تعلیم، معاش، معاشرہ، سیاسی و سماجی حالات، اب تو خط لکھے نہیںجاتا یعنی اس کا رواج ہی ختم ہوگیا ہے مگر اِس کی ضرورت پیش آجائے تو کیا کچھ لکھنا ہوگا اس کا اندازہ تک نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا خط سیکڑوں صفحات پر مشتمل ہوتو کیا عجب۔
EPAPER
Updated: August 09, 2025, 1:38 PM IST | Shahid Latif | Mumbai
تعلیم، معاش، معاشرہ، سیاسی و سماجی حالات، اب تو خط لکھے نہیںجاتا یعنی اس کا رواج ہی ختم ہوگیا ہے مگر اِس کی ضرورت پیش آجائے تو کیا کچھ لکھنا ہوگا اس کا اندازہ تک نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا خط سیکڑوں صفحات پر مشتمل ہوتو کیا عجب۔
کسی کو یہ علم ہو بھی تو معدودے چند ہی کو ہوگا کہ وہ خطوط جن پر پتہ درج نہیں ہوتا ڈاک خانے کا عملہ اُن کا کیا کرتا ہے۔ ضائع کردیتا ہے یا کوئی ترکیب ہے اُنہیں مکتوب الیہ تک پہنچانے کی؟ ڈاک خانے سے وابستہ کوئی شخص ملے تو پوچھا جاسکتا ہے مگر ایسے افراد ملیں گے کہاں ؟ اب تو ڈاک خانے بھی دکھائی نہیں دیتے کہ وہیں جاکر کچھ معلومات حاصل کرلی جائیں !
یہ باتیں اس لئے ذہن میں آرہی ہیں کہ یہ مضمون، مضمون نہیں کھلا خط ہے اور دل میں بسنے والے اُن لوگوں کے نام لکھا گیا ہے جنہوں نے بستی بہت دور بسا لی ہے، جنہیں رفتگاں کہا جاتا ہے۔ چونکہ ان کا پتہ کسی کو نہیں معلوم کہ بہت دور جو بستی اُنہوں نے بسائی ہے وہ کہاں ہے اس لئے اس خط پر بھی پتے کی جگہ خالی رہے گی اُن خطوط کی طرح جو ’’نہ پہنچنے کیلئے‘‘ لکھے جاتے ہیں یا لکھے ہی نہیں جاتے اس کے باوجود دل میں آس رہتی ہے کہ ’’اَن لکھے‘‘ یہ خطوط بھی مکتوب الیہ تک پہنچ جائیں ۔ بہرکیف، یہ مضمون نما خط یا خط نما مضمون اس لئے لکھا جارہا ہے کہ اکثر اوقات جب وحشت ِدل بڑھ جاتی ہے تو خواہش ہوتی ہے کہ تھوڑی دیر کیلئے رفتگاں سے مخاطب ہوا جائے اور اُنہیں ، اُن کے بعد کے حالات سے روشناس کراتے ہوئے دل کی بھڑاس نکالی جائے اور بین السطور کہا جائے کہ رفتگانِ محترم آپ نے جس دُنیا سے منہ موڑ لیا، اب وہ رہنے کے قابل نہیں رہ گئی ہے، آپ خوش نصیب تھے کہ آپ کے سامنے بہتر زمین تھی، بہتر آسمان تھا، بہتر فضا تھی، بہتر ماحول تھا، بہتر غذا تھی، بہتر پانی تھا، بہتر اشجار و اثمار تھے، بہتر ہوا تھی، آس پاس بہتر لوگ اور بہتر لوگوں میں بہتر صاحبانِ اقتدار و اختیار تھے، بہتر احباب تھے، بہتر ہم سایہ تھے، بہتر اعزہ تھے، بہتر باپ کے بہتر بیٹے یا بہتر بیٹوں کے بہتر باپ تھے، بہتر شناسا تھے، بہتر اجنبی تھے، بہتر مقیم اور بہتر مسافر تھے۔
رفتگانِ محترم، آپ کے دَور کا غلط کار بھی بہتر تھا جو سر جھکا کر اپنی غلطی تسلیم کرتا تھا، اُس کی آنکھوں میں ندامت کے آنسو ہوتے تھے، اب تو غلطی ماننے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ غلطی کی نشاندہی کرنے والے ہی کو غلط ثابت کردیا جاتا ہے۔ آپ کے دَور کا نیکوکار بھی آج کے نیکوکار سے بہتر تھا۔ اُس کی نیکی میں جتنا اخلاص تھا اب نظر نہیں آتا یا شاید اخلاص کو پرکھنے والی وہ نگاہ نہیں رہ گئی ہے جو آپ حضرات کے پاس تھی۔ جس طرح چراغ سے چراغ جلتا ہے سنا ہے اُسی طرح اخلاص سے اخلاص فروغ پاتا تھا۔ اب اخلاص ہی جنس گرانمایہ ہے تو فروغ کا سوال ہی کہاں ہے۔ خرابیاں آپ کے دَور میں بھی رہی ہوں گی مگر اب تو خرابیوں میں دَور ہے۔ کشت و خوں اور قتل و غارتگری کے واقعات معمول بن چکے ہیں ، عصمتیں ایسے لٹ رہی ہیں جیسے آندھی میں گردو غبار اُڑتا ہے، اِس دور میں دروغ گوئی، وعدہ خلافی اور فریب دہی کو ہنر مانا جا رہا ہے عیب نہیں البتہ ان باتوں پر تشویش عیب ہے۔ جو مبتلائے تشویش ہو لوگ اُس سے پوچھتے ہیں کہ تم کیوں پریشان ہو تمہارے ساتھ تو ایسا نہیں ہوا۔
رفتگانِ محترم، سنا ہے آپ کے دور میں گھروں پر تالہ نہیں لگتا تھا۔ اب گھروں پر لگنے والے تالے بھلے ہی بھاری بھرکم نہ ہوں مگر ہر تالے میں اتنے لیور ہوتے ہیں کہ چابی گھماتے رہئے ایک کے بعد دوسرا لیور بزبانِ خاموشی سوال کرتا ہے کہ آپ نے صحیح چابی لگائی ہے یا نہیں یا آپ صحیح شخص ہیں یا نہیں ؟ یہ تو بڑے دروازے کا قصہ ہے، گھروں کے اندر بھی کئی دروازے ہوتے ہیں جو اندر سے مقفل رہتے ہیں ۔ آپ حضرات کا مشترکہ خاندان پر اصرار تھا۔ شاید یہ دقیانوسی خیال تھا۔ نئی دُنیا یا تو مکمل علاحدگی پر یا مشترکہ علاحدگی پر یقین رکھتی ہے۔ آپ سوچیں گے کہ مشترکہ علاحدگی کیا ہوتی ہے؟ یہ ایجادِ بندہ ہے۔ مشترکہ علاحدگی یعنی ایک ساتھ رہتے ہوئے الگ الگ رہنے کا فن۔ جس طرح بڑے فلیٹوں میں چھوٹے چھوٹے فلیٹ ہیں اُسی طرح بڑے خاندان کی یہ چھوٹی چھوٹی اکائیاں ہیں ۔ دادا دادی اگر اُسی چھت کے نیچے ہوں تو بعض خاندانوں میں کوشش ہوتی ہے کہ اُن کا سایہ بچوں پر نہ پڑے۔ یہ احتیاط ہے تاکہ بچے، جنہیں نئی دُنیا کا سامنا کرنا ہے، پرانی دُنیا کا طور طریقہ نہ سیکھیں ۔
رفتگانِ محترم، کیا بتائیں کہ کیا کیا بدل گیا ہے۔ اگر آپ موقع نکال کر ایک دن یا ایک گھنٹے کیلئے تشریف لے آئیں تو حیران رہ جائینگے اور سوچیں گے کہ اچھا ہوا ہم نے منہ موڑ لیا ورنہ اتنا حبس تو سہا نہ جاتا۔ آپ کے دَور کی قدروں پر ایسی آفت ٹوٹی کہ لوگ باگ جانتے ہی نہیں کہ قدر کس چڑیا کا نام ہے اور جو ہے وہ ہندوستانی چڑیا ہے یا مہاجر پرندوں کے ساتھ سائبیریا سے آتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : مملکت فلسطین کا قیام: امکان اور مشکلات
محترم، آپ کے دور میں مرد تعلیم حاصل کرتے تھے عورتیں نہیں ، اسی لئے آپ حضرات نے بڑی دور اندیشی سے تعلیم نسواں کی جدوجہد کی تھی۔ وہ جدوجہد آج کے دور تک آتے آتے عجیب و غریب ہوگئی ہے۔ وہ اس طرح کہ اب لڑکیاں ہی پڑھ رہی ہیں اور لڑکوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ یہ لڑکیوں کا کام ہے۔ وہ کہتے نہیں ہیں مگر تعلیم سے اُن کی بے اعتنائی سے ظاہر یہی ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اب بھی ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ لڑکی ہے چولہا چکی کرے تو بہتر ہے، پڑھ لکھ کر کیا کرے گی۔ یہ دو طرفہ تماشا ہے کہ لوگ لڑکیوں کو پڑھانا نہیں چاہتے اور لڑکے پڑھنا نہیں چاہتے۔ اکثر لڑکیوں کو پڑھنے کی تبھی تک اجازت دی جاتی ہے جب تک اُن کے ہاتھ پیلے نہیں ہو جاتے۔ اِدھر ہاتھ پیلے ہوئے اور اُدھر پڑھائی کو خیرباد۔ اگر لڑکیاں حسب خواہش پڑھ لیں تو کریئر بنانے کیلئے اُن کی حوصلہ افزائی نہیں کی جاتی جبکہ لڑکے کریئر بناسکتے ہیں مگر پڑھتے نہیں ، اسی لئے ممکن ہے اگلے خط میں آپ کو اطلاع دی جائے کہ اعلیٰ ملازمتوں میں آپ کے وارثوں کی جتنی کم نمائندگی پہلے تھی اب اُس سے بھی کم ہوگئی ہے۔ اس پر جتنی تشویش ہونی چاہئے تھی وہ بھی نہیں ہے، جس کو دیکھئے حالات کا رونا روتا ہے۔ رفتگانِ محترم کیا آپ بھی حالات کا رونا روتے تھے؟ روتے ہوں گے مگر آپ معاشرہ کی تعمیر و تشکیل کیلئے سرگرم بھی رہتے تھے۔اب ان تکلفات میں کوئی نہیں پڑتا۔ خط طویل ہوگیا ہے مگر بات مکمل نہیں ہوئی اس لئے بقیہ باتیں آئندہ، دُعاء خیر میں یاد رکھئے اور اگلے خط کا انتظار کیجئے، والسلام۔