Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی سفارت خانے کا طنزیہ حملہ: ٹرمپ انتظامیہ ’’رجیم چینج‘‘ سے گزر رہی ہے

Updated: April 24, 2026, 8:22 PM IST | Harare

زمبابوے میں ایرانی سفارت خانے کی ایک وائرل پوسٹ نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کردیا ہے، جس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ میں حالیہ برطرفیوں کو ’’حکومت کی تبدیلی‘‘ (رجیم چینج) قرار دیا گیا۔ اس طنزیہ مہم کو ایران کی نئی ڈجیٹل سفارتکاری کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایران امریکہ کشیدگی کے درمیان ایران نے ایک نئی ’’ڈجیٹل جنگ‘‘ کا آغاز کرتے ہوئے طنز و مزاح کو بطور ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ زمبابوے میں ایرانی سفارت خانے کی ایک وائرل سوشل میڈیا پوسٹ نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کر لی، جس میں ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری انتظامیہ میں ہونے والی حالیہ برطرفیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ وائرل پوسٹ میں چار اعلیٰ امریکی عہدیداروں کی تصاویر شامل تھیں، جنہیں حالیہ ہفتوں میں عہدوں سے ہٹایا گیا، اور اس کے ساتھ طنزیہ کیپشن درج تھا: ’’حکومت کی تبدیلی اب بھی جاری ہے۔ MAVGA (میک امریکہ ’’ویری‘‘ گریٹ اگین )۔‘‘ یہ جملہ دراصل اس امریکی بیانیے پر طنز تھا جس میں اکثر ایران میں ’’رِجیم چینج‘‘ کی بات کی جاتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: ٹرمپ کا ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا اعلان

برطرف کیے گئے اہم عہدیدار
پوسٹ میں جن شخصیات کو نمایاں کیا گیا، ان میں شامل ہیں:
(۱) جان سی پھیلان جنہیں ۲۲؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو اچانک برطرف کیا گیا۔
(۲) لوری شاویز ڈی ریمر جو بدعنوانی الزامات کے بعد ۲۰؍ اپریل کو ہٹائی گئیں۔
(۳) پام بونڈی کو ۲؍ اپریل کو عہدے سے ہٹایا گیا۔
(۴) کرسٹی نوم کو ۵؍ مارچ کو برطرف کیا گیا۔ 

تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ پوسٹ امریکی بیانیے کو ’’الٹا موڑنے‘‘ کی ایک کوشش ہے، جس میں ایران یہ دکھانا چاہتا ہے کہ عدم استحکام صرف تہران میں نہیں بلکہ واشنگٹن میں بھی موجود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی دوران ٹرمپ نے ایران میں اندرونی اختلافات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں ’’سخت گیر اور اعتدال پسند دھڑوں کے درمیان لڑائی‘‘ جاری ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا بھی دعویٰ کیا اور ایران پر دباؤ بڑھانے کی بات کی۔
واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب ایران نے سوشل میڈیا کو سفارتی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہو۔ اسی مہینے، اسی سفارت خانے نے ٹرمپ کے ہرمز سے متعلق بیان پر طنزیہ جواب دیا تھا کہ ’’ہماری چابیاں گم ہوگئی ہیں۔‘‘ ایرانی میڈیا سے منسلک پلیٹ فارمز نے اے آئی ویڈیوز بھی شیئر کئے جن میں امریکی قیادت کو متنازع شخصیات سے جوڑا گیا۔ ماہرین اسے ’’میم وار فیئر‘‘ یا ڈجیٹل پروپیگنڈا قرار دے رہے ہیں، جہاں روایتی سفارتکاری کے بجائے عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران کشیدگی سے ہرمز میں جہازوں کیلئے سنگین خطرہ

اگرچہ یہ آن لائن طنز بظاہر ہلکا پھلکا لگتا ہے، لیکن پس منظر میں صورتحال انتہائی سنجیدہ ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی ایران امریکہ بات چیت تعطل کا شکار ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی دباؤ اور بیانات میں شدت بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ سوشل میڈیا جنگ دراصل ایک بڑے جغرافیائی تصادم کی جھلک ہے، جہاں الفاظ، تصاویر اور بیانیے بھی ہتھیار بن چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK