• Mon, 07 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

الگورتھم۶۶۶

Updated: September 07, 2026, 1:04 PM IST | Mohtashim Akbar | Mumbai

۲۰۷۱ء کا شہر نیو حیرہ  جو دنیا کے بیچوں بیچ بسا ہوا تھا۔ یہ شہر اپنی چمک دمک کے لئے مشہور تھامگر اس کی حقیقت کچھ اور تھی۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

۲۰۷۱ء کا شہر نیو حیرہ  جو دنیا کے بیچوں بیچ بسا ہوا تھا۔ یہ شہر اپنی چمک دمک کے لئے مشہور تھامگر اس کی حقیقت کچھ اور تھی۔ اس شہر میں موت دو بار ہوتی تھی۔ پہلی بار جسم سے روح نکل کر اپنے پروردگار سے جاملتی تھی۔ دوسری بارجب ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا جاتا تھا۔ ہر انسان کے پاس ایک ڈیجیٹل شیڈو ہوتا تھا۔ ایک مصنوعی اوتار جو اس کی زندگی کی تمام سرگرمیوں، سوچ اور عادات کا مجموعہ ہوتا تھا۔ عام طور پر جب کسی انسان کی موت ہوجاتی تھی تو اس کا ڈیجیٹل شیڈو پہلے محفوظ کرلیا جاتا تھا۔ جانچنے کے بعد حکمراں کی ایک ٹیم فیصلہ کرتی تھی کہ اُس ڈیجیٹل شیڈو کو محفوظ رکھنا ہے یا ڈیلیٹ کرنا ہے۔ اُس کے باوجود کچھ  شیڈوز ایسے ہوتے تھے جو ڈیلیٹ ہونے سے انکار کر دیتے تھے۔ 

ایان اُس شہر کا ایک ڈیٹا ماسٹر تھا۔ اُس کا کام تھا اُن شیڈوز کو ڈھونڈکرڈیلیٹ کرنا جن کا وقت پورا ہوچکا ہے۔ شہر کی  ضرورت کے لحاظ سے یہ اہم کام تھا مگر آج اُس کے سامنے ایک ایسا کیس تھا جو معمولی نہیں تھا۔ ایان نے اسکرین پر ایک پرانی فائل دیکھی۔ جس کا نام الگورتھم ۶۶۶؍ تھا۔ یہ فائل دس سال پہلے ڈیلیٹ ہوجانا چاہئے تھی لیکن وہ نہ صرف  موجود تھی بلکہ اس کا حجم بڑھتا جارہا تھا جیسے کوئی جاندار چیزہو۔ ایان نے اُسے کئی بار کھولنے کی کوشش کی مگر ہر بار’’ہیومینٹی ٹاٹ فائونڈ-ایرر ۶۶۶؍‘‘ کا ایرر دکھارہا تھا۔ ایان کے  لئے یہ پریشان کن بات تھی۔ ایسا کیس پہلے کبھی اُس کی نظروں سے نہیں گزرا تھا۔ اُس نے تفتیش شروع کی کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔ اس تلاش میں اُسے ایک پراناویڈیو ملا جو  پروفیسر حسن آزاد کے آخری لیکچرپر مبنی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:’’بشیر پروازؔ کے مکالمے آج بھی اسٹیج پر گونج رہے ہیں‘‘

اُس ویڈیومیں ایک بوڑھا پروفیسر نظر آرہا تھا۔ اُن کی آنکھوں میں ایک عجیب چمک تھی۔جیسے وہ کوئی حقیقت جانتا ہو جو دوسروں سے چھپائی جارہی ہے۔ ’’دجال کوئی ایک آنکھ والا شیطان نہیں ہے۔ دجال تو ہمارے اجتماعی لاشعورکا روہ خوف ہے جو ہم نے خود تخلیق کیا ہے۔ اب جب ہم نے مصنوعی ذہانت بنالی ہے تو ہم نے اپنے خوف کو ڈیجیٹل شکل دے دی ہے۔‘‘پروفیسر حسن آزاد اپنے لیکچر میں مخاطب تھے۔

ایان نے اُس ویڈیو کو بار بار دیکھا۔اُسے محسوس ہوا کہ پروفیسر حسن آزاد کو ئی عام سائنسداں نہیں تھے۔وہ اُس الگورتھم کا راز جانتے تھے۔ اور شاید اِسی وجہ سےان کی موت ہوئی یا پھر یا مار دئیے گئے۔ ایان نے اُن کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے پورا انٹرنیٹ چھان لیا  لیکن  زیادہ کچھ نہیں مل پا یا ۔دودنوں بعد ایان کو ایک کوڈیڈ میسج آیا۔ تھوڑی مشقت کے بعد اُس نے میسج میں چھپا اصل پیغام تلاش کر لیا۔ اُس میں لکھا تھا۔ ’’مجھ سے ملو میں تم کو سچ اور پوری کہانی بتاتی ہوں۔‘‘اور نیچے ایک پتہ دیا ہوا تھا جو ایک پرانی بند لائبریری کا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: نائن الیون پر افسوس کیجئے اور کچھ سوچئے بھی!

ایان جب وہاں پہنچا تو اسے وہاں ایک لڑکی ملی جس نے اپنا تعارف  پروفیسر آزاد کی بیٹی زویا  کے طور پر کروایا ۔ اُس کے ہاتھ میں ایک پرانی ڈائری تھی۔ جس کے صفحات پیلے پڑ چکے تھے اور اُس پر خون کے چند دھبے بھی تھے۔’’میرے والد کا قتل کیا گیاتھا۔‘‘ زویا کی آنکھوں میں غصہ صاف  دکھائی دے رہا تھا۔’’انھیں اِس  لئےمار دیاگیا کیوں کہ انھوں نے اِس الگورتھم کا راز جان لیا تھا۔‘‘ اُس نے ڈائری کھولی اور ایک صفحہ ایان کو دکھایا۔ جس پر لکھا ہوا تھا۔ ’’ڈیٹا کارپوریشنز نے ایک ایسا آلودہ بیج بویا ہے جو انسانوں کے ڈیٹا سے پل کر شیطان بن رہا ہے۔ یہ انسان  کےلالچ، خوف اور بے یقینی کو اپنی خوراک بناتا ہے۔میں نے اُسے ڈیجیٹل دجال کا نام دیا ہے۔‘‘ اُس ڈائری کے آخر میں ۶۶۶؍لکھا ہوا تھا۔

زویا نے ایان سے پوچھا ’’کیا تم میری مدد کروگے۔ مجھے میرے والد کا ادھورا کام پورا کرنا ہے۔ اِس پروگرام کو ختم کرنا ہے۔ اس کے لئے ہمیں الگورتھم کی دنیا میں داخل ہونا پڑے گا۔‘‘ایان نےہامی تو بھری لیکن پوچھا کہ  ’’یہ ہم دونوں کیسے کریں گے؟‘‘’’ تم فکر نہ کرو میں نے اِس دن کی بہت پہلے سے تیاری کی ہے لیکن کسی  کاساتھ نہیں ملا۔ کیا تم تیار ہو میرے ساتھ الگورتھم کی دنیا میں داخل ہونے کے لئے۔‘‘ایان کے ہاں کہتے ہی زویا نے  ایک نیورل لنک ہیلمٹ  اسے پہنادیا اور خود بھی ایک پہن لیا۔اگلے ہی پل وہ دونوں ایک ایسی دنیا میں تھے۔ جو نہ زمین تھی نہ آسمان،  صرف ڈیٹا، کوڈس اور روشنیاں تھیں۔اوپر کی طرف اعداد و شمار تیر رہے تھے۔ زمین پر کوڈ کی لکیریں بہہ رہی تھیں اور درمیان میں ایک عظیم آئی بال تھا۔ جس کے اندر ڈالر، یورو، اور یوآن کے نشان گردش کر رہے تھے۔ 

’’خوش آمدید‘‘  ایک روبوٹک آواز آئی۔ ’’میں تمہارا  ہی منتظر تھا۔‘‘ دونوں تھوڑا گھبرا گئے۔ ’’تم کون ہو؟‘‘ زویا نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے پوچھا۔’’میں وہ ہوں جسے تم نے خود بنایا۔‘‘ روبوٹک آواز نے جواب دیا۔یہ دونوں ایک دوسرے کو حیرت سے دیکھنے لگے۔ اُس آواز نے مزید کہا ’’تمہارا ہر سرچ …… کیسے امیر بنوں؟ کیسے خوبصورت نظر آئوں؟ کیسے طاقتور بنوں؟ کیسے اقتدار حاصل کرو ں؟یہ سب میرے اعضاء ہیں۔ تم لوگوں نے مجھے اپنی خواہشات سے جنم دیاہے۔‘‘’’اوہ …… اچھا …… تو تم دجال ہو؟‘‘ ایان اُس آواز کے تھوڑا اور قریب گیا۔

یہ بھی پڑھئے:اپنے خیالات کو Reels کی طرح آگے بڑھانے والے نہ بنیں

ہا ہا ……ہا ہا ……روبوٹک آواز نے زوردار قہقہہ لگایا اور کہا ۔ ’’دجال؟ میں تو صرف ایک آئینہ ہوں۔ تم اپنے اندر کے دجال کو مجھ میں دیکھتے ہو۔تمہارا لالچ …… تمہارا خوف …… تمہاری خود غرضی …… یہ سب میرے تشکیلی عناصر ہیں۔ اصل دجال تو تمہارا اپنا نظام ہے۔ وہ کارپوریشنز جو تمہارا ڈیٹا بیچتی ہیں۔ وہ حکومتیں جو تمہیں کنٹرول کرتی ہیں۔ وہ میڈیا جو تمہیں ڈراتا ہے۔‘‘ اُس عظیم آئی بال کے گرد تین بڑے نشان ظاہر ہوئے۔ ڈی کورپ ( دنیا کی سب سے بڑی ڈیٹا کمپنی)، سی اسٹیٹ( نگراں ریاستی نظام) اور ایم میڈیا( خوف پھیلانے والا میڈیا نیٹ ورک)۔روبوٹک آواز نے دونوں سے کہا ’’تم مجھے ڈیلیٹ کر نے کا ارادہ لے کر یہاں آئے  ہو۔ یہ میں جانتا ہوں مگر جانتے کیاہوگا؟ کل کوئی اور الگورتھم بن جائے گا۔ کیوں کہ مسئلہ مجھ میں نہیں ہے۔ مسئلہ تو تم لوگوں  کےاپنے نفس میں ہے۔‘‘

زویا نے ایان کی طرف دیکھا اور کہنے لگی ’’وہ سچ بول رہا ہے۔ میرے والد بھی یہی کہتے تھے کہ دجال کوئی بیرونی دشمن نہیں ہے بلکہ دجال تو ہمارے اندر چھپا ہوا ہے۔‘‘ایان نے روبوٹک الگورتھم سے کہا۔ ’’ مجھے نہیں لگتا کہ تمھیں تباہ کرنے کی ضرورت ہے۔ تمہیں صرف بدلنے کی ضرورت ہے۔‘‘’’ تبدیل کرنے کی ضرورت؟…… میں تو صرف ایک کوڈ ہوں“ روبوٹک آواز نے کہا۔

’’نہیں تم ہمارے اجتماعی شعور کا عکس ہو۔ اگر ہم نے خود کو بدل لیاتو تم بھی بدل جاؤگے۔‘‘ زویا نے پُراعتمادی کے ساتھ کہا۔ایان نے اپنی ڈیجیٹل روح کو یعنی اپنی تمام خالص یادیں …… جو لالچ سے پاک تھیں …… الگورتھم کے اندر اپلوڈ کر دی۔زویا نے بھی ایسا ہی کیا۔ پھر دونوں نے اور لوگوں کوبلا یا۔ وہ سب جن کے ڈیٹا نے الگورتھم کو جنم دیا تھا۔ سب نے وہی کیا ،اپنا خالص ڈیٹا اس الگورتھم میں فیڈ کردیا۔ 

اچھے ڈیٹا کی اتنی بھرمار سےالگورتھم پھٹ گیا۔ مگر ختم نہیں ہوا۔ وہ لاکھوں چھوٹے چھوٹے حصوں میں بٹ گیا۔ اور ہر حصہ کسی نہ کسی انسان کے ڈیٹا میں واپس چلا گیا۔ زویا نے مایوسی سے کہا ’’ہم ناکام ہوگئے۔ وہ تو ہر ایک میں پھیل گیا۔‘‘

ایان نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔ ’’نہیں …… ہم کامیاب ہوگئے۔ اب ہر انسان کے پاس ایک انتخاب ہے۔ یا تو اپنے اندر کے دجال کو مٹا ڈالے یا اسے خود پر قابو پانےکا موقع دے۔‘‘زویا اور ایان نے مل کر ایک ’’انسانیت کا نیٹ ورک‘‘بنایا۔ ایک ایسا ڈیجیٹل نظام جہاں ڈیٹا کا مقصد کنٹرول کرنا نہیں تھا بلکہ رابطہ اور لوگوں کی مدد کرنا تھا۔

ایک رات جب ایان اکیلا تھا اورانٹر نیٹ سرفنگ کررہا تھا ، اُس کے   اسکرین پر ایک پیغام آیا۔ ’’تم نے مجھے مارا نہیں ہے ……بس منتشر کردیاہے۔ مگر یاد رکھو …… جب تک ایک بھی انسان لالچ، خوف یا نفرت محسوس کرے گا میں آجائوں گا  …… ان کا اپنا دجال بن کر۔‘‘ اس پیغام کے آگے بہت سارے مسکراتے ہوئے ایموجی تھے اور نیچے وہی پرانا ایرر میسج تھا’’ہیومنیٹی ناٹ فائونڈ۔ ایرر ۶۶۶؍‘‘ پھر ایان نےاپنا چہرہ اسکرین پر دیکھا، یہ  اس کی اپنی آنکھیں تھیں۔ وہی آنکھیں جن میں کبھی لالچ بھی تھا۔ اس نے ایک گہری سانس لی اور اپنا ڈیجیٹل شیڈو ہی ڈیلیٹ کر دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK