اس ہفتےغیر اردو اخبارات میں امریکی ٹیرف کے نافذ ہونے سے ہندوستانی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات، مہاراشٹر حکومت کا دیہاتوں کو اسمارٹ بنانے کا اعلان، نائب صدر جمہوریہ کے عہدے کے امیدواربی سدرشن ریڈی کے خلاف وزیرداخلہ امیت شاہ کا تبصرہ اور بہار میں آدھار کارڈ کو بطور شناختی ثبوت قبول کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم جیسے اہم موضوعات چھائے ر ہے۔
ٹرمپ کو مودی ’مائی ڈیئر فرینڈ‘ کہتے رہے اور ٹرمپ نے ہندوستان پر ٹیرف لگا کر مودی کو بڑاجھٹکا دے دیا۔ تصویر: آئی این این۔
اس ہفتےغیر اردو اخبارات میں امریکی ٹیرف کے نافذ ہونے سے ہندوستانی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات، مہاراشٹر حکومت کا دیہاتوں کو اسمارٹ بنانے کا اعلان، نائب صدر جمہوریہ کے عہدے کے امیدواربی سدرشن ریڈی کے خلاف وزیرداخلہ امیت شاہ کا تبصرہ اور بہار میں آدھار کارڈ کو بطور شناختی ثبوت قبول کرنے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم جیسے اہم موضوعات چھائے ر ہے۔ اس کے علاوہ آن لائن گیمنگ، سپریم کورٹ کا کتوں سے متعلق فیصلہ اورسوشل میڈیا پر اظہار رائے کی آزادی جیسے موضوعات پر بھی کچھ اخبارات نے لکھا ہے۔
امریکی ٹیرف نے ۵؍ٹریلین معیشت کی پول کھول دی
سامنا( مراٹھی، ۲۹؍اگست)
’’وزیر اعظم مودی امریکہ کا نام لئے بغیر کہتے ہیں کہ ’میں دباؤ کے آگے نہیں جھکوں گا‘ اور ادھر ہندوستانی صنعت اور معیشت پر امریکی ٹیرف کے جھٹکے لگنا شروع ہوچکے ہیں۔ ٹرمپ نے ہندوستان پر ۵۰؍ فیصد ٹیرف عائد کیا ہے۔ اس کا پہلا اثر اسٹاک مارکیٹ پر ہوا۔ سینسکس اور نفٹی دونوں گر گئےجس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس سے زیادہ تشویشناک یہ ہے کہ امریکہ کو ہونے والی برآمدی اشیاء کو زبردست دھچکا لگے گا۔ بنیادی طور پر کپڑے، زیورات، ہیرے، سمندری فوڈ، اناج وغیرہ پر ۵۰؍ فیصد ٹیرف کا سنگین اثر ہوگا۔ تقریباً ۱۱ ارب ڈالر ٹیکسٹائل انڈسٹری کی برآمدی تجارت پر سوالیہ نشان کھڑا ہوگیا ہے۔ زیورات، ہیرے اور جواہرات کی صنعت نے پچھلے سال امریکہ کو ۹۰؍ ہزار کروڑ روپے کی برآمد کی تھی۔ پچھلے سال ہندوستان نے امریکہ کو ۷ء۵۹؍ لاکھ کروڑ روپے کا سامان بر آمد کیا تھا۔ اب۵۰؍ فیصد ٹیرف کے نفاذ کے بعد یہ تعداد کم ہوکر نصف تک آنے کا خدشہ ہے۔ برآمدات میں کمی کاسیدھا مطلب ہے کہ ہندوستانی مصنوعات اور روزگار کو زبردست نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ایک اندازے کے مطابق ایکسپورٹ سیکٹر سے متعلق ۱۰؍ سے ۲۰؍ لاکھ نوکریاں ختم ہو جانے کا خطرہ رہے گا۔ نجی صنعت کاری میں سرمایہ کاری بھی متاثر ہوگی۔ ۵۰؍ فیصد ٹیرف کا نفاذ، ہندوستان۔ امریکہ تجارتی معاہدے پر تعطل اور ٹیرف پالیسی کی وجہ سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی زبردست دباؤ میں نظر آرہی ہے۔ اضافی ٹیرف نے ہندوستانی کرنسی پر بھی اثر ڈالا ہے۔ اس کے نتیجے میں روپیہ، جو پہلے ہی ڈالر کے مقابلے کمزور تھا، ۱۲؍ پیسے مزید گر گیا ہے۔ ۵؍ کھرب کی معیشت، دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کے بلند بانگ دعوے مودی اور ان کے بھکت کرتے نہیں تھکتے ہیں لیکن ٹرمپ کے ۵۰؍ فیصد ٹیرف نے ان کی پول کھول دی ہے۔ ‘‘
اسمارٹ سٹی کے بعد اسمارٹ گاؤں کا نیا جملہ
پربھات( مراٹھی، ۲۶؍اگست)
’’مہاراشٹر میں بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے ہر تعلقہ میں ۱۰؍ اسمارٹ دیہات قائم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس طرح سے مہاراشٹر کے تقریباً ساڑھے تین ہزار دیہاتوں کو اسمارٹ بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے ناگپور میں دیہاتوں کی کایا پلٹنے کا خوش کن اعلان کیا۔ جب ہم یہ سب سنتے ہیں تو بڑی راحت محسوس ہوتی ہے۔ کوئی نہیں چاہے گا کہ حکومت کا فیصلہ صرف کاغذ پر ہو اور ایک خواب بن کر رہ جائے، لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہوگا؟ کیاحکومت جو اعلان کرتی ہے اس پر ایمانداری سے عمل بھی کرتی ہے؟ حال ہی میں ہم نے پورے ملک میں اسمارٹ سٹی کے نام پر ایک تماشا دیکھا ہے۔ اس کے تحت مہاراشٹر کے کئی شہروں کو اسمارٹ بنایا جانا تھا مگر یہ اسکیم بری طرح ناکام ہوگئی۔ مرکزی حکومت نے جن ۱۲۵؍ شہروں میں اسمارٹ سٹی پروجیکٹ نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا، ان میں سے بمشکل ۱۶؍ پروجیکٹ ہی پایہ تکمیل تک پہنچ سکے۔ اب دیویندر فرنویس نے مہاراشٹر کے ساڑھے تین ہزار دیہاتوں کو اسمارٹ بنانے کا لالچ دیا ہے۔ اسمارٹ سٹی کے پس منظر میں کوئی بھی اس اسکیم سےمتعلق اندازہ لگا سکتا ہے؟‘‘
الیکشن کمیشن کو سپریم کورٹ کی ہدایات
دی ٹائمز آف انڈیا( انگریزی، ۲۶؍اگست)
’’اعتراضات کا سلسلہ بند ہونے سے ۱۰؍ روز قبل سپریم کورٹ نے بہار میں ایس آئی آر کے ڈرافٹ سے غلط طریقہ سے حذف ہونے والوں کو دوبارہ اندراج کیلئے آدھار کارڈ کا استعمال کرنے کا حکم دیا۔ اس فیصلہ سے کافی فرق پڑے گا۔ ایسے رائے دہندگان کو فارم نمبر۶؍ پُر کرنا ہوگا جس میں نام اور رابطہ کے بعد آدھار کارڈ نمبر کا اندراج ضروری ہے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اس تعلق سے واضح ہدایت دی ہے کہ وہ اپنے فارم میں آدھار کارڈ کو شناختی ثبوت کے طور پر شامل کریں۔ آدھار کارڈ قبول نہیں کرنے کے فیصلے سے انتشار کی کیفیت پیدا ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامی خرابی میں الیکشن کمیشن کا نقطہ نظر ہمیشہ باہمی تعاون پر مبنی نہیں رہا ہے۔
سابق ججوں کے گروپ کی امیت شاہ پر تنقید
نوبھارت( ہندی، ۲۷؍اگست)
’’یہ پہلا موقع ہے جب سابق ججوں کے ایک گروپ نے وزیر داخلہ امیت شاہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپوزیشن کے نائب صدر کے امیدوار اور سپریم کورٹ کے سابق جج سدرشن ریڈی کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا تھا کہ انہوں نے نکسل ازم کی حمایت کرکے عدلیہ کی آزادی کو نقصان پہنچایا ہے۔ شاہ نےکہا تھا کہ جسٹس سدرشن نے اپنے۲۰۱۱ء کے ایک فیصلے میں ’سلوا جوڈم‘کو غیر قانونی قرار دے کر نکسلیوں کی مدد کی تھی۔ اس وقت کے چھتیس گڑھ کے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ رمن سنگھ نے قبائلیوں کو ٹریننگ دے کر ’سلوا جوڈم‘ نامی تنظیم بنائی تھی اور انہیں نکسلیوں سے لڑنے کیلئے تیار کیا تھا۔ سابق ججوں کے گروپ نے کہاکہ نائب صدر کے عہدے کیلئے انتخابی مہم نظریاتی ہوسکتی ہےلیکن اسے شرافت اور وقار کے ساتھ چلایا جانا چاہئے۔ کسی بھی امیدوار کے نظریات پر تنقید کرنے سے گریز کرنا چاہئے۔ شاہ کا بیان اس بات کا اشارہ کرتا ہے کہ جسٹس ریڈی نکسلیوں کے تئیں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ سچائی یہ ہے کہ سلوا جوڈم کے نام پر تیار کئے گئے گروہ کے قبائلی اراکین بڑی تعداد میں مارے جارہے تھے۔ وہ مہلک ہتھیاروں سے لیس تربیت یافتہ نکسلیوں کا مقابلہ کرنے سے قاصر تھے۔ جسٹس ریڈی نے تمام پہلوؤں کو دھیان میں رکھ کر سلوا جوڈم نامی تنظیم کو غیرقانونی قرار دیا تھا۔ سابق ججوں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ کسی اعلیٰ سیاسی شخصیت کی جانب سے عدالتی فیصلے کی غلط تشریح ججوں پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ ‘‘