سری لنکا کے مردوں کی قومی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے اپنی ذمہ داری سنبھالتے ہی مستقبل کی منصوبہ بندی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ۲۰۲۷ء آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کا روڈ میپ تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 24, 2026, 8:16 PM IST | Colombo
سری لنکا کے مردوں کی قومی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے اپنی ذمہ داری سنبھالتے ہی مستقبل کی منصوبہ بندی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ۲۰۲۷ء آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کا روڈ میپ تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔
سری لنکا کے مردوں کی قومی ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ گیری کرسٹن نے اپنی ذمہ داری سنبھالتے ہی مستقبل کی منصوبہ بندی پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ۲۰۲۷ء آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے ٹیم کا روڈ میپ تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔
یہ میگا ایونٹ جنوبی افریقہ، زمبابوے اور نمیبیا میں کھیلا جائے گا، اور گیری کرسٹن پہلے ہی ایسی ٹیم تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں جو ان مختلف کنڈیشنز میں بہتر کارکردگی دکھا سکے۔گیری کرسٹن نے کہاکہ ’’یہ کنڈیشنز زیادہ تر کھلاڑیوں کے لیے مختلف ہوں گی، اس لیے ہمیں ہر پہلو سے تیاری کرنا ہوگی۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ ہمارے پاس تیز رفتار گیندباز، سوئنگ کرانے والے بولرز، اچھال پیدا کرنے والے بولرز اور معیاری اسپنرز موجود ہیں یا نہیں، اور کیا ہمارے پاس ایسے چھ بلے باز ہیں جو ان حالات میں بہتر کھیل سکیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:آئی سی سی خواتین چیلنج ٹرافی: نیپال، اٹلی، امریکہ اور روانڈا میں سخت مقابلہ
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ کارکردگی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی مستقبل کی تیاری۔ نتائج اہم ہوتے ہیں، ہم اس سے نظریں نہیں چرا سکتے۔ ہر سیریز میں ہم اپنی بہترین کارکردگی دینا چاہتے ہیں اور ورلڈ کپ کے قریب آتے ہوئے مسلسل بہتری لانا ہمارا ہدف ہے۔
نئے ہیڈ کوچ کے طور پر ان کی ایک بڑی ترجیح ٹیم میں موجود ٹیلنٹ کی گہرائی اور معیار کا جائزہ لینا ہے۔ انہوں نے ابتدائی دنوں میں ٹیم کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اور مزید کھلاڑیوں کو دیکھنے کے لیے گالے میں سری لنکا اے اور نیوزی لینڈ اے کے درمیان میچ بھی دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:عید۲۰۲۷ء:سلمان خان کی ’’ایس وی سی۶۳‘‘ کا مقابلہ پربھاس کی ’’اسپرٹ‘‘ سے ہوگا
گیری کرسٹن نے کہاکہ ’’میں نے پہلے ہفتے میں ٹیم کا جائزہ لیا ہے تاکہ ہر کھلاڑی کی صلاحیت کو سمجھ سکوں۔ صرف صلاحیت کافی نہیں ، اچھی محنت اور مثبت رویہ بھی ضروری ہے۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ جدید کرکٹ میں مختلف فارمیٹس کی وجہ سے اسکواڈ میں گہرائی ہونا انتہائی اہم ہے تاکہ کھلاڑیوں کو آرام دیا جا سکے اور ان پر بوجھ کم رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق’’ہمیں ایک ایسا مضبوط اسکواڈ چاہیے جس میں اتنی گہرائی ہو کہ ضرورت پڑنے پر کھلاڑیوں کو روٹیشن میں رکھا جا سکے، کیونکہ ایک ہی کھلاڑی سے مسلسل کھیلنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘