• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وے دن گئے کہ آنکھیں دریا سی بہتیاں تھیں

Updated: September 10, 2026, 3:21 PM IST | Professor Sarwar Ul Huda | Mumbai

سیلاب کو بھی زمین کا نوحہ کہا جائے یا اسے خشک موسم کا لازمی نتیجہ قرار دیا جائے جو بھی ہو انسانی آبادی متاثر ہوتی ہے اور ایک مشکل بھری زندگی پانی کے درمیان گزرتے گزرتے کبھی اتنی بھیگ جاتی ہے کہ پھر اسے خشکی کا انتظار بھی نہیں رہتا۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

بارش اور سیلاب کے اس موسم میں آنسوؤں کا خیال بہت فطری ہے  لیکن یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ اب سیلاب سے آنکھوں کی نمی ہے یا خشکی کا خیال آتا ہے۔ معلوم نہیں بارش کے اس موسم میں ہماری آنکھیں کتنی خشک ہیں۔ آنسوؤں کو کتنے لمبے سفر پر روانہ ہونا ہے یہ کون بتائے گا۔ آستین اور دامن کو بھی معلوم نہیں کہ کتنے دریا اس کی آغوش میں خشک ہو گئے۔ لیکن دنیا نے دیکھا کہ سیلاب سب کچھ بہا لے گیا۔

یہ بھی پڑھئے:ابو سالم کی ۲۵؍ سالہ قید مکمل ہونے کا دعویٰ، سپریم کورٹ نے رہائی کی اپیل رد کردی

پچھلے ہفتے کے کالم میں میں نے اس جانب اشارہ کیا تھا۔ اب جو کچھ سوچ کر لکھنے بیٹھا ہوں تو ذہن بار بار خشکی سے تری کی طرف منتقل ہو رہا ہے۔ ابھی بھی ہماری انکھیں اشکبار ہیں اور خشک بھی ہیں۔ خشکی کا سبب یہ خیال ہے کہ قدرت پر کسی کا اختیار نہیں۔ حالات کا مقابلہ کرنا ہمارا مقدر ہے۔ یہ بات بہت اچھی لگتی ہے۔ مگر اس ذہن سے سوچئے جو سیلاب کی زد میں آ کر منتشر ہوا ہو اور جس کی نظر میں صرف ڈوبنے کا منظر ہو۔ کشتی پر سوار ہونے والے پار اترنے کے لئے کوئی منصوبہ نہیں بناتے۔ انہیں لگتا ہے کہ کشتی دھیرے دھیرے کنارے کو لگے گی۔ اسی درمیان ایک لہر اٹھتی ہے اور کشتی کو کچھ اس طرح ہلا دیتی ہے کہ جیسے زندگی اسی ہچکولے کا نام ہے۔ چنانچہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں سیلاب کا پانی کشتیوں کے ساتھ کچھ اسی طرح کا سلوک کرتا رہا ہے۔ گلزار نے ’’یہ کاغذ کی کشتی یہ بارش کا پانی‘‘ لکھ کر گزرے ہوئے وقت کو کتنا خوبصورت بنا دیا تھا۔ جو بارش سیلاب کے پانی کو اور بڑھا دیتی ہے وہ اس بارش سے مختلف ہے جو گلزار کے یہاں ہے اور گزری ہوئی زندگی جسے بچپن کا نام دینا چاہئے ، سے بہت مختلف ہے۔ ایک وہ ساون ہے جو آنکھوں سے کبھی رخصت نہیں ہوتا۔ عام آدمی کی انکھیں خاص آدمی کی آنکھوں سے کتنی الگ اور کتنی مماثل دکھائی دیتی ہیں۔ یہ وحدت اور تضاد خود اس بات کا اشاریہ ہے کہ زندگی ایک ہی وقت میں کتنے رنگوں کا مجموعہ ہے۔ میر ؔکا شعر ہے

وے دن گئے کہ آنکھیں دریا سی بہتیاں تھیں

سوکھا پڑا ہے اب تو مدت سے یہ دوآبہ

ایک موقع پر کسی نے اس شعر کو پڑھتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ میرؔ کے زمانے میں بارش کم ہوا کرتی تھی۔ یہ سن کر بہت حیرت بھی ہوئی ہے اور ان صاحب پر کچھ غصہ آیا لیکن افسوس زیادہ ہوا۔ انہیں بارش کے موسم کا خیال آیا اور یہ خیال نہیں آیا کہ ایک موسم اور بھی ہے جو ہمارے وجود کے اندر ہے۔ یہ موضوع ہماری انسانی اور تہذیبی اقدار کا ہے کہ اب بڑا سے بڑا حادثہ ہو جائے مگر ہم ہیں کہ اپنے حال پر  خوش رہتے ہیں۔ دنیا پر چاہے جیسی قیامت گزر جائے آنکھیں بدستور بے حسی کے ساتھ دیکھتی رہتی ہیں اور نم نہیں ہوتیں۔ زمین کے جس خطے پر بمباری ہوتی ہے وہاں کا موسم بارش کے پانی سے بھیگتا نہیں بلکہ اسے انسانی لہو کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:’’بشیر پروازؔ کے مکالمے آج بھی اسٹیج پر گونج رہے ہیں‘‘

اب خبر آ رہی ہے کہ پانی اترنے لگا ہے لیکن کیچڑ ہے کہ جس میں پاؤں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ سیلاب کا پانی نکلنے کے بعد وہاں کی مٹی پجاؤ ہو جاتی ہے۔ اسے پڑھ کر اچھا تو لگتا ہے خاص طور پر اس علاقے کے لئے جہاں انسانی آبادی نہیں تھی۔ جہاں انسانی آبادی ہے وہاں سے سیلاب کے پانی کا اترنا اور پھر وہاں کی مٹی کا زرخیز ہو جانا ، یہ بیان وجود کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ جب انکھیں دریا کی طرح بہہ رہی تھی تو ہماری آنکھوں میں ایک شرم بھی تھی، حیا بھی تھی اور احساس بھی۔ دو آبہ زمین کا وہ حصہ ہے جو دو دریا کے درمیان کا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاں کہیں بھی دو دریاؤں کے درمیان ایسی زمین ہوگی اسے دوآبہ کہا جا سکتا ہے۔ دوآبہ  ہماری آنکھوں کے اندر بھی موجود ہے۔ کبھی یہاں کی زمین سے اس زمین کا سراغ ملتا ہے جسے دریائے جمنا یا دریائے گنگا کے درمیان کی زمین کہتے ہیں۔ فطرت نے ہمیں کیا کچھ نہیں سکھایا اور ایک فطرت وہ بھی تو ہے جو اندر ہی اندر خراب ہو کر نیچر کو پامال کرتی جاتی ہے۔ 

سال کے یہ چند ہفتے اور دن ساحلی علاقوں کیلئے بہت مشکل میں ہوتے ہیں۔ خشک موسم اور خشک زمین کا انتظار گویا خود اپنی واپسی کا انتظار ہے۔ مگر خشک زمین پر چلتے ہوئے ہمارے پاؤں کتنے مغرور ہو جاتے ہیں۔ خشک زمین کا نوحہ اور دکھ گیلی زمین سے کچھ زیادہ دیر پا اور مشکل ہے۔ سیلاب کو بھی زمین کا نوحہ کہا جائے یا اسے خشک موسم کا لازمی نتیجہ قرار دیا جائے۔ جو بھی ہو انسانی آبادی متاثر ہوتی ہے اور ایک مشکل بھری زندگی پانی کے درمیان گزرتے گزرتے کبھی اتنی بھیگ جاتی ہے کہ پھر اسے خشکی کا انتظار بھی نہیں رہتا۔ بھیگا ہوا موسم ایک رومانٹک موسم ہے مگر یہی موسم ہمیں اداس بھی کر دیتا ہے۔ سیلاب کے موسم کو بھیگا ہوا موسم تو نہیں کہا جا سکتا۔ زمین کا دکھ جب انسانی دکھ کی طرح  ہی محسوس کیا جانے لگے تو سمجھئے کہ فطرت بھی مہربان ہو جائے گی۔ مشکل یہ ہے کہ زمین کا دکھ زمین پر رہتے ہوئے ہمارا دکھ نہیں بن پاتا۔ زمین کا سینہ چاک کر کے پھل پھول اگانے والے بھی محسوس کرتے ہیں کہ زمین کے ساتھ کچھ زیادتی ہوئی ہے لیکن یہ زیادتی آنکھوں میں خواب کو جگا دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:الگورتھم۶۶۶

سیلاب کے خوفناک مناظر کو دیکھنا فلم دیکھنا تو نہیں ہے۔  سیلاب کو فلمی روپ دینا اقتصادی اعتبار سے بہت مہنگا ہے اور ڈر اس بات کا ہے کہ اس سے دیکھنے والوں کے جذبات مزید بھڑک نہ اٹھیں۔ ۱۹۵۶ء  میں سیلاب کے نام سے گرودت کی نگرانی میں جو فلم بنی اس کا تعلق سیلاب کی تباہ کاریوں سے نہیں تھا، ایک ڈاکٹر کی یادداشت کے کھو جانے کی کہانی تھی جو محبت کے ارد گرد گھومتی ہے مگر وہ ۱۹۵۶ء تھا۔ تب کے اور آج کے حالات میںزمین آسمان کا فرق ہے۔ آج کے دور میں (۲۰۱۸ء  میں) کیدار ناتھ کے نام سے جو فلم بنی اس کا سیاق اتراکھنڈ کا وہ سیلاب ہے جو ۲۰۱۳ء  میں آیا تھا۔ اس میں سوشانت سنگھ راجپوت اور سارہ علی خان کی خاص کردار نگاری ہے۔ پھر بھی سیلاب ہماری سماجی اور تہذیبی زندگی کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ اور یہ مسئلہ سیلاب کے پانی کے ساتھ رخصت ہوتے ہی اگلے برس تک کے لئے حل سمجھا جاتا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ طفل تسلی ہے جو ہم خود کو دیتے ہیں کیونکہ ’’حل‘‘ تو کچھ بھی نہیں ہوتا  اور پھر دوسرا برس آ جاتا ہے اسی سیلاب کے ساتھ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK