تاریخ بن رہی ہے، اس کا مشاہدہ کیجئے، اس کا مطالعہ کیجئے، اسے حرز جاں بنائیے۔ تاریخ نہ بن رہی ہوتی تو حالات کا رخ کچھ اور تھا جو تاریخ کو کچھ اور بنانے پر تلا ہوا تھا۔ اب صورت حال بدل رہی ہے اور بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔
EPAPER
Updated: August 08, 2026, 12:34 PM IST | Shahid Latif | Mumbai
تاریخ بن رہی ہے، اس کا مشاہدہ کیجئے، اس کا مطالعہ کیجئے، اسے حرز جاں بنائیے۔ تاریخ نہ بن رہی ہوتی تو حالات کا رخ کچھ اور تھا جو تاریخ کو کچھ اور بنانے پر تلا ہوا تھا۔ اب صورت حال بدل رہی ہے اور بہت تیزی سے بدل رہی ہے۔
بچپن سے جدوجہد آزادی کی داستانیں سن سن کر اور پڑھ پڑھ کر اُن تمام لوگوں کے ذہن میں، جو بعد میں پیدا ہوئے، جرأت اور بہادری کی ایسی تصویریں بنتی رہی ہیں جن میں مجاہدین آزادی انگریزوں سے لوہا لے رہے ہیں۔ بعد کی نسلوں کو یہ تصویریں ا س لئے بھی عزیز ہیں کہ یہ جدوجہد کامیاب ہوئی اور انگریزوں کو ہندوستان چھوڑ کر جانا پڑا۔ اس کا یہ معنی نہیں کہ اگر ۱۹۴۷ء میں ملک آزاد نہ ہوتا تو بعد کی نسلوں کو یہ تصویریں عزیز نہ ہوتیں۔ تب بھی ہوتیں مگر کامیاب ہوجانےکی بات ہی اور ہے۔ اس کی وجہ سے فخر اور فتح مندی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اس احساس سے احسان مندی کے سر تال معرض وجود میں آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعد کی نسل مجاہدین آزادی کا احسان مانتی ہے کہ انہوں نے بے شمار قربانیاں دے کر وطن عزیز کو انگریزوں کے چنگل سے چھڑایا اور اہل وطن کو آزاد فضا میں سانس لینے کا موقع اور آزادی کی زندگی تحفے میں دی۔ سوچئے تو ایسا لگتا ہے کہ اُس دَور میں ملک کا ایک ایک شہری جدوجہد آزادی کے ایک ایک مرحلے میں یا تو شامل رہا ہوگا یا اس کے تعلق سے باخبر رہتا ہوگا مگر شاید ایسا نہیں تھا۔ اُس دور میں ذرائع ابلاغ اتنے مؤثر اور تیز نہیں تھے جتنے آج ہیں کہ ہر طرف سے خبریں اُبلتی ہیں۔ تحریک ِ آزادی کی خبریں ریڈیو اور اخبارات کے ذریعہ ملتی تھیں۔ ریڈیو سب کے پاس نہیں ہوتا تھا اور اخبارات نہ تو ہر شہر میں دستیاب ہوتے تھے نہ ہی عوام کی مالی استطاعت ہی اتنی ہوتی تھی کہ ایک یا زائد اخبار خرید کر چھوٹے بڑے ہر واقعے کی تفصیل جان سکیں۔
یہ بھی پڑھئے: وندے ماترم کی توہین نہ کرنے کا قانون
یہ بات اس لئے لکھی گئی کہ تاریخ بن جاتی ہے تو اس کے جاننے اور پڑھنے والے ان گنت ہوتے ہیں اور ایک کےبعد دوسری نسل اس کا مطالعہ کرتی ہے مگر جب تاریخ بن رہی ہوتی ہے تب روزمرہ کے وہ واقعات جن کا سلسلہ تاریخ بناتا ہے، بہت کم لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ انسانی زندگی کے معمولات بالخصوص معاشی مصروفیات ہیں مگر خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو تاریخ کو اپنی نگاہوں کے سامنے بنتا ہوا دیکھتے ہیں اور اس کا بالواسطہ یا بلا واسطہ حصہ بنتے ہیں۔
وہ سلسلۂ واقعات جو تاریخ بن چکا ہوتا ہے، جب بعد کی نسل کے مطالعہ سے گزرتا ہے تو اس نسل کے افراد سمجھتے ہیں کہ وہ تاریخ کو دیکھ رہے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہوتا۔ تاریخ اُنہیں دیکھتی ہے کہ وہ اس سلسلۂ واقعات سے کیا سبق سیکھ رہے ہیں۔ تاریخ کو دیکھنا اور تاریخ کے ذریعہ دیکھا جانا دو الگ باتیں ہیں۔ ا س میں تاریخ کے ذریعہ دیکھے جانے کا احساس بہت اہم ہے کیونکہ یہی ترغیب دیتا ہے، تحریک دیتا ہے کچھ سیکھنے کی اور تاریخ کے خوشگوار واقعات کو دوہرانے اور ناخوشگوار واقعات سے سبق سیکھنے اور ان سے پہلو تہی کرنے کی۔
یہ بھی پڑھئے: مغربی کنارہ میں اسرائیلی مظالم اورفلسطینی مزاحمت
موجودہ دور میں مشکل یہ ہے کہ لوگ پڑھنا ترک کرتے جارہے ہیں۔ واقعات کا جو سلسلہ تاریخ بنا رہا ہے اگر اُن کا مطالعہ نہیں کیا جائیگا تو محض ریل یا ویڈیو دیکھنے سے کچھ خاص حاصل نہیں ہوسکتا سوائے باخبر ہوجانے کے۔ واقعات کے سلسلہ سے باخبر ہونا اچھا ہے مگر کافی نہیں، اس کے مضمرات کو سمجھنا زیادہ اہم اور ضروری ہے تاکہ آنے والی نسل کا کوئی فرد سوال کربیٹھے تو اس کا تشفی بخش جواب دیا جاسکے۔ یہ بات ذہن نشین کرنا بہت ضروری ہے کہ پڑھنے اور دیکھنے میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دیکھا ہوا اتنی دیر تک یاد نہیں رہتا جتنا پڑھا ہوا یاد رہتا ہے اس لئے بھی کہ جب آدمی کچھ پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے ذہن میں، تصور میں بہت کچھ جلوہ گر ہوتا رہتا ہے۔ دیکھنے کے عمل میں یہ نہیں ہوتا کیونکہ یہاں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اپنی مجموعی شکل میں سامنے رہتا ہے۔ پڑھنے کے عمل میں جتنا عیاں ہو تا ہے اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ نہاں رہتا ہے۔ تاریخ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس کے مطالعے میں آپ جتنی دور تک جائینگے، اُتنا ہی آنے والےو قت کو سمجھنے کے قابل ہوں گے۔ کہتے ہیں کہ تاریخ خود کو دوہراتی ہے مگر دوہرانے کے علاوہ نئی باتیں بھی شامل کرتی ہے۔ اس کی تازہ مثال طلبہ اور نوجوانوں کا وہ احتجاج ہے جس کے ذریعہ ویسے تو تاریخ ہی دوہرائی جا رہی ہے مگر اس اہتمام کے ساتھ کہ اس میں نئے رجحانات، نئی لفظیات، نیا انداز، نئی تکنالوجی کے استعمال اور خبروں کے بیک وقت چاروں طرف پھیل جانے کی حقیقت کو بھی جگہ مل رہی ہے جس کی وجہ سے احتجاج نہ صرف یہ کہ حالات پر اثر انداز ہورہا ہے بلکہ اس سے مثبت نتائج بھی برآمد ہورہے ہیں۔ احتجاج کی ندرت کے بغیر یہ ممکن نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے: یہ خود سر نسل قابو میں آنے والی نہیں!
واقعات کے اس سلسلے کو سامنے رکھئے اور دیکھئے کہ تاریخ بن رہی ہے یا نہیں۔ اگر بن رہی ہے تو کیا اس کی تفصیل تمام تر مضمرات کے ساتھ ہمارے سامنے ہے؟ اس پر ماہرین کی رائے جاننے کی کوشش کی جارہی ہے؟ الگ الگ نقطۂ نظر کو سمجھا جارہا ہے؟ آخر کیا وجہ ہے کہ ملک کا دانشور طبقہ یہ کہنے لگا کہ ان نوجوانوں نے محض چند دنوں میں وہ کردکھایا جو ہم برسوں میں نہیں کرپائے۔ سماج اور معاشرہ کے وہ پختہ عمر لوگ بھی جو نوجوانوں کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے تھے، اچانک ان نوجوانوں کے مداح ہوگئے۔ جنریشن گیپ تیز دھوپ میں رکھی برف کی سل کی طرح پگھل گیا اور کاہل نسل، ضدی نسل، جدید آلات کی قیدی نسل، اپنے آپ میں گم رہنے والی نسل اور کسی کو خاطر میں نہ لانے والی نسل سب کی چہیتی ہوگئی۔ جو اسے ناپسندیدگی کی نگاہ سے حتیٰ کہ حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے، وہ بھی اس نسل کی ستائش ضروری سمجھنے لگے۔ تاریخ بن رہی ہے نا؟ کون بنا رہا ہے ؟ پختہ عمر کے لوگ، کہنہ مشق لوگ، دُنیا دیکھے ہوئے لوگ اور تجربہ کار لوگ نہیں بنا رہے ہیں، وہ نسل بنا رہی ہے جسے کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا۔ اِس نسل کے وہ لوگ جو گالی گلوج کا سہارا لیتے ہیں اور بے باکی میں حد سے گزر جاتے ہیں اُن کا ساتھ نہیں دیا جاسکتا مگر وہ آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ باقی تمام بھلے ہی نعرے لگا رہے ہوں یا پیٹے جارہے ہوں، مگر وہ تاریخ رقم کررہے ہیں۔ اس کی وجہ سے تخت نشینوں پر جو دھاک بیٹھی وہ بہت کچھ ایسا بھی کروا رہی ہے جس کی اُمید نہیں کی جاسکتی تھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ تاریخ رقم کرنے کا یہ سلسلہ ہنستے کھیلتے جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ یہ کمال ہے نئی نسل کا۔ خدا رکھے انہیں دن میں دس بار شاباش کہنا چاہئے۔