بنگال میں کمل (کنول) کھلے ابھی ایک ماہ بھی نہیں ہوا مگر صوبے کے کونے کونے میں تبدیلی صاف نظر آرہی ہے۔یہ تبدیلی اگرصرف سیاست تک محدود ہوتی تو کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ اندیشہ یہ ہے کہ بی جے پی بنگال کی تہذیبی و ثقافتی اقدار، روشن خیال نظریات اورسیکولر رویہ کو تہس نہس نہ کردے۔
بی جے پی ریلی۔ تصویر:آئی این این
بنگال کے ووٹروں کو لبھانے کے لئے بی جے پی کا کلیدی انتخابی نعرہ تھا: ’’پالٹانو درکار،چائی بی جے پی سرکار‘‘یعنی تبدیلی درکار ہے اسی لئے بی جے پی حکومت چاہئے۔بنگالی ووٹروں نے نریندر مودی اور امیت شاہ کے دلفریب وعدوں اور دعوؤں سے متاثر ہوکر ان کی جھولی ووٹوں سے بھردی۔دونوں مرحلوں کے انتخابات میں ۹۲؍فی صدپولنگ بے وجہ نہیں تھی۔ بنگال کی باگ ڈور سنبھالتے ہی بی جے پی حکومت صوبے میں ایسی تبدیلیاں کررہی ہے جو اس کے ایجنڈہ کا حصہ تھیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ۲۰۱۱ء میں ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس بھی تبدیلی (پوریبورتن) کے رتھ پر سوار ہوکر مغربی بنگال کے راج سنگھاسن تک پہنچی تھی۔ ترنمول کانگریس بایاں محاذ کا ۳۴؍ سالہ راج پاٹ جڑ سے اکھاڑ کر اقتدار میں آئی ضرور تھی لیکن ممتا کی شخصیت اور سیاست دونوں پر بائیں بازو کے نظریات کا گہرااثر تھا۔ بایاں محاذ اور ترنمول کانگریس کی حکومتوں کے مجموعی پچاس برسوں پر نظر ڈالیں تو آپ کو ایک نظریاتی تسلسل دکھائی د ے گا۔ جیوتی باسو یا بدھادیب بھٹاچاریہ کی طرز قیادت اور ممتابنرجی کی طرز قیادت جداگانہ تھیں تاہم دونوں کے درمیان بنیادی سیاسی اورفکری مشابہتیں بھی تھیں۔ کمیونسٹوں کی طرح ممتا بھی غریب مزدوروں اور کسانوں کے حق کی بات کرتی تھیں۔ بایاں محاذ کی طرح ترنمول کانگریس حکومت بھی سیکولر، ترقی پسند اور روادار حکومت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بایاں محاذ حکومت کے خاتمہ کے بعد جب ترنمول کانگریس نے کمان سنبھالا تو بنگال کے معاشرے میں کسی قسم کا سماجی انتشار پیدا نہیں ہوااور نہ ہی عام انسانوں کی روز مرہ کی زندگی میں کوئی اتھل پتھل نظر آئی۔
لیکن ۴؍مئی کو بی جے پی کی جیت کے اعلان کے ساتھ ہی صوبے میں بڑی تبدیلی بلکہ تغیرات کے آثار نمودار ہونے لگے۔بی جے پی کی دوتہائی اکثریت کے ساتھ حاصل کی گئی بھاری جیت نے اس مفروضہ کو منہدم کردیا ہے کہ اپنی دیرینہ تہذیبی اور ثقافتی اقدار کی وجہ سے بنگال کی سرزمین کٹر ہندوتواوادی نظریے کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔تلخ سچائی یہ ہے کہ بنگال نے بی جے پی کو گرم جوشی سے گلے لگایا ہے۔بنگال بدل گیا ہے اور اس تبدیلی کا پورا کریڈٹ (یا الزام) بی جے پی کو دیا جانا چاہئے۔بنگال میں حقیقی تبدیلی بی جے پی لے کر آئی ہے۔یہ تبدیلی اگرصرف سیاست تک محدود ہوتی تو کوئی مسئلہ نہ تھا۔ اندیشہ یہ ہے کہ بی جے پی بنگال کی تہذیبی و ثقافتی اقدار، روشن خیال نظریات اورسیکولر رویہ کو تہس نہس نہ کردے۔ڈر یہ بھی ہے کہ کٹر ہندوقوم پرستی بنگال کواتر پردیش یا گجرات میں تبدیل نہ کردے۔
بی جے پی نے اقتدار سنبھالتے ہی بنگال کے شعبہ تعلیم کوکرپشن اور دیگر خرابیوں سے پاک تو نہیں کیا ہاں سرکاری اسکولوں میں وندے ماترم کا جاپ ضرور شروع کروادیا۔صوبہ کے ڈیڑھ ہزار سرکاری مدرسوں کے بچے بھی اب ہر روزوندے ماترم گارہے ہیں۔ ایک بڑی تبدیلی شوبھیندو ادھیکاری کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی دکھائی دینے لگی جب کلکتہ کی سڑکوں پر بلڈوزر دندنانے لگے۔ پچھلے چار ہفتوں میں ان آہنی عفریتوں نے متعدد گھر ڈھادیئے اور سیکڑوں دکانیں زمین بوس کردیں۔ کلکتہ جلسے جلوسوں اور احتجاج اور مظاہروں کا شہر مانا جاتا ہے لیکن بی جے پی حکومت میں شاید اس کی یہ شناخت بھی جلد ہی داستان پارینہ بن جائے گی۔ عمارتوں کے انہدام کے خلاف جب پارک سرکس میں لوگوں نے احتجاج کیا تو پولیس نے انہیں گرفتاربھی کیا اور ان کی کمر میں رسی باندھ کر گشت بھی کرایا گیا۔ مظاہرین کے ساتھ اس طرح کاغیر انسانی سلوک کلکتہ کی سڑکوں پر پہلے نہیں دیکھاگیا۔ان لوگوں پر پولیس پر پتھراؤ کرنے کا الزام تھا۔ پولیس کامظاہرین پر لاٹھی چارج کرنا اور آنسو گیس کے گولے داغنا اور مشتعل مظاہرین کا پولیس پر پتھراؤ کرنا درست نہیں ہے تاہم یہ بنگال کی جمہوری سیاست کا ہمیشہ سے حصہ رہاہے لیکن وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکاری نے’’ آخری وارننگ‘‘ دے دی ہے کہ بی جے پی کے نیوبنگال میں احتجاج یا عوامی مظاہرے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ ادھیکاری حکومت میں بنگال کی پولیس اتر پردیش اور آسام کی پولیس کے نقش قدم پر چلنے لگی ہے۔اب بس یہ دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ ملزموں کو گرفتار کرکے عدالت سے سزا دلوانے کے بجائے یہاں بھی انکاؤنٹر کے ذریعہ گولی ماردینے کا سلسلہ شروع نہ ہوجائے۔
بنگال میں آئی حالیہ سیاسی تبدیلی کا اثر مسلمانوں کے بڑے تہوار عید الاضحی پر بھی واضح طور پر نظر آیا۔ پچاس برسوں سے کلکتہ کے ریڈ روڈ پر عید کی سب سے بڑی جماعت کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ بی جے پی حکومت نے نہ صرف ریڈ روڈ پر بلکہ تمام سڑکوں پر نماز پڑھنے پر مکمل پابندی عائد کردی۔ اس بار صوبے میں بڑے جانوروں کی قربانی بھی نہیں کی گئی۔خواہ وہ سڑکوں پر نماز پڑھنے پر پابندی ہو یا بڑے جانوروں کی قربانی کی ممانعت پورے صوبے میں بغیر احتجاج ان پر عمل کیا گیا۔ ذہن نشیں رہے کہ بنگال کی مجموعی آبادی دس کروڑ سے زیادہ ہے اور مسلمانوں کی آبادی ڈھائی سے تین کروڑ کے درمیان۔مسلمانوں نے راتوں رات یہ فیصلہ کیا کہ بڑے جانور کی قربانی نہیں کریں گے اور نہ ہی سڑکوں پر نماز ادا کریں گے۔پورے صوبے میں کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہیں ہوا۔ مسلمانوں نے تصادم کے بجائے تدبرکی راہ اپنا کر انہیں مشتعل کر کے محاذ آرائی کی جانب ڈھکیلنے کی بی جےپی کی چال ناکام کردی۔
اب بات کرلیں بنگال میں آئی سب سے بڑی تبدیلی کی۔ پچھلے ۸۰؍ سالوں میں جو کبھی نہیں ہوا وہ بی جے پی نے چند ہفتوں میں کردکھایا۔بنگال میں بھی کئی حراستی مراکز قائم کئے جاچکے ہیں اور وزیر اعلیٰ شوبھیندو ادھیکار ی بہت جلدصوبے کے ہر ضلع میں ایسے مراکز قائم کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں جہاں بنگلہ دیش ڈیپورٹ کئے جانے سے پہلے ان مبینہ گھس پیٹھیوں کو قید میں رکھا جائیگا جن کی دھڑ پکڑبڑے پیمانے پر شروع ہوگئی ہے۔ غیر ملکی تارکین وطن کی شناخت کرکے انہیں ڈیپورٹ کرنے کی کاروائی امریکہ میں بھی ہوتی ہے لیکن وہاں قانونی اور سفارتی کاروائیاں مکمل کرنے کے بعد ہی انہیں ملک بدر کیا جاتا ہے۔ بی جے پی کے زیر اقتدار صوبوں میں کام کررہے متعدد غریب مسلم مزدوروں کو گرفتار کرکے بنگلہ دیش کی سرحد کے پار دھکیل دینے کے کئی واقعات ہوچکے ہیں۔ ان کاگناہ صرف اتنا تھا کہ یہ بنگلہ بولنے والے مسلمان تھے جو مغربی بنگال کے مختلف اضلاع سے روزی روٹی کی تلاش میں دلی،گجرات یا مہاراشٹر گئے تھے۔ تمام سرکاری دستاویزات دکھانے کے باجود بنگلہ دیشی یا روہنگیا قرار دے کر ملک بدر کئے گئے یہ بدنصیب ہندوستانی شہری تھے۔ اگر لاکھوں شہریوں کو ووٹ دینے کے آئینی حق سے محروم کیا جاسکتاہے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ لاکھوں لوگوں کو ان کی شہریت سے محروم نہیں کیا جائیگا؟