عالمی سطح پر ڈاکٹر منموہن سنگھ کی خوب پزیرائی ہوئی اور انہیں عزت و احترام سے دیکھاگیا، انہیں کبھی اپنی کامیابیوں اور حصولیابیوں کا ڈھنڈورہ پیٹنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔
EPAPER
Updated: August 13, 2026, 3:48 PM IST | Agency | Mumbai
عالمی سطح پر ڈاکٹر منموہن سنگھ کی خوب پزیرائی ہوئی اور انہیں عزت و احترام سے دیکھاگیا، انہیں کبھی اپنی کامیابیوں اور حصولیابیوں کا ڈھنڈورہ پیٹنے کی ضرورت نہیں ہوئی۔
۲۹؍ جولائی ۲۰۲۶ء ایک اہم تاریخ تھی مگر ملک کے حالیہ سیاسی منظر نامہ میں اسے نظر انداز کردیاگیا۔ اس دن انتہائی اہم فیصلہ میں سپریم کورٹ نے نام نہاد ’’کوئلہ بلاک الاٹمنٹ گھوٹالے‘‘ میں ڈاکٹر منموہن سنگھ کو دی گئی سی بی آئی کی کلین چٹ پر مہر لگادی۔ عدالت نے کلوزر رپورٹ مسترد کرنے اور’’کسی جواز کے بغیر ‘‘ سابق وزیراعظم پر منفی تبصرہ کرنے پر ٹرائل کورٹ کی سخت سرزنش بھی کی۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی ڈاکٹر سنگھ جن کی پہچان ان کی شائستگی اور دیانت داری تھی، کی کردار کشی کی مہم اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی۔ ان کے خلاف ایک منظم اور مربوط لابی کام کررہی تھی جس میں نوکرشاہ، میڈیا ، عدلیہ، شہری سماج سے وابستہ افراد اور سب سے بڑھ کر آر ایس ایس اور بی جے پی کے عناصر شامل تھے مگر بالآخر ڈاکٹر سنگھ ہر لحاظ سے سرخرو ہوئے۔ مودی حکومت جس طرح کام کررہی ہے، جس طرح جرائم اور بدعنوانی کی جانچ کیلئے بنائی گئی ای ڈی اور سی بی آئی جیسی ایجنسیوں کا دھڑلے سے غلط استعمال ہورہا ہے، اس کے مقابلے میں ڈاکٹر سنگھ کی دیانتداری اور جوابدہی کا ریکارڈ بہت اعلیٰ تھا۔ آج جانچ ایجنسیوں کا مقصد سیاستدانوں پر دباؤ ڈالنا رہ گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہیروشیما اور ناگاساکی کے ۸۲؍ سال
یا تو لیڈروں کو خاموش کردیا جاتا ہے یا پھر بی جے پی میں شامل کرلیا جاتا ہے اور بعض معاملات میں وزارتی عہدوں سے بھی نوازا جاتا ہے۔ بدعنوانی کے الزامات کونظرانداز کر دیا جاتا ہے (کیونکہ) اگر آپ اپوزیشن میں ہیں تو بدعنوان ہیں ، پالا بدلتے ہی بالکل پاک صاف ہوجاتے ہیں۔ یہ اتفاق نہیں کہ وزیر اعظم نریندرمودی بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ پر حملہ کرنےوالوں میں پیش پیش رہے ہیں۔ ر اجیہ سبھا میں ۸؍فروری ۲۰۱۷ء کا ان کا طنزیہ بلکہ ظالمانہ جملہ کہ صرف منموہن سنگھ ہی ’’برساتی پہن کر نہانے کا ہنر‘‘ جانتے ہیں، پارلیمانی تاریخ کے پست ترین مواقع میں سے ایک ہے۔ مودی چونکہ آج کل ان طلبہ کو ’’معاف‘‘ کر رہے ہیں جنہوں نے انہیں نشانہ بنایا ہے تو مناسب ہوگا کہ وہ خود کو بھی ڈاکٹر منموہن سنگھ کے خلاف ناشائستگی اور ان کی کردار کشی کیلئے معاف کرلیں۔ ڈاکٹر سنگھ کو نشانہ بنانے کا مقصد عوامی اور سیاسی بیانیے سے ان کے شاندار دورکو ہٹادیناتھا۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نےملک میں اس معاشی تبدیلی کی بنیاد رکھی، جس کے نتیجے میں ہندوستان متوسط آمدنی والے ممالک کی صف میں شامل ہوا۔ ۲۰۰۸ء میں جب عالمی معیشت شدید بحران اور تباہی سے دوچار تھی، ہندوستان نے اپنی معاشی مضبوطی کو برقرار رکھا۔ ان کی حکومت نے جو پروگرام شروع کئے اور معاشی شرح نمو میں جو تیزی آئی تھی اس کی وجہ سے ہندوستان نے غربت کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن پیش رفت کی۔ ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ یو پی اے حکومت کے ۱۰؍برسوں کی شرح نمو جی ڈی پی کے حساب کا طریقہ بدل دینے کےباوجود گزشتہ۱۲؍ سال کے مقابلے میں زیادہ رہی اور اس کے نتیجے میں لاکھوں افراد غربت سے باہر نکلے۔ سماجی سطح پر ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت نے ایک ایسے انقلاب کی راہ ہموار کی جس نے تمام ہندوستانیوں کو اور خاص طور پر محروم طبقات کو حقوق فراہم کئے۔ اُن کی حکومت نے تعلیم کے حق کے آئینی وعدے کو عملی شکل دی اور آئی آئی ٹی نیز آئی آئی ایم میں او بی سی ریزرویشن کو نافذ کرکے سماجی انصاف کو وسعت دی۔
یہ بھی پڑھئے: یہ خود سر نسل قابو میں آنے والی نہیں!
فاریسٹ رائٹس ایکٹ کے ذریعہ جنگلات پر آدیواسی سماج کے آبائی حقوق کو تسلیم کیا۔ منریگا، جسے حال ہی میں مودی حکومت نے ختم کردیاہے، سماجی تحفظ فراہم کرنے والا دنیاکا سب سے طاقتور اقدام تھا۔ کورونا کی وبا کے دوران جب پوری معیشت انتشار کا شکار تھی، منریگا اُن ۲؍ذرائع میں سے ایک تھا جن کے ذریعہ حکومت غریب اورسماج کے سب سے کمزور طبقات تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ دوسرا ’نیشنل فوڈ سیکوریٹی ایکٹ ۲۰۲۳ء‘ تھا جو ڈاکٹر سنگھ کی حکومت کی ہی ایک اور کامیابی تھی۔ اس کے ذریعہ کروڑوں خاندانوں کی نشاندہی کی گئی اور راشن کی فراہمی کی ضمانت دی گئی۔ اب اس قانون میں بھی ترمیم کی کوشش ہورہی ہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ نےوزارت عظمیٰ سے علاحدگی کے وقت ہی متنبہ کیاتھا کہ حقوق پر مبنی قوانین پر حملہ ہوگا اور افسوس کہ ان کے خدشات سچ ثابت ہورہے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے وزیر اعظم کی حیثیت سے ڈاکٹر منموہن سنگھ کا دور جمہوری اداروں کی ترقی اورتقویت سے عبارت ہے۔ انہوں نے سنگ میل کی حیثیت رکھنے والے ’رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ‘ کے ذریعہ شفافیت کے نئے دور کا آغاز کیا۔ اس قانون نے شہریوں کو حکومت کے اندرونی کام کاج تک رسائی فراہم کی البتہ آج اس کو بے اثر کردیا گیا ہے۔ اُن کے دور میں صحافتی آزادی کا نتیجہ تھا کہ آزاد میڈیا کا طوفان ساآگیاتھا جس کی خصوصیت بے خوفی تھی۔ آج کی کمزور صورتحال سے موازنہ کریں تو میڈیا کی اُس دور کی بے باکی اور بھی زیادہ نمایاں محسوس ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی - ڈھاکہ تعلقات کی پیچیدگیاں
ڈاکٹر سنگھ کے دور اقتدار میں شہری سماج ایک ایسی قوت بن کر ابھراجسے نظرانداز کرنا ممکن نہیں تھا۔ طلبہ کو پیلٹ گن یا اے کے ۴۷؍ کے خوف کے بغیر حکومت ہی نہیں وزیر اعظم تک کے خلاف احتجاج کی آزادی تھی۔ بطوروزیر اعظم انہوں نے پارلیمنٹ اور میڈیا کے سامنے خودکو ہمیشہ جوابدہ رکھا اور ۱۰۰؍ سے زیادہ ایسی پریس کانفرنسیں کیں جن کے سوال و جواب پہلے سے طے شدہ (اِسکرپٹیڈ) نہیں تھے۔ ہم تاریخی اور انقلابی نوعیت کے حامل ہند-امریکہ شہری نیوکلیائی معاہدہ کوبھول نہیں سکتے، جس نے ہندوستان کے خلاف کئی دہائیوں سے جاری جوہری امتیاز اور پابندی کو ختم کیا اور عالمی اسٹیج پر ہماری موجودگی کو درج کرایا۔ عالمی سطح پر ڈاکٹر سنگھ کی پزیرائی ہوتی اور انہیں عزت و احترام سے دیکھا جاتا تھا، انہوں نے کبھی اپنی کامیابیوں اور حصولیابیوں کا ڈھنڈورہ پیٹنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ہندوستان کی معاشی صلاحیت پر ان کا یقین، سماج کے آخری شخص تک انصاف پہنچانے کی ان کی خواہش اور جمہوریت پر ان کا پختہ یقین ہی ان کی حکومت کا بنیادی فلسفہ تھا۔ ڈاکٹر سنگھ کی مدبرانہ قیادت، علمی بصیرت اور بنیادی شرافت کی کمی آج کے کشیدہ دور میں شدت سے محسوس ہوتی ہے۔ تاہم بتدریج یہ مانا جارہاہے کہ ان کا دور ہندوستان کی تاریخ میں معاشی، سیاسی اور سماجی ترقی کا فیصلہ کن دور تھا۔ ہم کو یقیناً افسوس ہے کہ آج اس دن کو دیکھنے اور ملک کی رہنمائی کیلئے وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر یہ ہمارے لئے باعث اطمینان ہے کہ جنوری۲۰۱۴ء میں کی گئی ان کی ہر پیش گوئی وقت کے ساتھ صحیح ثابت ہورہی ہے۔ تاریخ یقیناً انہیں خاموش، نرم مزاج لیکن انتہائی مؤثر وزیر اعظم کے طور پر یاد رکھے گی۔ (بشکریہ انڈین ایکسپریس)(مضمون نگار کانگریس پارلیمانی پارٹی کی چیئر پرسن ہیں)