوگی۔ لیکن اگر یہ کامیابی صرف ایک علامتی واقعہ بن کر رہ گئی تو اس کی سیاسی گونج بھی محدود ہو جائے گی۔جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ کوئی قلعہ ہمیشہ ناقابلِ تسخیر نہیں رہتا اور کوئی نئی آواز ہمیشہ کمزور نہیں رہتی۔ بانکی پور کے عوام نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ ہندوستانی جمہوریت میں آخری فیصلہ ہمیشہ عوام ہی کرتے ہیں اور کسی بھی جماعت کو یہ غرورنہیں ہونا چاہئے کہ عوام ذہنی طورپر اس کے غلام ہو چکے ہیں ۔اس انتخابی نتائج سے تو یہی پیغام جاتا ہے اس لئے یہ نتیجہ ہر سیاسی جماعت کے لئے لمحۂ فکریہ ہے،بالخصوص ان سیاسی جماعتوں کے لئے جو یہ سمجھ بیٹھی ہیں کہ اب عوام ان کے سحر میں قید ہو چکے ہیں اور ایک طرح سے اندھ بھکت بن چکے ہیں، وہ بھی اپنے فیصلے سے انہیں سبق سکھا سکتے ہیں اور جو سیاسی جماعتیں مبینہ طورپر سیکولرازم کا دعویٰ کر عوامی مسائل سے خود کو دور رکھتی ہیں ان کے لئے بھی یہ نتیجہ ایک تازیانہ ہے۔

bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK