Inquilab Logo Happiest Places to Work

آر ایس ایس کے بنیادی مقاصد آخر کیا ہیں؟

Updated: June 29, 2025, 2:00 PM IST | Aakar Patel | Mumbai

جن سنگھ سے آر ایس ایس اور آر ایس ایس سے بی جے پی کی تشکیل کا سفر اور اس سفر کےد وران ہونے وا لے واقعات پر غور کیاجائےتوکئی اہم باتیں سامنے آسکتی ہیں!

Photo: INN
تصویر:آئی این این

ہم نے کچھ دن پہلے ایمرجنسی کی۵۰؍ ویں  سالگرہ منائی ۔ اس سے پہلے ایک واقعہ کی ۷۵؍ ویں  سالگرہ گزر گئی جس پر زیادہ توجہ نہیں  دی گئی ۔ اس کا تعلق بھارتیہ جن سنگھ کی تشکیل اور اس کے وجود میں  آنے  کے اسباب سے ہے۔۵؍مئی ۱۹۵۰ء کو شیاما پرساد( ایس پی) مکھرجی نے پارٹی کی تشکیل کے ایجنڈے کا اعلان کیا جو۸؍ نکاتی پروگرام پرمبنی تھا ۔ وہ نکات یہ تھے:۱) متحدہ ہندوستان،۲)پاکستان کے لیے خوشامد کی بجائے باہمی تعاون کی پالیسی ،۳) ایک آزاد خارجہ پالیسی،۴)مہاجرین کی بحالی ،۵)مصنوعات کی پیداوار میں  اضافہ اور صنعتوں  کی غیر مرکزی کاری،۶) ہندوستانی ثقافت کا فروغ،۷)  تمام شہریوں  کو مساوی حقوق اور پسماندہ طبقات کی بہتری،۸)  مغربی بنگال اور بہار کی سرحدوں  کی اصلاح۔
 ایس پی مکھرجی کا تعلق ہندو مہاسبھا سے تھا جبکہ جن سنگھ کا ڈھانچہ اور سانچہ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) سے نکلا تھا مگر آج بلاشبہ کہا جاسکتا ہے اب جو پارٹی ہے اس کی حیثیت انہی سرپرست اداروں  کی ذیلی تنظیم کی ہے ! کہانی دلچسپ ہے۔ چند سال قبل بی جے پی کے ذریعہ شائع کردہ جن سنگھ کی سرکاری تاریخ میں  اس کی ـوضاحت کی گئی ہے ۔ دسمبر ۱۹۴۷ء میں  دہلی میں  آر ایس ایس کی ایک ریلی  ہوئی تھی جس میں  بڑے مجمع نے شرکت کی تھی۔ اس ریلی نے ہندوشہزادوں  ، کاروباری شخصیات اور دیگر ہندو تنظیموں  کے لیڈروں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا تھا ۔ اس مقبولیت نے اس وقت کانگریس اور خاص طور پر نہرو کو، آر ایس ایس کے تعلق سےپریشان کر دیا تھا ۔۳۰؍ جنوری۱۹۴۸ء کو مہاتما گاندھی کے قتل نے کانگریس کو آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا۔ اس نے گاندھی کے قتل کے تین دن بعد۲؍ فروری کو آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔ آر ایس ایس کے سربراہ گولوالکر نے محسوس کیا تھا کہ گاندھی کے قتل کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد آر ایس ایس مشکل میں  پڑ جائے گی۔ انہوں  نے فوراً  اقدام کیا۔ جس دن گاندھی کا قتل ہوا ، اسی دن انہوں  نے آر ایس ایس کی شاخوں  کو ایک ٹیلی گرام پیغام بھیجا اور۱۳؍ دنوں  کیلئے آپریشن معطل کرنے کی ہدایت دی ۔ اسی دن انہوں  نے نہرو، پٹیل اور دیوداس گاندھی کو بھیجے گئے تعزیتی پیغام میں  کہا ’’اس ظالمانہ مہلک حملے اور عظیم شخصیت کو اس طرح کھودینے پر پر صدمے میں  ہوں ۔‘‘ اگلے دن انہوں  نے دوبارہ نہرو کو خط لکھا اور اپنے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے گوڈسے پرتنقید کی اور مہاتما گاندھی جیسی شخصیت پر گولی چلانےپراسے گمراہ قر ارد یانیز اس قتل کو ناقابل معافی گناہ قراردیا ۔ اسی دن انہوں  نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو بھی ارسال کردہ ایک پیغام میں  کہا ’’میرا دل شدید اذیت سے دوچار ہے۔ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے شخص کی مذمت کے لیے الفاظ تلاش کرنا مشکل ہے۔‘‘
  بعد ازاں  آر ایس ایس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے حکومتی نوٹیفکیشن میں  کہا گیا ’ ’آر ایس ایس کے دعوے کے مطابق اس کا مقصد ہندوؤں  کی جسمانی، فکری اور اخلاقی بہبود کو فروغ دینا اور ان  کے درمیان بھائی چارے، محبت اور خدمت کے جذبات کو پروان چڑھانا ہے... تاہم حکومت کے علم اور مشاہدہ میں  افسوس کے ساتھ  یہ بات آئی ہےکہ آر ایس ایس کے کارکنان عملی طورپر اپنے ان اصولوں  سے وابستہ نہیں رہ گئے ہیں  ۔ سنگھ کے اراکین کے ذریعے ناقابل قبول بلکہ خطرناک سرگرمیاں  انجام دی جارہی ہیں ۔وہ تشدد ، آتشزنی ، لوٹ مار اور قتل کی وارداتوں  میں ملوث ہورہے ہیں  اور انہوں  نے غیر قانونی طورپر گولہ بارود اور ہتھیار جمع کرررکھے ہیں ۔  دیکھا گیا ہےکہ انہو ں  نے عوام کو تشدد اور دہشت گردانہ طریقوں  پر اُکسانے کیلئے کتابچے بھی تقسیم کئے ہیں  ۔ (ان سرگرمیوں  کے پیش نظر)حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہےکہ  وہ آر ایس ایس کے خلاف اپنی انتظامی صلاحیتوں  کے مطابق اقدام کرے(اور اس سے نپٹے) ۔‘‘ 
 اس کے بعد گولوالکر کو۳؍ فروری۲۰؍ ہزار سویم سیوکوں  کے ساتھ گرفتار کرلیا گیا تھا۔ آر ایس ایس کا کہنا ہے کہ اسے افسوس ہوا تھا کہ (اس وقت) کسی سیاسی پارٹی کے کسی لیڈر نے اس کے حق میں  کچھ نہیں کہا اور اس کے دفاع میں  کھڑا نہیں  ہوا۔ یہ پابندی کم وبیش ڈیڑھ سال رہی ۔
  آر ایس ایس کو آئین بنانے کی ہدایت دینے کے بعد اس پرعائد پابندی ہٹا دی گئی تھی ۔ آر ایس ایس نے آئین تحریری طورپر پیش بھی کردیا تھااور۱۱؍ جولائی ۱۹۴۹ء کوپابندی ہٹا دی گئی تھی۔
 اس کے فوراً بعد، آر ایس ایس نے اپنے ترجمان اخبار’ دی آرگنائزر‘ میں  سیاست میں  داخل ہونے پر بحث شروع کردی۔ اخبار نے آر ایس ایس کارکنوں  کے مضامین شائع کیے۔ مثال کے طورپر کے آر ملکانی جنہوں  نے لکھا کہ سنگھ کو نہ صرف اپنے تحفظ وبقا کیلئے     بلکہ `غیربھارتی اور بھارت مخالف سیاست اورسیاسی رجحان پر قدغن لگانے اور `ریاستی مشینری کے ذریعے ہندوستانیت کے مقصد کو آگے بڑھانے کیلئے سیاست میں  حصہ لینا چاہئے۔‘
  اس مقصد کو حاصل کرنے کیلئے آر ایس ایس کو چاہئے کہ وہ ایک آشرم کے طورپرکام کرے جس کا ہر شہری حصہ بن سکے لیکن اسے اپنے نظریات کی زیادہ موثرتشہیر اور (ان کی) جلد کامیابی کیلئے ایک سیاسی ونگ تیار کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ملکانی نے کہا کہ نئی پارٹی `قدیم اقدار کا احیاء کرے گی ، اس کی نظر مستقبل پر ہوگی  اور اس کے کارکنوں  سے کہا جائے گا کہ `غیر ملکی اقدار، رویے اور طور طریقوں  پر انحصار نہ کیاجائے کیونکہ ہندوستان میں اس جماعت  کی از سرنوتنظیم کا مقصدصرف ہندوتوا ہی ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے : کردار کو ملی ہے کہانی سے زندگی

  آریہ سماج سے تعلق رکھنے والے آر ایس ایس کے کارکن بلراج مادھوک نے لکھا کہ سنگھ کو ’ملک کے سیاسی اور اقتصادی مسائل کے سلسلے میں  ملک کی قیادت کرنی چاہیے‘، کیونکہ یہ ’خود سنگھ کے وجود کے لیے ضروری تھا‘۔مکھرجی نے ۱۹؍ اپریل ۱۹۵۰ء کو پارلیمنٹ میں  اپنے بیان میں  کہا کہ انہوں  نے ` بنگال کی تقسیم کے حق میں  رائے عامہ ہموار کرنے میں  بہت بڑا کردار ادا کیا۔ اس کے ایک حصے کے طور پر انہوں  نے مشرقی بنگال (بعد میں  بنگلہ دیش) کے ہندوؤں  کو یہ یقین دہانی کرائی کہ اگر انہیں  مستقبل میں  پاکستان کی حکومت کے ہاتھوں  نقصان اٹھانا پڑاتو’’آزاد ہندوستان بیٹھ کر تماشانہیں  دیکھے گا۔
  جیسا کہ ہم پڑھتے اور اندازہ لگاتے ہیں  کہ ۲۰۲۵ء کے ہندوستان میں  ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔ان واقعات کو۷۵؍ سال پہلے کے منشور سے دیکھا جائے تو یہ نہ صرف سبق آموز ہوگا  بلکہ پھر وہ ساری وجوہات بھی سامنے آجائیں  گی جو بعد میں بی جےپی کی تشکیل کی بنیاد بنیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK