Inquilab Logo Happiest Places to Work

زبان و ادب کی موجودہ حالت

Updated: July 24, 2026, 1:15 PM IST | shamim Tariq | Mumbai

وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کی ہوئی ’’یوڈائس‘‘ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد میں ۸۶؍ لاکھ کی کمی درج کی گئی۔ طلبہ سرکاری اسکولوں سے پرائیویٹ اسکولوں میں کیوں منتقل ہو رہے ہیں؟ زیرِ نظر مضمون میں اس مسئلے اور موجودہ تعلیمی نظام پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

جس طرح یہ ضروری نہیں ہے کہ سرکاری اسکولوں میں دی جانے والی تعلیم غیر معیاری اور ناقص ہو بالکل اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ پرائیویٹ اسکولوں میں دی جانے والی تعلیم معیاری ہو اور اس میں کوئی نقص نہ ہو۔ تجربہ یہ بتاتا ہے کہ دونوں قسم کے اسکولوں میں معیاری اور غیر معیاری تعلیم دی جاتی ہے مگر عوامی تاثر یہی ہے کہ مہنگی تعلیم جو مختلف قسم کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں دی جاتی ہے اور بدلے میں زیادہ فیس لی جاتی ہے وہی اچھی اور معیاری تعلیم ہے۔ ثبوت وزارت تعلیم کی جانب سے جاری کی ہوئی ’’یوڈائس‘‘ یعنی یونیفائڈ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن کی رپورٹ ہے جس کے مطابق ۲۶-۲۰۲۵ء میں والدین اور سرپرستوں نے بڑے پیمانے پر طلباء اور طالبات کا داخلہ پرائیویٹ اسکولوں میں کرایا اسی لئے ۲۰۲۳ء سے ۲۰۲۶ء کے درمیان سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم طلبہ کی تعداد میں ۸۶؍ لاکھ کی کمی درج کی گئی اور اسی دوران سرکاری امداد سے محروم یا غیر منظور شدہ پرائیویٹ اسکولوں میں ۸۸؍ لاکھ سے زیادہ طلبہ کے داخلے ہوئے یعنی جس مدت میں سرکاری اسکولوں کے طلبہ کی تعداد میں کمی آئی اسی مدت میں پرائیویٹ اسکولوں میں زیادہ داخلے ہوئے۔ قابل ذکر ہے کہ حکومت یوڈائس کی رپورٹ کے مطابق آئندہ کی منصوبہ بندی کرتی ہے کیونکہ یوڈائس ڈیٹا نظام میں ہر سال اسکولوں کی تعداد، طلبہ کے داخلے، اساتذہ کی تفصیل، تعلیم سے متعلق اہم اعداد و شمار اور اسکولوں میں دستیاب سہولتوں کی معلومات فراہم کی جاتی ہے۔ یہ کہنا درست ہے کہ یوڈائس ایک جامع ڈیٹا نظام ہے جو تعلیم سے متعلق تفصیل فراہم کرتا ہے۔ اس رپورٹ میں طلبہ کی سرکاری سے غیر سرکاری اداروں میں منتقلی کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے مگر سمجھا یہی جا رہا ہے کہ انگریزی تعلیم، معیاری تعلیم، ڈجیٹل کلاس روم، جدید سہولتیں، اہم نصابی سرگرمیاں اور بہتر نتائج وہ وجوہ ہیں جن کے سبب بچوں کو منتقل کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اقتدار کیلئے عوامی مینڈیٹ کا سودا کب تک ؟

تعلیمی محکمے میں سب کچھ فوراً نہیں ہوتا مثلاً اس کے بنائے ہوئے ضابطوں کے مطابق ۵۰؍ سے ۶۰؍ تک طلباء والے درجات میں ڈیڑھ ٹیچر (استاذ) کی ضرورت ہوتی ہے مگر ایک رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر میں ۹۲۷۴؍اسکول ہیں جہاں ایک ہی استاذ کو تدریسی خدمات بھی انجام دینا پڑتی ہیں اور غیر تدریسی بھی، صرف دس ہزار تنخواہ دی جاتی ہے۔ موجودہ تفصیلات کی روشنی میں حکومت اقدام کرے گی تو کئی مستقل پوسٹ ختم ہوں گی اور کئی اَن ایڈیڈ اسکولوں میں اساتذہ کو دس ہزار میں تدریسی اور غیر تدریسی خدمات انجام دینی ہوں گی۔ یعنی موجودہ رجحان باقی یا جاری رہا تو اساتذہ اور طلباء دونوں کا نقصان ہوگا۔ مزید وضاحت یہ ہے کہ طلبہ کو زیادہ فیس ادا کرکے پڑھنا ہوگا اور اساتذہ کو کم تنخواہ پر پڑھانا ہوگا۔ یہ تو تھا ابتدائی اور ثانوی تعلیم کا معاملہ۔ کسی یونیورسٹی سے الحاق رکھنے والے ڈگری کالجوں کا معاملہ بھی اچھا نہیں ہے۔ فرضی کا لج بھی چلائے جا رہے ہیں اور ایسے کالج بھی جہاں طلبہ کی تعداد ہوتی ہے نہ اہل پروفیسروں کی۔ گزشتہ دنوں مہاراشٹر کونسل کے رکن ڈاؤ کھرے نے کونسل میں سوال اٹھایا تھا کہ ریاست میں کتنے فرضی کالج چلائے جا رہے ہیں۔ تحریری جواب میں تکنیکی تعلیم کے وزیر چندر کانت پاٹل نے بتایا کہ ریاست میں ایسے کئی کالج ہیں جو کسی نہ کسی یونیورسٹی سے ملحق Affiliated ہیں مگر قانونی ضابطوں کو پورا نہیں کرتے۔ وزیر موصوف نے یقین دلایا کہ یونیورسٹیوں سے ملحق کالج اگر ضابطوں کے مطابق کام نہیں کرتے تو ان کی منظوری منسوخ کر دی جائے گی۔ کسی کالج کا کسی یونیورسٹی سے الحاق کیوں کیا جاتا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ مہاراشٹر پبلک یونیورسٹیز ایکٹ ۲۰۱۶ء کی دفعہ ۱۰۸؍ کو معیار بنایا جاتا ہے۔ اس کے باوجود مہاراشٹر میں ۱۲۳؍ فرضی کالج چلائے جا رہے ہیں جہاں مطلوبہ تعداد میں طلبہ ہیں نہ تعلیم یافتہ یا شرائط پر پورا اترنے والے اہل پروفیسر۔ ان کالجوں میں کھیل کے میدان، لیباریٹری اور لائبریری بھی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ ایران جنگ کی دلدل میں پھنس گئے؟

المیہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں تعلیم بھی خریدی اور بیچی جارہی ہے۔ اور کس کا لڑکا کہاں پڑھتا ہے اس سے اس کے والد یا خاندان کی مالی حیثیت کا اندازہ کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے اس کا سب سے برا اثر اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والوں پر پڑتا ہے۔ راقم نے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا ایک خط پڑھا تھا جس میں انہوں نے ’ڈبری‘ کا لفظ استعمال کیا تھا۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے کیسے حالات میں تعلیم حاصل کی تھی۔ لال بہادری شاستری تو اور زیادہ آزمائشوں میں پلے بڑھے تھے مگر اس وقت وہ نہیں تھا جس کے خلاف آج کاکروچ جنتا پارٹی احتجاج کر رہی ہے۔ تعلیم میں کامرس، سائنس و ٹیکنالوجی وغیرہ کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے اس پر کسی کو کوئی اعتراض یا تشویش بھی نہیں ہے۔ تشویش ہے تو اس پر کہ زبانوں کی طرف عدم توجہی بڑھتی جارہی ہے اور حکومت و انتظامیہ بھی ایسے فیصلے کر رہی ہے جس سے مشکلات کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی ہے۔ حال ہی میں سی بی ایس ای نے تین زبانوں کا پڑھنا لازمی قرار دیا تو سپریم کورٹ نے نویں درجے میں تیسری زبان لازمی قرار دیئے جانے پر تشویش کا اظہار کیا۔ عدالت عالیہ زبان پڑھائے جانے کی مخالف نہیں تھی بلکہ اس کے سامنے صرف یہ سوال تھا کہ سیشن کے درمیان ایسی پالیسی نافذ کرنے سے اسکولوں پر کتنا تعلیمی اور انتظامی بوجھ بڑھے گا۔

یہ بھی پڑھئے: بہار میں اعلیٰ تعلیم کا نیا دور!

ہر تعلیم یافتہ شخص ادیب یا ادب فہم نہیں ہوتا۔ اسی طرح ہر ناخواندہ شخص یا تفریح کا متلاشی بھی زبان داں نہیں ہوتا۔ ایسے میں یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ادب فہم اور ادیب کون ہے۔ خوشی ہوتی ہے کہ ادب فہم انہیں میں سے دستیاب ہوتے ہیں مگر اب مشکل ہوگئی ہے کہ زبان پڑھنے اور سیکھنے خصوصاً اپنی مادری زبان سیکھنے والوں کو بھی سیکھی ہوئی زبان یا مادری نہیں آتی۔ جو ناخواندہ ہیں یا جو اپنی مالی یا سماجی حیثیت جتانے کیلئے ادبی اجتماعات میں بیٹھتے اور بے تکی باتیں کرتے ہیں ان کا تو کہنا ہی کیا؟ ایسے میں اچھا ادب کیسے اور کیوں تخلیق ہوگا؟ دائیں بائیں نظر دوڑا کر دیکھ لیں یقین ہو جائے گا کہ ادب اور زبان کی تعلیم کے نام پر ہمارے یہاں کیا ہو رہا ہے؟

education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK