• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تربیتِ عقل، تہذیبِ قلب، ضبطِ روح اور تعلیم

Updated: October 23, 2026, 4:18 PM IST | shamim Tariq | Mumbai

ایک کالم قارئین کے اصرار پر: یہ صحیح ہے کہ ہندوستان میں اسکولی تعلیم کا نظام بہت وسیع ہے مگر یہ بھی صحیح ہے کہ اس وسیع تعلیمی نظام میں معیار سے صرفِ نظر کیا جا رہا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دو تین ہفتہ قبل اسی کالم میں ’’نظام تعلیم میں خرابی کی اصل وجہ‘‘ کے عنوان سے مَیں نے جو لکھا تھا وہ کثرت سے پڑھا گیا، خاص طور سے پیشۂ تدریس سے تعلق رکھنے والوں نے کئی فون کئے۔ مَیں ایک گمنام شخص ہوں اور جب کسی مضمون کے سلسلے میں چند فون آتے ہیں تو یہ احساس ابھرتا ہے کہ فون کرنے والوں نے فون نمبر حاصل کرنے میں کافی مشقت کی ہوگی اس لئے ان کے مشوروں اور جائز مطالبوں پر توجہ ضروری ہے۔ بیشتر نے خواہش ظاہر کی تھی کہ اس موضوع پر مزید مضامین لکھوں۔ لہٰذا چند بنیادی باتیں عرض ہیں:

ہندوستان بھر میں ایک کروڑ سے زائد اساتذہ اسکولی سطح پر طلبہ کی تعلیم و تدریس کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ابتدائی سطح پر اساتذہ اور طلبہ کا تناسب ۲۰ء۱، اپر پرائمری سطح پر ۱۷ء۱، سیکنڈری درجات میں ۱۵ء۱؍ اور ہائر سیکنڈری میں ۲۳ء۱؍ ہے۔ اسکولوں کی تعداد ۱۴ء۷۱؍ لاکھ ہے اور طلبہ یعنی تعلیم حاصل کرنے والوں کی تعداد ۲۴ء۶۹؍ کروڑ ہے۔ یہ اعداد و شمار حوصلہ شکن نہیں ہیں مگر تکلیف دہ یہ ہے کہ نیتی آیوگ کی رپورٹ کے مطابق ملک میں ایک لاکھ ۴۱۲۵؍ اسکول ایسے ہیں جہاں صرف ایک استاذ ہے اور ساری ذمہ داریاں وہی سنبھالتا ہے۔ اسی طرح ۷۹۹۳؍ اسکولوں میں طلبہ ہی نہیں ہیں۔ رپورٹ میں جو کچھ درج ہے اس کے مطابق ۱ء۱۹؍ لاکھ اسکولوں میں بجلی کام نہیں کر رہی ہے، ۵۹۸۲۹؍ اسکولوں میں ہاتھ دھونے کی مناسب سہولت نہیں ہے۔ ۶۱۵۴۰؍ اسکولوں میں بیت الخلاء تعمیر تو کئے گئے ہیں مگر قابل ِ استعمال نہیں ہیں، ۹۸۵۹۲؍ اسکولوں میں طالبات کیلئے محفوظ اور قابل ِ استعمال بیت الخلاء نہیں ہیں اور ۱۴۵۰۵؍ اسکول پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں۔ اس رپورٹ میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملک کے اسکولی نظام کا اعداد و شمار کی بنیاد پر جامع جائزہ ہے۔ اچھائی یہ ہے کہ اس رپورٹ میں تعلیمی نظام کی کئی اچھائیوں اور مضبوطیوں کو اجاگر کیا گیا ہے مگر کمزوریوں کی پردہ داری نہیں کی گئی ہے۔ اس موضوع کا مطالعہ کرنے والے بار بار لفظ Parakh پڑھتے ہیں جس کا مطلب ہے: Performance Assessment, Review, and Analysis of Knowledge for Holistic Development۔ یہ شعبہ یا ادارہ قومی تعلیمی پالیسی ۲۰۲۰ء کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ اس کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ طلبہ کی صلاحیتوں کی جانچ محض امتحانی نمبروں اور یادداشت کی بنیاد پر نہ کی جائے بلکہ اس بات کا اندازہ کیا جائے کہ وہ جو پڑھتے ہیں اس کو کس حد تک سمجھتے ہیں۔ نیتی آیوگ کی رپورٹ سے یہ اندازہ تو ہوتا ہے کہ زیادہ اسکول کھل گئے ہیں، زیادہ بچے اسکول جا رہے ہیں مگر یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ اسکولوں کی کیا حالت ہے اور بچے وہاں کیا پڑھ رہے ہیں حالانکہ رپورٹ میں چھپایا کچھ نہیں گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نام نہاد جنگ بندی فلسطینی آزادی کا متبادل نہیں

تعلیم محض اسکول کے کسی درجے میں پڑھایا جانے والا عمل نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے۔ بقول سلامت اللہ جس کیل پر سارا تعلیمی نظام گھومتا ہے وہ استاد کی ذات ہے۔ اس کے علاوہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ طلبہ کو کس اسکول میں کس درجے تک کیا پڑھایا جاتا ہے۔ پانچویں یا ساتویں، دسویں اور بارہویں کے بعد نئے اسکول میں داخل کئے جانے سے طلبہ کو نئے اساتذہ، نئے ماحول اور نئے نظم و نسق کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اس کیلئے تکلیف دہ ہوتا ہے۔ یہ مراحل شہروں میں تو کسی حد تک برداشت کر لئے جاتے ہیں مگر دیہی علاقوں، قبائلی بستیوں اور اقتصادی طور پر پسماندہ کہے جانے والوں کے محلوں میں طلبہ کے لئے ڈراپ آؤٹ یا اسکول چھوڑنے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ تسلیم کہ ہندوستان جیسے وسیع ملک کی جغرافیائی اور مالیاتی حقیقتیں اس کی اجازت نہیں دیتیں کہ بچہ ایک ہی اسکول میں شروع سے آخر تک پڑھ سکے مگر یہ دیکھنا اور سمجھنا تو ضروری ہے کہ اسکولی تعلیم طلبہ کے لئے آسان یا مشکل بنائی جا رہی ہے؟

یہ صحیح ہے کہ ہندوستان میں اسکولی تعلیم کا نظام بہت وسیع ہے مگر یہ بھی صحیح ہے کہ اس وسیع تعلیمی نظام میں معیار سے صرفِ نظر کیا جا رہا ہے یعنی بچے تو زیادہ تعداد میں اسکول جا رہے ہیں مگر یہ نہیں دیکھا جا رہا ہے کہ ان کو پڑھایا کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی مسائل ہیں جن کے حل کرنے کی جانب توجہ نہیں دی گئی ہے یا توجہ کارگر نہیں ہو ئی ہے۔ مثلاً لڑکیوں کے لئے بیت الخلاء۔ کیسے کیسے تکلیف دہ اور شرمسار کرنے والے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جن کی تفصیل روز ناموں کے ذریعہ عام ہوتی رہتی ہے۔

انفراسٹرکچر کی کمی اور خرابی کے علاوہ تعلیم کے معیار کا احتساب کیا جانا بہت ضروری ہے مثلاً پڑھنے میں مہارت کسی ایک مضمون کی نہیں پورے تعلیمی عمل کی بنیاد ہے۔ جو طالب علم ریاضی، سائنس یا سائنسی علوم کی کتابیں صحیح طریقے سے پڑھ نہ سکے وہ آگے کیا خاک پڑھے گا؟ آج تو یونیسکو، عالمی بینک اور یونیسیف سب کا اصرار ہے کہ ابتدائی جماعتوں میں پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے ہی اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل کی تعلیمی کامیابی کیا اور کتنی ہوگی۔ رپورٹ سے معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں پڑھنے کی صلاحیت رکھنے والے طلبہ یا جوڑ، تقسیم کرسکنے والے طلبہ کی شرح کم سے کم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈیجیٹل انڈیا میں سب کیلئے وائی فائی ضروری

سمجھا یہ جاتا ہے کہ سرکاری اسکولوں کے مقابلے پرائیویٹ اسکولوں کا معیار بہتر ہے مگر ہندوستان میں تعلیمی پالیسی اور تعلیم پر تحقیق کرنے والے غیر سرکاری ادارے سی ایس ایف یعنی سینٹرل اسکویئر فاؤنڈیشن کے مطابق ان اسکولوں کے طلبہ کی صلاحیت بھی اچھی نہیں ہے۔ ہندوستان کی تعلیمی پالیسی کے بنیاد گزار مولانا ابوالکلام آزاد تھے اور انہی کے منتخب کئے ہوئے لوگوں مثلاً ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن نے تعلیم میں عقل کی تربیت ہی نہیں قلب کی تہذیب اور روح کے ضبط کو بھی شامل کیا تھا مگر آج جو تعلیم دی جا رہی ہے وہ نہ تو عقل کی تربیت کرتی ہے نہ روح کو ضبط کرنا سکھاتی ہے۔ اس کو آنے والی نسلوں کے خوابوں کا آئینہ یا معاشرے کی تہذیبی اور فکری سمت کا اندازہ سمجھنا غلطی ہے۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ ایک غریب اور اوسط درجے کے خاندان کا بچہ کتنے روپے تعلیم پر خرچ کرسکتا ہے؟

مدارس اور اُردو یا دیگر میڈیم کے سرکاری اسکولوں کی ضرورت اسی لئے محسوس ہوتی ہےکہ یہاں بچوں یا طلبہ کے ڈراپ آؤٹ ہونے کے امکانات کم سے کم ہوتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ایسے خاندان کم ہیں جو ایک بچے پر ایک لاکھ سالانہ خرچ کرسکیں۔ سرکاری اسکولوں میں ضرورت ہے تو ماحول اور انگریزی دانی کو بہتر بنانے کی۔ ہمارے اساتذہ یہ کام کر رہے ہیں مگر یہ کام مزید باقاعدگی اور مستعدی چاہتا ہے۔ اس کے باوجود زبان اور ادب کے درمیان خلاء بڑھتا جا رہا ہے۔ کیوں؟

education Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK