• Wed, 07 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ اور چین کی تجارتی حریفائی اور عالمی غلبہ کی جنگ

Updated: January 04, 2026, 3:09 PM IST | Aakar Patel | mumbai

چین نے جس طرح مختلف چیلنجوں سے نمٹنے کی کوشش کی بالخصوص تجارت میں اپنی گرفت مضبوط کرنے کیلئے کوشاں رہا وہ اپنے آپ میں ایک اہم باب ہے۔

INN
آئی این این
نئے سال (۲۰۲۶ء) میں  جن دلچسپ معاملات کی توقع رکھنی چاہئے اُن میں  سے ایک، دُنیا کی دو عظیم طاقتو ں  کے درمیان رسہ کشی یا رقابت سے پیدا شدہ صورت ہوسکتی ہے۔ 
امریکہ کے عالمی غلبے کو سو سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ اسے یہ حیثیت پہلی جنگ عظیم کے بعد، گویا ۱۹۱۸ء سے اب تک حاصل رہی۔ مگر اب اس کا غلبہ اگر ختم نہیں  ہوا ہے تو ختم ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ۲۰۰۰ء میں  امریکہ عالمی تجارت پر حکمرانی کررہا تھا۔ آج یہ حیثیت چین کو حاصل ہوگئی ہے جو دُنیا کےے ۱۵۰؍ سے زائد ملکوں  کا تجارتی شراکت دار ہے اور یہ شراکت داری دُنیا میں  سب سے زیادہ یا سب سے بڑی ہے۔بہت سوں  کے خیال میں  کوئی دوسرا متبادل نہیں  ہے (کیونکہ) نیا بھارت بیجنگ سے مفاہمت میں  رد و کد کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے جبکہ چین سے اس کی یعنی درآمدات دُنیا کے کسی بھی ملک کی چین سے درآمدات سے زیادہ ہیں ۔ چین نے تجارتی تنازعات کو اپنے حق میں  استوار کرکے خود کیلئے بڑے فوائد حاصل کرلئے ہیں  جو کہ ربع صدی پہلے امریکہ تک حاصل نہیں  کرپایا تھا جب وہ کافی عروج پر تھا۔
آج عالم یہ ہے کہ چین روزانہ ۳؍ ارب ڈالر کی اضافی تجارت کرتا ہے۔ اضافی تجارت درآمدات پر برآمدات کی سبقت ہے۔ یہ حیرت انگیز ہے۔۲۰۲۵ء میں  اس کی مجموعی اضافی تجارت کا حجم ۱ء۱؍ کھرب ڈالر کا ہے۔ چونکہ اسی سرعت اور رفتار کے ساتھ درآمداتی و برآمداتی سلسلہ جاری ہے اس لئے نئے سال میں  مذکورہ حجم بڑھے گا، کم ہونے کا کوئی امکان دکھائی نہیں  دیتا۔ چین نے ۲۰۲۰ء میں  ۱۰؍ لاکھ کاریں  برآمد کیں  اور محض پانچ سال بعد (۲۰۲۵ء میں )   ۶۰؍ لاکھ کاریں ۔جیسے جیسے کار سازی تیز ہورہی ہے ویسے ویسے ان کا معیار بہتر ہورہا ہے اور ان کی قیمت کم ہورہی ہے۔ یہ اس بات کا اشاریہ ہے کہ عالمی سطح پر ان کاروں  کی مانگ میں  اضافہ طے ہے۔ 
قابل تجدید توانائی کے شعبے میں  ایسے آلات کی تیاری میں  جو شمسی توانائی اور ہوا کی توانائی کی پیداوار کا ذریعہ بنیں  چین کا کوئی مقابل نہیں  ہے۔ عالمی مارکیٹ میں  اس کی حصہ داری شمسی توانائی کے معاملے میں  ۸۵؍ فیصد اور ہوا کی توانائی کے معاملے میں  ۶۰؍ فیصد ہے۔ برقی موٹر گاڑیوں  کی بیٹری (الیکٹرک وہیکلس کی بیٹری) دُنیا بھر میں  جتنی تیار ہوتی ہے اُس کا ۷۰؍ فیصد اکیلا چین تیار کرتا ہے۔اسٹیل، الیومنیم اور سیمنٹ کی تیاری میں  بھی اس کی عالمی حصہ داری پچاس فیصد سے زیادہ ہے۔ عالمی سطح پر ڈرون سازی میں  بھی اسے سبقت حاصل ہے اور پوری دُنیا میں  جتنے ڈرون بنائے جاتے ہیں  اُن کا ایک چوتھائی صرف چین پروڈیوس کرتا ہے۔ اسی طرح دُنیا بھر میں  جتنے جہاز بنائے جاتے ہیں  اُن کا پچاس فیصد تنہا چین تیار کرتا ہے بالخصوص وہ جہاز جو کافی پیچیدہ ہیں  مثلاً ایل این جی ٹینکرس، کروز شپ، بڑے فوجی جہاز اور کنٹینر شپ جو دُنیا بھر میں  رسد کی فراہمی کا ذریعہ ہیں ۔
گزشتہ سال جنوری میں  دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد ٹرمپ  نے ٹیرف کے نام پر دنیا کو دھونس دینے کی کوشش کی۔ چین اکیلا کھڑا رہا اور کامیابی سے اس کے خلاف مزاحمت کی جس کے سبب ٹرمئپ کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ آج امریکہ کی دفاعی صنعت کو بیجنگ پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ میزائل اور جیٹ بنانے کیلئے اسے میگنیٹ اور دوسرا مٹیریل درکار ہے وہ چین ہی سے ملتا ہے۔ چند ہفتے قبل ٹرمپ نے  ’’نویدیا‘‘(Nvidia ) کی ہائی اینڈ چپس پر برآمدی کنٹرول میں  نرمی کی اس کے باوجود ژی جن پنگ نے کہا کہ چین انہیں  نہیں  خریدے گا اور خود بنائے گا، چاہے وہ ابھی کیلئے قدرے کم موثر ہوں ۔ پچھلے مہینے ایک رپورٹ آئی جس میں  واضح کیا گیا ہے کہ ہائی ٹیک انڈسٹری میں  صرف ایک سیکٹر ایسا رہ گیا تھا جس میں  چین نے اب تک پیش قدمی نہیں  کی تھی مگر اب کی ہے ۔ وہ چپ بنانے کیلئے لیتھوگرافی کا شعبہ ہے۔ اس سے کسی کو حیرت نہیں  ہوئی کیونکہ عام خیال ہے کہ اگر کوئی چیز مینوفیکچرنگ سے متعلق ہے تو وہ کتنی ہی پیچیدہ اور مشکل ہو، چین اسے تیار کرکے ہی دم لے گا۔
یہی فارمولہ کمرشیل ایئر کرافٹ پر منطبق کیا جاسکتا ہے۔ چھ ہائی سے زیادہ کے عرصے میں  یہ شعبہ بوئنگ کے معاملے میں  امریکہ اور ایئر بس کے معاملے میں  یورپ پر انحصار کرتا تھا۔مگر چین نے گزشتہ سال کمرشیل جیٹ بنالیا اور ۲۰۲۶ء میں  ان معنوں  میں  مزید پیش رفت کرے گاکہ جو اکا دکا آلات یا کل پرزے اُس نے بیرونی ملکوں  سے درآمد کئے ہیں  اُنہیں  بھی وہ خود بنانا شروع کردے گا۔ 
یاد رہنا چاہئے کہ ۲۰۱۸ء میں  چین نے تجارت (ٹریڈ) کے معاملے میں  سب سے پہلے جارحانہ رخ اختیار کیا تھا۔ اسے علم تھا کہ اس کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے۔ اس کے بعد سات سال تک اس نے خود کو تیار کیا۔ یہ محنت کسی اور ملک نے نہیں  کی۔ ان سات برسوں  کی محنت یا کدو کاوش کے سبب وہ کمربستہ تھا کہ اگر ٹریڈ کی جنگ چھڑی تو وہ پورا پڑ جائیگا۔ اس دوران بیجنگ نے خود انحصاری کے اپنے طرز عمل کو پہلے سے زیادہ مستحکم کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دُنیا اُس پر انحصار کرتی ہے وہ کسی بھی انحصار نہیں  کرتا۔ 
 
چین نے یہ کارنامہ امریکی طریق کار کے بالکل متضاد د طریقہ اپنا کر کیا۔ اس نے حکومت کا رول بڑھا دیا، کارپوریٹ کمپنیوں  کی دھاندلیوں  کو ختم کیا اور جدید ترین ٹیکنالوجی کو مسترد کرتے لہوئے دیسی ساخت کی تکنالوجی پر انحصار کرنا شروع کیا۔ اس نے بینکوں  کو ہدایت دی کہ وہ ریئل اسٹیٹ کو قرض دینا بند کریں  اور انڈسٹریز کو قرض دینے میں  فراخدلی کا مظاہرہ کریں ۔ اس طرح بیجنگ خود کو مضبوط کرتا رہا، اس نے خود کو پوری دُنیا کیلئے ایک چیلنج کے طور پر پیش کیا۔ عالمی غلبہ یا دُنیا کی سب سے غالب طاقت کے طور پر اس ملک کا اُبھرنا امریکہ کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے جس کی آبادی اب عمر رسیدہ ہوتی جارہی ہے اور اس کے صدر نے دُنیا پر اپنے دروازے بند کرنے کا سلسلہ شروع کردیا اور اس طرح آگے بڑھنے کے بجائے (امریکہ) پیچھے جارہا ہے۔ 
اب نئے سال میں  یہ دیکھنا دلچسپی کا باعث ہوگا کہ ہمارے عہد کی ان دو بڑی طاقتوں  کی حریفائی کیا رنگ لاتی ہے۔
china Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK