اب تک کی خلائی تحقیق نے میڈیکل آلات، مواصلات، کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کو فائدہ پہنچایا ہے اس لئے یہ سوچنا غلط نہیں ہے کہ خلائی تحقیق غیر متوقع طور پر فائدہ بخش ثابت ہوسکتی ہے۔ ہندوستان نے خلائی تحقیق سے کافی فائدہ اٹھایا ہے۔
ایک زمانہ تھا جب چاند پر بیٹھی بڑھیا سوت کاتتی تھی، اپنی بیوی پر بھوتنی کا اور دوسروں کی بیویوں پر چودھویں کا چاند ہونے کا گمان ہوتا تھا یا چاند دیکھنے کے لئے منڈیروں پر چڑھنے والے کسی چاند سے مکھڑے کو دیکھ کر اس کے عشق میں مبتلا ہو جایا کرتے تھے مگر اس خلائی دوڑ کے دور میں چاند معاشی، سیاسی اور سائنسی استحکام کا استعارہ بن چکا ہے۔ اب چاند صرف تصور میں نہیں پاؤں کے نیچے ہے۔ ناسا کے خلاء باز آرٹیمس کے ذریعہ چاند کے مدار میں کئی روز چکر لگانے کے بعد بہ حفاظت زمین پر لوٹ آئے ہیں ۔ امریکہ کے ریڈ وائز مین کی عمر ۵۰؍ سال سے زیادہ ہے۔ یہ مشن کمانڈر تھے اور زمین کے مدار سے بہت دور جانے والے مشن میں شامل خلاء بازوں میں سب سے زیادہ عمر انہی کی تھی۔ مشن اسپیشلسٹ امریکہ کی ہی کرسٹینا کوچ تھیں جن کو چاند کی طرف سفر کرنے والی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ وکٹر گلوور مشن پائلٹ تھے اور ان کا تعلق بھی امریکہ ہی سے ہے۔ دوسرے مشن اسپیشلسٹ جیریمی ہینسن تھے جن کا تعلق کنیڈا سے ہے۔
۲۱؍ جولائی ۱۹۶۹ء کو اپولومشن کے سہارے انسان نے چاند پر قدم رکھا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ خلائی جہاز ۲ء۳؍ لاکھ میل تک گیا مگر چاند کی سطح پر نہیں اترا بلکہ چاند کے قریب چکر لگا کر بہ حفاظت زمین پر واپس آگیا۔ اس کا مقصد اورین اسپیس کرافٹ کے لائف سپورٹ سسٹم کی جانچ کرنا تھا۔ یہ بھی دیکھنا مقصود تھا کہ خلاء میں انسانوں کے قیام یا رہائش کے لئے یہ سسٹم کتنا محفوظ ہے۔ اسرو کے ہی چندریان-ون نے جو ۲۰۰۸ء میں چھوڑا گیا تھا چاند پر پانی کی موجودگی کے شواہد پیش کئے تھے جنہیں اشارہ سمجھا گیا تھا۔ پانی کے بغیر چاند پر نہ تو قیام کیا جاسکتا ہے نہ ہی انسان وہاں اپنی ضروریات پوری کرسکتا ہے۔ اب چاند پر برف کی سلیں ملنے کی خبر آئی ہے جن کو پگھلا کر پانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ برف کو پگھلا کر نہ صرف آکسیجن اور ہائیڈروجن کا حصول ممکن ہے اور ان کو انسانی حیات کی بقاء کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے بلکہ ان کو راکٹ کے ایندھن کے طور پر بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ چاند پر ایسی معدنیات کی موجودگی کے بھی سراغ لگے ہیں جو زمین پر دستیاب نہیں ہیں اور جدید ٹیکنالوجی میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں ۔ اس کے باوجود کئی ایسے سوالات ہیں جن کے واضح جوابات ابھی نہیں دیئے جاسکتے۔
پہلا سوال تو یہی ہے کہ کیا چاند پر پہنچنا اور اس سے ایسے وسائل پیدا کرنا جو تکنیکی ترقی میں استعمال ہوں چھوٹے بڑے ملکوں کے لئے فائدے مند ہوگا؟ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا چاند پر فوجی برتری حاصل کرنا ممکن ہے اور کیا اس سے دیگر مطلوبہ فائدے حاصل ہوسکتے ہیں مگر چونکہ تجربہ یہ ہے کہ اب تک کی خلائی تحقیق نے میڈیکل آلات، مواصلات، کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کو فائدہ پہنچایا ہے اس لئے یہ سوچنا غلط نہیں ہے کہ خلائی تحقیق غیر متوقع طور پر فائدہ بخش ثابت ہوسکتی ہے۔ ہندوستان نے خلائی تحقیق سے کافی فائدہ اٹھایا ہے اور اب چین اس کوشش میں ہے کہ دنیا کی بڑی طاقتوں کو پچھاڑ سکے۔ روس اور امریکہ پہلے ہی اس میدان میں بہت آگے بڑھ چکے ہیں ۔ امریکہ نے ماضی میں تو پیش رفت کیا ہی تھا یکم اپریل ۲۰۲۶ء کو بھی فلوریڈا کے کیپ کینویرل سے خلائی جہاز جس کا ذکر کیا گیا ہے روانہ کیا تھا اور اس کو روانہ کرنے والی امریکی ایجنسی نے ہی ۶؍ اپریل کو اطلاع دی تھی کہ مذکورہ خلائی جہاز زمین سے چار لاکھ ۱۶؍ ہزار سے زیادہ کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ یہ خلائی جہاز دس روزہ چکّر کاٹ کر اور زمین سے سب سے زیادہ فاصلہ طے کرنے کا ریکارڈ بنا کر واپس زمین پر آگیا۔ یہ معمولی واقعہ نہیں ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس سے ہم کیا سبق حاصل کریں ۔ چاند سے متعلق ہونے والے اب تک تجربات و مشاہدات سے ہم نے کیا سیکھا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ہمارے یہاں چاند کا ذکر دل بہلانے یا محبوب کے حسن میں اضافہ کرنے کے لئے ہی کیا جاتا ہے۔
ایک لطیفہ ہے یا واقعہ لطیفے کی طرح بیان کیا جاتا ہے کہ چار گنجے ایک دعوت طعام میں بغیر دعوت کے پہنچے اور پھر اس اندیشے کے تحت معذرت کرنے لگے کہ شاید ان کی چوری پکڑی گئی ہے اور لوگوں نے جان لیا ہے کہ وہ دعوت کے بغیر ہی آگئے ہیں ۔ میزبان سمجھدار تھا اس نے معذرت کرنے والوں سے کہا کہ آپ معذرت کیوں کرتے ہیں آپ چاروں نے تو میری دعورت کو چار چاند لگایا ہے۔ اگر یہ معلوم ہو کہ چار چاند لگانا زینت بخشنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کھوپڑی کے اوپر کے حصے کو جس پر بال نہ ہو چاند یا چندیا کہتے ہیں تو دعوت میں گنجوں کی بغیر بلائے شرکت اور پھر معذرت کے جواب میں میزبان کے جملے کی معنویت اور سننے والوں کے لطف میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسی پس منظر میں یہ شعر بھی پڑھا جاسکتا ہے؎
کون کہتا ہے کہ محبوب مرا گنجا ہے
چاند کے سر پہ کہیں بال اگا کرتا ہے
یعنی چاند کی حقیقت جیسے جیسے دنیا کے سامنے آرہی ہے ادیبوں اور شاعروں کی حق بیانی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ وہ آدھی صدی پہلے ہی کہنے لگے تھے کہ؎
تجھے مَیں چاند کہتا تھا
مگر اس میں بھی داغ ہے
اب علماء اور مفتی صاحبان کو سوچنا ہے کہ چاند تک سفر اور وہاں قیام کے سلسلے میں عوام کی رہنمائی فرمائیں یعنی چاند تک سفر یا خلائی تحقیق کا یہ مرحلہ سائنسدانوں کےلئے چیلنج و تحریک تو ہے ہی طاقت، معیشت اور مستقبل کی عالمی قیادت کی جنگ کا بھی معاملہ ہے اور ان کے اثرات ٹیکنالوجی پر ہی نہیں ادب، معاشیات، اور سیاسیات پر بھی مرتب ہوں گے۔ موجودہ پس منظر میں ہندوستان کی خلائی تحقیق میں کامیابی کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ خلائی تحقیق میں کامیابی کے ہی پس منظر میں راقم الحروف نے اس کالم میں ایک مضمون لکھا تھا جس کا عنوان تھا: ’’چلو دلدار چلو، چاند کے پار چلو!‘‘ اس کو امریکہ آرٹیمس کی کامیابی پر بھی خوشی ہے اور اب یہ جان کر مزید خوشی ہو رہی ہے کہ ۲۰۲۸ء میں چاند پر اترنے کا ہدف طے کیا گیا ہے۔ ہماری قومی خصوصیت یہ ہے کہ ہم دوسروں کی کامیابی پر حسد نہیں کرتے بلکہ رشک کرتے ہیں ۔ ہم چاند اور چاند جیسے مکھڑوں کے قدر دان تو ہیں ہی سائنسی اور خلائی تحقیقات کے بھی قدردان ہیں ۔